پی ڈی ایم نے یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کیلئے مشترکہ امیدوار نامزد کردیا

0
726

اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کیلئے اپوزیشن کا مشترکہ امیدوار نامزد کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی صدارت میں ہونے والے پی ڈی ایم کے سربراہ اجلاس میں متفقہ طور پر یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کا امیدوار نامزد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

پیپلز پارٹی نے یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کا امیدوار بنانے کی تجویز پیش کی تھی جس کی عوامی نیشنل پارٹی نے بھی حمایت کی۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے حوالے سے کوئی نام سامنے نہیں آیا ہے۔

خیال رہے کہ یوسف رضا گیلانی سینیٹ الیکشن میں اسلام آباد سے اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار تھے اور انہوں نے حکومتی امیدوار عبدالحفیظ شیخ کو اپ سیٹ شکست دی تھی۔

نومنتخب سینیٹرز 12 مارچ کو حلف اٹھائیں گے جس کے بعد چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہوگا۔

حکومت نے موجودہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہی دوبارہ چیئرمین سینیٹ نامزد کیا ہے۔

……………………………….

سینیٹ انتخابات میں اسلام آباد سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کے بعد وزیر اعظم نے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کرلیا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود کا کہنا تھا کہ علی حیدر گیلانی کا چہرہ، آواز اور ان کی حرکتیں عوام کے سامنے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ پارٹی اور وزیراعظم عمران خان نے فیصلہ کیا ہے کہ اس ایوان سے اعتماد کا ووٹ لیں گے۔

ان کا کہنا تھاکہ متفقہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ عمران خان ایوان سے اعتماد کا ووٹ لیں گے، اور واضح ہوجائے گا کون کہاں کھڑا ہے؟ آج کا دن جمہوریت کیلئے افسوس کا مقام ہے جو جمہوریت کے علمبردار تھے انہوں نے جمہوہری قدروں کو روندا ہے۔

………………………………………………….

جنرل نشست پر یوسف رضا گیلانی کامیاب ہوگئے ہیں۔ یوسف رضا گیلانی حفیظ شیخ کو پانچ ووٹوں سے شکست دے کر اسلام آباد سے سینیٹر منتخب ہوگئے۔

یوسف رضا گیلانی نے 169جبکہ حفیظ شیخ نے 164ووٹ لیئے اور سات ووٹ مسترد کیئے گئے ہیں

اسلام آباد سے خواتین کی نشست پر پی ٹی آئی کو ایک سو چوہتر ووٹوں سے کامیابی ہوئی ہے

اسلام آباد کی جنرل نشست پر قومی اسمبلی میں ووٹنگ ہوئی جس میں اپوزیشن امیدوار سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کامیاب قرار پائے۔ حکومت کی جانب سے دوبارہ ووٹنگ کرائی گئی تاہم دوبارہ ووٹنگ میں بھی یوسف رضا گیلانی کامیاب قرار پائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سینیٹ الیکشن، قومی اسمبلی میں شاہ محمود قریشی کے بیٹے کی درخواست پر دوبارہ گنتی کے بعد سرکاری امیدوار حفیظ شیخ کو شکست ہوئی ہے اور اتحاد کے امیدوار یوسف رضا گیلانی جیت گئے ہیں۔ یادب رہے کہ وزیراعظم اس انتخاب کے لیئے ذاتی طور پر کمپین کر رہے تھے

اسلام آباد کی 2 نشستوں، سندھ اسمبلی کی 11 ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان اسمبلی کی 12،12 نشستوں پر امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کچھ دیر میں ہوگا۔

قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے مولانا عبدالاکبرچترالی کے سوا تمام 340 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیے۔ بیلٹ پیپر پر دستخط کی وجہ سے شہریار آفریدی کا ووٹ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔

دوبارہ گنتی
قومی اسمبلی میں ڈالے گئے ووٹوں کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے زین قریشی کے کہنے پر دوبارہ گنتی کی جارہی ہے۔

قومی اسمبلی میں 7 ووٹ مشکوک
قومی اسمبلی میں ڈالے گئے ووٹوں میں سے 7 کو الگ کردیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق الگ کیے گئے 7 ووٹوں کے مشکوک ہونے کا امکان ہے۔

بلوچستان اسمبلی میں تمام 65 اراکین نے ووٹ ڈال دیے۔ سندھ اسمبلی میں 168 میں سے 167 اراکین نے ووٹ ڈالا، جماعت اسلامی کے رکن عبدالرشید نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔

…………………………….

سینیٹ کی 37 نشستوں پر الیکشن کے لیے  پولنگ  ختم ہوگئی اور ووٹوں کی گنتی شروع ہو گئی ہے

سینیٹ کے انتخابات کے لیے قومی اور تین صوبائی اسمبلیوں میں پولنگ ہورہی ہے جو 5 بجے ختم ہوئی۔

وزیراعظم عمران خان، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، سابق صدر آصف زرداری، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت کئی اہم رہنما اپنا ووٹ کاسٹ کر چکے ہیں جب کہ دیگر جماعتوں کے اراکین بھی ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے اسمبلی آئے۔

قومی اسمبلی کے 342 کے ایوان میں ایک نشست خالی ہونے کےباعث 341 ووٹ ڈالے جانے تھے لیکن ابھی 340 اراکین نے اپنے ووٹ کاسٹ کیے اور ایک ممبر قومی اسمبلی نے اب تک ووٹ نہیں ڈالا۔

جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی تاحال ووٹ کاسٹ کرنے نہیں آئے اور اس حوالے سے جماعت اسلامی کا مؤقف سامنے آچکا ہے کہ وہ سینیٹ الیکشن کے لیے ووٹ کاسٹ نہیں کریں گے۔

الیکشن کمیشن کے اسٹاف نے اسمبلیوں کا کنٹرول سنبھال رکھا ہے، قومی اسمبلی کے عملے کا ایوان میں داخلہ بند ہےاور ہال میں الیکشن کمیشن کا عملہ یا ارکان ووٹر کو داخلے کی اجازت ہے جب کہ میڈیا کے بھی پریس گیلری میں فون لے جانے پر پابندی عائد ہے۔

پولنگ کے آغاز پر قومی اسمبلی میں ریٹرننگ افسر نے ووٹ کاسٹ کرنے سے متعلق اعلان کیا اور ووٹ مسترد تصور ہونے سے متعلق بھی بتا دیا۔

ریٹرننگ افسر ظفر اقبال نے کہا کہ خفیہ ووٹنگ کے ذریعے انتخاب ہو رہا ہے ، کوئی بھی شخص ووٹ پر نشان درج نہ کرے ورنہ ووٹ مسترد ہو جائے گا جب کہ دو لوگوں کو پہلی ترجیح دینے پر بھی ووٹ مسترد ہو جائے گا۔

قومی اسمبلی میں پہلا ووٹ میاں شفیق نے ڈالا
سینیٹ کے الیکشن کے لیے قومی اسمبلی میں پہلا ووٹ پی ٹی آئی کے میاں شفیق آرائیں اور دوسرا ووٹ وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کاسٹ کیا۔

سندھ، بلوچستان اور کے پی میں بھی ووٹنگ
سندھ اسمبلی میں بھی سینیٹ الیکشن کے لیے پولنگ جاری ہے جہاں سب سے پہلا ووٹ میر شبیر بجارانی نے کاسٹ کیا۔

خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینیٹ الیکشن کے لیے پہلا ووٹ جے یو آئی (ف) کے رکن ہدایت الرحمان نے کاسٹ کیا۔

بلوچستان اسمبلی میں سینیٹ انتخابات کے لیے پہلا ووٹ صوبائی وزیر آبپاشی نوابزادہ طارق مگسی نے کاسٹ کیا۔

پنجاب میں تمام امیدوار بلامقابلہ منتخب
پنجاب کی تمام 11نشستوں پر امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں جب کہ آج اسلام آبادکی 2، خیبر پختونخوا کی 12، سندھ کی 11 اور بلوچستان کی 12 نشستوں پر ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY