امریکی صدر اپنی مدت ختم ہونے سے پہلے گوانتاناموبے جیل بند کرنے کے خواہاں

0
538

امریکی صدر جو بائیڈن اپنی مدت ختم ہونے سے پہلے بدنام زمانہ گوانتا نامو بے جیل بند کرنے کے خواہشمند ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جو بائیڈن انتظامیہ نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ذریعے موجودہ صورتحال کا اندازہ لگانے کے لیے کام کر رہی ہے، یہ معاملہ پچھلی حکومت کی جانب سے وراثت میں ملا ہے۔

………………….

گونتانامو کے حوالے سے 2016  کی ایک خبر

.امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے کہا ہے کہ ان کا ملک گوانتا نامو جیل بند کرنے کے بعد بھی اس علاقے کو کیوبا کے حوالے نہیں کرے گا۔

ایشٹن کارٹر نے کہا کہ گوانتانا مو جیل اور گوانتا نامو فوجی چھاونی میں بڑا فرق ہے اور امریکہ اس علاقے میں باقی رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ علاقہ انتہائی اسٹریٹیجک ہے اور کیونکہ ہم کافی عرصے سے یہاں موجود ہیں یہ علاقہ ہمارے لئے حیاتیاتی حیثیت اختیار کرگیا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اس علاقے میں ہمیشہ باقی رہیں۔

ایشٹن کارٹر نے کہا کہ امریکی قوانین کے تحت، حکومت امریکا گوانتا نامو جیل کے قیدیوں کو ملکی جیلوں میں منتقل نہیں کرسکتی، کانگریس سے اپیل کی وہ اس سلسلے میں قانون سازی کرے تاکہ گوانتا نامو جیل کے قیدیوں کو ملک کی دیگر جیلوں میں منتقل کیا جاسکے۔

امریکی وزیر دفاع کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور کیوبا کے درمیان عرصہ دراز کے بعد سفارتی تعلقات بحال ہوئے ہیں اور کیوبا نے امریکا سے سب سے پہلا مطالبہ ہی یہ کیا ہے کہ وہ گوانتانامو بے کو اس کے حوالے کردے۔

کیوبا کہ صدر راہول کاسترو نے رواں سال کے آغاز میں کہا تھا کہ امریکا کو چاہیے کہ وہ گوانتا نامو بے کے علاقے کو ، جس پر اس نے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، اس کے اصل مالک کو واپس کردے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایک سو سولہ مربع کلومیٹر کے اس علاقے کی ہوانا کو واپسی کیوبا، امریکا تعلقات کے معمول پر آنے کی اولین شرط ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY