امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سفارت خانے کی اسرائیلی شہر تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کے لیے اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے فون پر مشاورت کی.

امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم سے بات چیت کے دوران تل ابیب میں موجود امریکی سفارت خانے کو مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) منتقل کرنے کے پہلے سے طے شدہ منصوبے پر بات چیت کی۔

یہ خیال رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس یا یروشلم، جہاں امریکا اپنا سفارت خانہ منتقل کرنا چاہتا ہے، فلسطینیوں کے مطابق ان کی ریاست کا حصہ ہے تاہم اسرائیل نے یہاں یہودی بستیوں کو آباد کرنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے دونوں رہنماؤں سے امریکی صدر کی فون پر ہونے والی بات چیت کی تصدیق کی گئی ہے تاہم اس حوالے سے مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی کسی بھی غیر ملکی رہنما کو یہ پہلی فون کال تھی، جیسا کہ نئی انتظامیہ سمجھتی ہے کہ سفارت خانے کی نئے شہر میں منتقلی سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان نئے اختلافات پیدا ہوسکتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس فیصلے سے جہاں بیشتر امریکی نژاد یہودیوں گروپوں کو خوشی ہوگی وہی امریکا کے عرب اتحادیوں کی جانب سے منفی رد عمل آنے کا بھی خدشہ ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY