پاکستان کو قطر سے ایل این جی کی تیسری کھیپ مل گئی، بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرگیا

0
1031

پاکستان کی کمزور توانائی سپلائی چین کو ایک اور بڑا سہارا اس وقت ملا جب قطر سے آنے والا ایل این جی ٹینکر ’’فویرت‘‘ حساس آبنائے ہرمز عبور کرکے پاکستانی سمندری حدود میں داخل ہوگیا۔

ایل این جی ٹینکر ’’فویرت‘‘  26 یا 27 مئی 2026 کو اینگرو ایل این جی ٹرمینل پر لنگر انداز ہونے کی توقع ہے۔

پاکستان کے پیٹرولیم ڈویژن کے سینئر حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک اور ایل این جی جہاز بھی آئندہ چند روز میں پہنچنے والا ہے، جو پاکستان گیس پورٹ کنسورشیم لمیٹڈ (پی جی پی ایل) ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگا۔

یہ صورتحال اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ اسلام آباد شدید گرمیوں میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب اور خلیجی خطے میں کشیدہ صورتحال کے دوران بلا تعطل ایندھن کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کررہا ہے۔

فویرت کی آمد دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں قطر سے آنے والی مسلسل تیسری ایل این جی کھیپ ہے۔

اس سے قبل 15 مئی کو ’’مِہزم‘‘ نامی ایل این جی بردار جہاز، جو تقریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار مکعب میٹر مائع قدرتی گیس لے کر آیا تھا، پورٹ قاسم کے پی جی پی ایل ٹرمینل 12 پر لنگر انداز ہوا تھا۔

اس سے دو روز پہلے 13 مئی کو ’’الخرائطیات‘‘ نامی کیو فلیکس ایل این جی جہاز اینگرو ٹرمینل پر پہنچا تھا۔توانائی شعبے کے حکام کے مطابق یہ مسلسل آمدیں اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان اس وقت قطر کے ساتھ طویل المدتی ایل این جی معاہدوں پر انحصار کررہا ہے، جب عالمی اسپاٹ مارکیٹ میں قیمتیں جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال، شپنگ خطرات اور آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی کے باعث سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کی وجہ سے تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY