نیا سال آیا تو لگا تھا کہ شاید کچھ بہتری کی صورت پیدا ہوگی لیکن سال کے شروع ہی میں بہت سے جاننے والوں کو عالم بالا کی طرف جاتے دیکھا اور دل نے خوف محسوس کیا کہ کب کہاں اور کیسے زندگی کا محمل تھک کر بیٹھ جائے گا نہیں پتہ مگر جب تک سانس تب تک آس اور پھر سوچا دنیا چلتی رہے گی لہزا معمول کی طرف پلٹ آؤ مگر اس سوچ کے ساتھ اب اپنے اندر جھانکنا ہے خود کو ٹھیک کرنا ہے ۔جو شاید سب سے بڑا مرحلہ ہے کیونکہ ہم دوسروں کی غلطیاں اور برائیاں جس آسانی سے دیکھ لیتے ہیں وہ اپنی نظر نہیں اتیں بلکہ محسوس ہی نہیں ہوتیں ۔سب سے بڑا دعویٰ ہوتا ہے کہ ہم جھوٹ نہیں بولتے نہ کبھی بولا ہے ۔
میرے لئے یہ بات بہت پریشان کر دینے والی ہوتی ہے اس لئے کہ میں اپنے بارے میں یہ دعویٰ نہیں کر سکتی ،کیونکہ میں نہیں جانتی کہ جب تک مجھے یہ اداراک ہوا کہ جھوٹ نہیں بولنا جب تک نہ جانے کتنا مال میں بھیج چکی ہوں گی اوپر ۔ہم سب ہی بچپن سے سنتے ہیں کہ جھوٹ مت بولو غلط بیانی نہ کرو مگر یہ سب سمجھنے کے لئے ایک عمر تک پہنچنا بھی لازم ہوتا ہے یہ میری سوچ ہے ۔بہت کم ایسے لوگ ہوں گے جنہیں یہ یاد ہوگا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا ۔خیر یہ تو ایک بات تھی جو آج کل کے واقعات اور خبریں دیکھ کر زہن میں آگئی ۔اللہ ہم سب کو ہی سچ بولنے اور سچ کا ساتھ دینے کی تو فیق عطا فرمائے اور ہماری وہ غلطیاں جو انجانے میں یا جان کر بھی سرزد ہپوئیں انہیں اپنے فضل اور کرم سے معاف فرمائے ۔آمین
ویسے سچی بات تو یہ بھی ہے کہ اب معافی بھی دنیاوی معاملات کا حصہ بن رہی ہے ہر شخص دوسرے کو کہتا نظر آتا ہے کہ معاف کرو ۔ مگر یہ نہیں جانتا شاید کہ معافی بھی ہر بات کے لئے نہیں ہے بعض معافیاں کردار بگاڑ دیتی ہیں بعض معافیاں سر کش بنا دیتی ہیں اور بعض معافیاں معاشرے کو بگاڑ دیتی ہیں ۔ہر بات علم ہی کی طرف جاتی ہے کہ اگر آپ کے پاس علم ہے یا کھوج کی عادت ہے تو آپ صحیح اور غلط پرکھ سکتے ہیں ورنہ تو جانوروں سے مختلف ہننا اتنا آسان نہیں ہے اشرف المخلوقات کا منصب بہت بڑا ہے اور اس کے لئے جد و جہد اور شعور لازم ہے ۔
ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ملک میں اب جھوٹ بولنا فیشن سا بن گیا ہے ہر شخص جھوٹ کی دوکان کھولے بیٹھا ہے خاص کر وہ ادارے جیسے میڈیا سوشل میڈیا ۔ جس چیز کے پیچھے جاؤ جس بات کو ٹھیک سمجھو اگلے ہی لمحےاس کے اوپر ‘‘ فیک نیوز ‘‘ یعنی جھوٹی خبر لکھا نظر آتا ہے لیکن کوئی بھی اس طرف توجہ دیتا یا یہ کہتا نظر نہیں آتا کہ ان لوگوں کی خبریں مت دیکھو جو مسلسل جھوٹ کو فروغ دے رہے ہیں بہکا رہے ہیں غلط طرف لے جا رہے ہیں ۔کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے کردار بنائے ہی نہیں بلکہ کرداروں کو مسخ کر دیا ہے ۔ ہم نے صرف مخالفت اور کردار کُشی کو فروغ دینا شروع کر دیا ہے صرف اس مفاد کی خاطر کہ حکومت ہمیں مل جائے ۔چینل پر نوکری قائم رہے ،مالکان خوش رہیں ،لیڈر ہم سے ناراض نہ ہو ۔ساتھی ہمیں اہمیت دیں اور اس کے لئے کردار کی جتنی بھی قیمت لگے کوئی بات نہیں ۔
سنتے ہیں کچھ اُصول ہوتے ہیں جن پر زندگیاں گزاری جاتی ہیں سارا کام گھر سے شروع ہوتا ہے اور اپ کے اپنے گھر کی طرح ملک بھی آپ کا گھر ہی ہے جسے خراب کرتے وقت ہم سوچنے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کرتے ۔ہم یہ دیکھتے ہی نہیں کہ ہم قوم ہیں ایک خاندان ہیں اگر ہم نے توجہ نہ دی تو سب کچھ بکھر جائے گا ۔
لیکن ہمیں اس سے کیا کہ ملک کدہر جا رہا ہے ہمیں تو یہ دیکھنا ہے کہ ہمارا فائدہ کہاں ہے ۔ کچھ دنوں پہلے جلسے جلوس کی سیاست چلی اس قدر غلیظ اور غلط زبان استعمال کی گئی کہ دکھ ہوا ۔الزام ایسے ایسے کہ انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ کیا ہم اتنے گر سکتے ہیں کہ زاتی زندگیاں بھی داؤ پر لگا دیں ۔
عدل کی طرف دیکھیں تو وہاں بھی کچھ اچھا نظر نہیں آتا ابھی وکلاء نے پہلے ایک حملہ کیا پھر دوسرا ھائی کورٹ پر ایک جسٹس کو یر غمال بنا لیا ہم نے سوچا تھا کہ اب سن سب وک پکڑ لیا جائے گا مگر یہاں بھی اپنا ادارہ بیچ میں آگیا ،جب تک ہم سب کا احتساب نہیں کریں گے چاہے کہیں سے تعلق ہو جب تک کچھ بھی اچھا نہیں ہوگا ۔کیا وہ سارے وکیل فوٹیج میں نظر نہیں آرہے ؟ اب تو پہچاننا بھی کطچھ مشکل نہیں ہوتا صرف انصاف کی بات ہے ۔جب منصف آنکھیں بند کریں گے تو اندھیرا نہ صرف ہوگا بلکہ پھیل بھی جائے گا ۔
ایک ویڈیو چلی جس میں کچھ لوگ پیسے لیتے اور دیتے دکھائے جا رہے ہیں حسبِ عادت شور مچا سب نے دیکھا اور دکھایا ۔لیکن اسکی چھان بین اتنی مشکل ہے کہ ایک کمیٹی بنا کر اُسے ایک ماہ کا وقت دے دیا گیا ۔اس میں کیا ایسا پوشیدہ ہے جسے ڈھونڈھنے کے لئے ایک ماہ یعنی پورے تیس دن چاہئیں ۔وقت ظالم بھی ہے اور بے قدر بھی جو اسکی قدر نہیں کرتا وہ اسے پاتال میں پہنچا دیتا ہے ۔جو اسے استعمال کر لیتا ہے وہ منصور بن جاتا ہے
کاش ہم سوچ سکیں سمجھ سکیں ۔یہ وقت پھر آئے گا نہ یہ حالات پھر ملیں گے جو کچھ اچھا کر سکتے ہو کر جاؤ ۔آج کا کام کل پر نہ ڈالو کہ کل کی کسی کو خبر نہیں ۔ستر سال اسی شوق میں بیت گئے کہ ہم اسلامی مملکت میں کچھ اچھائیاں اپنا کر جئیں گے اب بھی کچھ نہیں بگڑا بس ہمت کی ضرورت ہے ۔برائی کو دیکھتے ہی ختم کرنے کا وقت ہے اور اچھائی کو پھیلانے کی بات ہے ۔
اللہ ہم سب کو صحت اور تندرستی کے ساتھ زندگی عطا فرمائے ۔ہمیں سچ اور حق بات کرنے کی توفیق دے اور ہم پر رحم اور کرم فرمائے آمین













