انسان ہمیشہ ہی کسی نہ کسی درد میں مبتلا رہے گا

0
1736

انسان ہمیشہ ہی کسی نہ کسی درد میں مبتلا رہے گا ۔ ۔ ۔ یہ اُس کی خلقت کی فطرت ہے ۔ ۔ ۔ سمجھتا ہے کہ اس درد سے نکلا تو آرام میسر آئے گا ۔ ۔ ۔ جبکہ ہر درد کی بعد جو آرام میسر آنے والا ہے ۔ ۔ ۔ اُس آرام کی قیمت ہی درد ہے ۔ ۔ ۔ چنانچہ انسان کی مکمل زندگی ہی درد کی کائنات میں سے گزر کر جانی ہے ۔ ۔ ۔ البتہ اہم یہ ہے کہ انسان اُس درد میں مُطمئن رہے ۔ ۔ ۔ کرب سہنا ایک بات ہے ۔ ۔ ۔ اور یہ تو عام بات ہے ۔ ۔ ۔ ہر کسی کو یہ سہنا ہے ۔ ۔ ۔ اور اس سے ہر لمحہ گزرنا ہے ۔ ۔ ۔ تو یہ طلب نہ کرو کہ مجھے درد سے چھٹکارا ملے ۔ ۔ ۔ بلکہ یہ طلب کرو کہ مجھے ہر درد میں اطمینان نصیب ہو ۔ ۔

انسان ہزارہا بری عادتیں اپناتا ہے ۔ ۔ ۔ جبکہ اُسی ایسی عادتیں اپنانی چاہیں ۔ ۔ ۔ مثلاََ درد کی عادت ۔ ۔ ۔ جب انسان کسی شے سے خوگر ہوتا ہے ، کسی شے کی خو یا عادت اپنا لیتا ہے ۔ ۔ ۔ تو وہ شے اُس کیلئے آہستہ آہستہ مٹ جاتی ہے ۔ ۔ ۔ کیونکہ اُس کی اپنی فطرت ہمیشہ کمالِ مُطلق کی جستجو ہے ۔ ۔ ۔ اس لیے اگر درد کی عادت اپنا لی جائے ۔ ۔ ۔ درد سے عقد کر لیا جائے ۔ ۔ ۔ درد سے رشتہ قائم کر لیا جائے ۔ ۔ ۔ تو اس کا احساس ختم ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ اور احساس اس لیے بھی ختم ہوتا ہے جب انسان یا تو کسی منزل سے مکمل لاپرواہ ، بے خبر ، اور غفلت میں ہو ۔ ۔ ۔ یا پھر مکمل آگاہ اور مُطمئن ہو ۔ ۔ ۔ تو جب وہ منزل اور انجام سے مُطمئن ہو ۔ ۔ ۔ تو ایسے میں انسان اس کیلئے سہنے والے درد کا احساس نہیں کرتا بلکہ اُس کی نگاہ میں منزل ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ راہ کی کربناکیوں کو بھلا دیتا ہے ۔ ۔ ۔ اس لیے کسی کام میں کامیابی کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ حملہ کرتے ہوئےلشکر کی آخری صفوں پر نگاہ رکھی جائے ۔ ۔ ۔

چونکہ کمالِ مُطلق کی فطرت کی وجہ سے انسان کسی بھی شے کو جان کر پا کر حاصل کر مُطمئن نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ اور اُس کا احساس کھو دیتا ہے ۔ ۔ ۔ اس لیے اگر درد کو بھی جان لیا جائے ، پا لیا جائے ، اپنا بنا لیا جائے تو کمالِ مُطلق کی فطرت کی وجہ سے انسان اس سے جلد مایوس ہو جائے گا اور اس کا احساس ہی ختم ہو جائے گا ۔ ۔ ۔

جسٹن سنو….
انتخاب، فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY