پاکستان کی ترقی میں نون اسٹیٹ لوگوں کا کردار ۔شبیر احمد خورشید

0
317

پاکستان جیسے جیسے ترقی کی منازل طے کر رہا ہے اقتدار کے بھوکوں کی بھوک میں شدت سے اضافہ ہو رہا ہے۔یہ نون اسٹیٹ ایکٹرزایسے سیاست دانوں سے خائف ہیں جو مستقبل کی سیاست میں ان کے راستوں کی رکاوٹ ثابت ہوں گے ۔اقتدار کے بھوکے اس ٹولے کے لوگ ایسے نامور سیاسی رہنماؤں کو نشانے پر لئے ہوئے ہیں جو ان کے مقاصد کی راہ کے سب سے بڑے بیریئر ہیں۔ان عناصر نے چیئر مین سینٹ رضا رابانی، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق،جمیعت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان،اپوزیشن لیڈر سید خورشید علی شاہ،اور چوہدری اعتزاز احسن سمیت کئی دیگررہنماؤں کے جعلی اکاؤنٹ بنا کر کروڑوں روپے کی جعلی ٹرانزکشن کے ذریعے انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی ہیتاکہ سیاسی میدان ان کے من پسند لوگوں کے ہاتھ آجائے۔ان متاثرہ سیا ستدانوں نے فوری طور پرایف آئی اے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو اس جانب متوجہ کر کے فوری طور پر ان افراد کی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔اسٹیٹ بینک کے گورنر نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فراڈ ٹرانزکشن کیگئی ہے۔مگراس ٹرانزکشن کا مجرم ایک بینک ملازم ہی ہے۔جو اس قدر طاقتور ہے کہ کئی مرتبہ پکڑے جانے کے باوجود ملازمتوں پر بھی برقرار ہے اور کسی سزا کاحامل بھی نہیں ہوسکا ہے۔ یہ شخص ایک ایسی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتا ہے جس نے اس ملک کی ترقی کی راہ میں مسلسل روڑے اٹکانے کی کوشش کی ہے۔

مگر ان رخنا اندازیوں کے باوجود پاکستان میں ترقی کا پہیہ چل نکلا ہے۔ بلکہ ہم ہی نہیں دنیا کے ممالک اس کی تعریف کر رہے ہیں۔پاکستان کی موجودہ حکومت نے گذشتہ ساڑھے تین سالوں میں ماضی کی ڈوبی ہوئی معیشت کونا صرف سہارا دیا ہے بلکہ اس کو آگے بڑھانے میں بھی کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی ہے۔معیشت کے شعبے میں اصلاحات کے ضمن میں مشکل ترین فیصلوں کے ذریعے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں ان کا اعتراف دنیا کے مالیاتی اور معاشی اداروں اور ریٹنگ ایجنسیوں کی جائزہ رپورٹوں میں کیا جاتا رہا ہے۔

گذشتہ منگل کے روز سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیوس میں منعقد کیئے جانے والے ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں شریک ممالک کے رہنماؤں اور ممتاز سرمایہ کاراداروں کی پاکستان کے مختلف منصوبوں میں دلچسپی نے پاکستان کی معیشت کی بڑھتی ہوئی صورتِ حال کی ایک جانب نشاندہی کی ہے تو دوسری جانب ڈیوس کانفرنس میں وزیر اعظم نواز شریف سے الگ الگ ملنے والی شخصیات میں اقتصادی فورم کے چیئر مین کلاز شواب سوئس کنفیڈریشن کے صدر ڈوروس لیو تھارڈ،علی با با گروپ کے چئیر پرسن جیکما،سری لنکا کے وزیر اعظم رینیل وکرما سنگھے،اسٹنیڈرڈ چارٹرڈ بینک کے گروپ کے چیف ایگزیکٹیوآفیسر،جاز وینالز اور پاکٹر اینڈ ومپل کام کے چیف ایگزیکٹیو جین چارلی نے پاکستان میں ہونے والی ترقی کا کھلے دل سے اعتراف کرتے ہوئے موجودہ حکومتِ پاکستان کی تعریف کی ہے۔ڈیوس کانفرنس میں وزیر اعظم نے گوادر اور سی پیک کی اہمیت سے ورلڈ اکنامک فورم میں شامل ممالک کے گروپس بھی کو آگاہی فراہم کی۔

ان گروپس میں سے سوئٹر لینڈ کی حکومت نے پاکستان کے ساتھ ملکرہائڈرو پاور پرو جیکٹ میں کام کرنے کی پیشکش کی ہے۔ توعلی با با گروپ نے آن لائن وینچر کے مزید فروغ کے لئے ای کامرس پلیٹ فارم کے قیام کی پیش کش کی ہے۔ان کے علاوہ دیگر اداروں کی جانب سے بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کی فضا سازگار ہونے کی رائے کا کھلے بندوں اقرار کیا گیا ہے۔ان اداروں اور حکومتی شخصیات کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی کامیاب تکمیل نے پاکستان کی ساکھ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔جس کی وجہ سے آج پاکستان ہر قسم کے چیلنجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔موجودہ حالات اس بات کے غماض ہیں کہ پاکستان آج تیزی سے ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔

ہماری ترقی کی جانب ہمارا ایک اور اقدام یہ ہے کہ ایک جانب سی پیک ترقی کے راستے کھولنے جارہا ہے جو گوادر کی بندر گاہ سے لنک ہو جائے گاتو پاکستان کی ترقی میں چار چاند لگ جائیں گے۔ دوسری جانب گوادر کی بندر گاہ ہماری ترقی کا گیٹ وے بننے جارہی ہے۔وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ گوادر کی بندر گاہ کو ہانگ کانگ اور سنگا پور کی بندر گاہ وں کی طرح ایشیا کی جدید ترین بندرگاہ بناے کا منصوبہ ہم تیار کر چکے ہیں جس کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔گودر اور سی پیک اب پاکستان خطے میں علاقائی اور اقتصادی تعاون کا مرکز بننے جا رہا ہے۔ ہمارے مجوزہ اقتصادی منصوبوں کے ثمرات سے مستفید ہونے کے لئے ایک جانب سعودی عرب دوسری جانب ایران آگے بڑھ رہے ہیں۔ان ملکوں کے علاوہ وسطِ ایشیا کی ریاستوں کے ساتھ ہی یوروپی یونین اور برطانیہ بھی سی پیک کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

گوادر کی بندر گاہ پاکستان کا ایک پرانا اقتصادی اور سماجی اور سیاسی میدانکاخواب ہے۔جسے ہم بہترین اقتصادی منصوبہ بندی کے ذریعے پورا کرنا چاہتے ہیں۔جو ناصرف پاکستان بلکہ خطے کے تمام ملکوں کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگا۔ہمیں یہ کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں ہے کہ اس بندرگاہ کودیگر ممالک بھی اپنی در آمدات و بر آمدات کے لئے استعمال کرنے کی درخوست کر رہاے ہیں۔پاکستان کی یہ تیسری بڑی بندگاہ گرم اورگہرے پانیوں کی وجہ سے بھی اپنی ایک اقتصادیای اہمیت رکھتی ہے۔جو بحرِہند اور چین کے جنوبی سمندروں کے متبادل راستے کی سی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کے ذریعے چین بھی مشرق وسطیٰ سے کم اخراجات پر تیل کی ترسیل حاصل کر سکے گا۔

دنیا اس بات سے بھی با خبر ہے کہ سنگا پور اور ہانگ کانگ اپنی معاشی ترقی کی وجہ سے مغربی دنیا کو پیچھے چھوڑ چکی ہیں۔اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سنگا پور اور ہانگ کانگ کے نموونے کو اپنانے کے لعد دن رات جدوجہد کر کے گوادر کی بندر گاہ اور پاک چین اقتصادی راہداری کی برکات سے پاکستان کی تجارت اور کاروبار کے علاوہ روز گار کے شاندار ذرائع کو پیدا کرنے کی جدوجہد کو جاری رکھیں تاکہ بیرونی سرمایہ کاری پاکستان کا آسانی کے ساتھ رخ کرے۔اور پاکستانی نوجوانوں کو دنیا کے ممالک میں دھکے نہ کھانا پڑیں۔ دوسر جانب ہمیں نون اسٹیک ایکٹرز کی ریشہ دوانیوں کا بھی بھر پور مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہنا ہوگا۔

پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید

SHARE

LEAVE A REPLY