سندھ کابینہ نے مزید 90 روز کی تاخیر سے الیکشن کرانے کی تجویز منظور کرلی۔

کراچی میں بلدیاتی الیکشن ایک بار پھر ملتوی ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں، کیوں کہ سندھ کابینہ نے مزید 90 روز کی تاخیر سے الیکشن کرانے کی تجویز منظور کرلی ہے۔

صوبائی کابینہ نے بلدیاتی ایکٹ 2013 کے اختیارات کے تحت سرکولیشن کے ذریعے 90 روز تاخیر کی تجویز کی منظوری دی ہے، اور سندھ حکومت نے بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو خط بھی لکھ دیا ہے۔

گزشتہ روز سندھ ہائی کورٹ کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی الیکشن بار بار ملتوی کرنے پر برہم ہوگئی تھی۔

کراچی اور حیدرآباد میں بلدیاتی الیکشن جلد کرانے کی جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی درخواستوں پر سماعت کے دوران چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ احمد علی شیخ نے الیکشن کمیشن حکام کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ بلدیاتی الیکشن کیوں نہیں کرواتے؟ بہت ہوگیا الیکشن کرائیں۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ نو نومبر کو تعطیل کی وجہ سے الیکشن کمیشن کا اجلاس نہیں ہوسکا اگلا اجلاس پندرہ نومبر کو طلب کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے اظہار ناراضی کرتے ہوئے کہا کہ چھٹی تھی تو کیا ہوا؟ یہ الیکشن کمیشن ہے کوئی اسکول نہیں،اجلاس ہوسکتا تھا۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور الیکشن کمیشن کے وکلا نے بتایا کہ سندھ حکومت نے سیلاب کی وجہ سے پولیس کی نفری فراہم کرنے سے معذرت کی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سیلاب میں کونسی پولیس جاتی ہے ؟ بتائیں سیلاب زدگان کے پاس پولیس کیا کررہی ہے؟ کون سی ڈیوٹی ہے پولیس کی؟ ایک گاؤں بتادیں جہاں پولیس نے سیلاب متاثرین کیلئے آپریشن کیا ہو؟

عدالت نے ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ کو اہلکاروں کی مجموعی تعداد اور ان کی تعیناتی کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ چودہ نومبر تک ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ خود پیش ہوں یا سینئر افسر کو رپورٹ کے ساتھ بھیجیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY