نیکی انسان کے اندر سے جنم لیتی ہے اور نیکی کرنے کے لیئے کسی مخصوص دین مذہب کی ضرورت نہیں۔
دنیا کا ہر مذہب نیکی کا ایک تصور پیش کرتا ہے۔ ان میں سے کچھ تصورات مشترک ہیں اور کچھ مختلف ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ عمومی درست و غلط اور نیکی اور بدی کے عالمی طور پر تسلیم شدہ اصول ہیں۔ اس کے علاوہ علاقائی اور ثقافتی سطح کے اصول بھی ہیں، جو کہیں مشترک تو کہیں مختلف ہیں
برطانوی شہزادے ولیم کے حوالے سے ایک منفرد سی خبر سامنے آئی تو سوچا کہ آپ کے ساتھ شیئر کروں
لیجئے پڑھیئے
شہزادہ ولیم نے فلاحی ادارے کی خیراتی مہم کے لیے لندن کی سڑکوں پر رسالے بیچنا شروع کر دیے۔
شہزادہ ولیم سرخ جیکٹ اور کیپ پہن کر ویسٹ منسٹر کے علاقے میں رسالے فروخت کر رہے تھے کہ ایک شہری نے انہیں پہچان لیا۔
ولیم اپنی مرحوم والدہ لیڈی ڈیانا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کئی خیراتی مہمات میں حصہ لے چکے ہیں۔
رسالہ خریدنے کے لیے آنے والے ایک شہری نے کہا کہ اس کے پاس کھلے پیسے نہیں ہیں تو ولیم نے فوراً کارڈ مشین پیش کر دی۔
عوام کی طرف سے شہزادہ ولیم کے اس عمل کو خوب سراہا جا رہا ہے۔
’’بِگ ایشو‘‘ نامی رسالہ بےگھر افراد کی مدد کرتا ہے، ولیم اپنی والدہ کی طرح کئی تنظیموں اور سرگرمیوں کا حصہ ہیں جو بےگھر افراد کو مدد فراہم کرتی ہیں۔
ء 2020میں شہزادہ ولیم نے بتایا تھا کہ وہ اپنے صاحبزادے شہزادہ جارج اور شہزادی شارلٹ سے بھی بےگھر افراد کے مسائل پر بات کرتے ہیں۔
ء 2019میں شہزادہ ولیم دی پیسج نامی تنظیم کے سرپرستِ اعلیٰ منتخب کیے گئے۔
یہ ادارہ 1980ء سے اب تک ایک لاکھ 35 ہزار بےگھر افراد کو رہائش کی سہولتیں فراہم کرچکا ہے۔
انتخاب، ڈاکٹر نگہت نسیم













