حُسین شناسی کا سفر۔35۔ طویل عزائی نظم ، ڈاکٹر نگہت نسیم

0
795

قسط پینتیس

حضرت امام حسین علیہ السلام نے
اپنے رفقاء کوجمع کیا
اﷲ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان فرمائی
اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پیش کیا
امام حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے نہایت فصیح و بلیغ خطاب فرمایا
کہ
میں اللہ تبارک و تعالی کی بہترین ستائش کرتا ہوں
اور ہر خوشی و آسائش اور رنج و مصیبت میں اس کی حمد کرتا ہوں
خدایا!
اس بات پرمیں تیری حمد کرتا ہوں
کہ
تو نے ہمیں نبوت کے ذریعہ کرامت عطاکی ،
ہمیں قران کا علم عنایت فرمایا
دین میں گہرائی و گیرائی عطا فرمائی
ہمیں حق کو سننے والے کان ، حق نگر آنکھیں
اور ۔۔۔ حق پذیر دل عطا فرمائے
اور تونے ۔۔۔ ہمیں مشرکین میں سے قرار نہیں دیا
حقیقت یہ ہے
کہ
میں اپنے اصحاب سے بہتر و برتر کسی کے اصحاب کاسراغ نہیں رکھتا
نہ ہی
ہمارے گھرانے سے زیادہ نیکو کار اور مہربان کسی گھرانے کا مجھے علم ہے
خداوند متعال
میری طرف سے تم سب کو اس کی بہترین جزاعطاکرے
آگاہ ہوجاؤ!
میں یہ سمجھتا ہوں
کہ
ان دشمنوں کی شر انگیزیوں کی بنیاد پر کل ہماری زندگی کا آخری دن ہے
آگاہ ہوجاؤ!
کہ
میں نے اسی لئے تم لوگوں کے سلسلے میں یہ نظریہ قائم کیا ہے
کہ
تم سب کے سب ہماری بیعت سے آزاد ہو
اورمیری طرف سے تم لوگوں پر کوئی پابندی نہیں ہے
یہ رات ہے
جس نے تم سب کواپنے اندر ڈھانپ لیا ہے
چراغ بجھا دیئے گئے ہیں
تم لوگ
اس سے فائدہ اٹھاکر
اپنے لئے اسے حجاب و مرکب قرار دو
اور تم میں سے
ہر ایک
اپنے خاندان کا ایک ایک فرد کا ہاتھ پکڑ کر
اپنے اپنے ملک اور شہر کی طرف نکل جائے
یہاں تک
کہ
خدا کشائش کی راہ نکال دے
کیونکہ
یہ قوم
قط میرے خون کی پیاسی ہے
لہٰذا اگر وہ مجھے پالیتی ہے تو میرے علاوہ دوسروں سے غافل ہوجائے گی
امام حسین علیہ السلام کا خطاب مبارک ختم ہوا
عباس بن علی علیھما السلام نے کلام کی ابتداء کی
اور فرمایا
‘‘ ہم ایسا کیوں کریں ؟
کیا فقط اس لئے
کہ
ہم آپ کے بعد زندہ و سلامت رہیں ؟
!خدا کبھی ہمیں ایسا دن نہ دکھائے
حضرت عباس کے بعد ان کے بھائی
امام حسین علیہ السلام کے فرزندان
امام حسن علیہ السلام کی اولاد قاسم
عبداللہ بن جعفر کے فرزند محمد و عبداللہ
سب کے سب نے اسی قسم کے کلمات سے اپنے خیالات کا اظہار کیا
یہ سن کر
امام حسین علیہ السلام
فرزندان جناب عقیل کی طرف مخاطب ہوئے
اور فرمایا
اے فرزندان عقیل !
مسلم بن عقیل کا قتل تم لوگوں کے لئے کافی ہے
تم سب چلے جاؤ
میں تم کو اجازت دیتا ہوں
یہ سن کر ان سب نے عرض کیا
اگر ہم چلیں جائیں تو لوگ کیا کہیں گے !
یہی تو کہیں گے
کہ
ہم نے اپنے بزرگ اور سید و سردار اور اپنے چچا کے فرزندان کو
نرغہ اعداء میں تنہا چھوڑ دیا
جبکہ
وہ ہمارے بہتر ین چچا تھے
ہم نے ان کے ہمراہ دشمن کی طرف تیر نہیں چلا یا
نیز وں سے دشمنوں کو زخمی نہیں کیا
اور ان کے ہمراہ تلوار سے حملہ نہیں کیا
ہمیں نہیں معلوم
کہ
لوگ ہمارے ساتھ کیا کریں گے
نہیں خد اکی قسم ہم ایسا نہیں کر سکتے
ہم اپنی جان ، مال اور اپنے گھر والوں کو آپ پر قربان کردیں گے
ہم آپ کے ساتھ ساتھ دشمن سے مقابلہ کرتے رہیں گے
یہاں تک
کہ
جہاں آپ وارد ہوں وہیں ہم بھی وارد ہوں
اللہ اس زندگی کا برا کرے جو آپ کے بعد باقی رہے!
جب بنی ہاشم اظہارخیال کر چکے
تو اصحاب کی نوبت آئی تو
حسینی سپاہ کے سب سے بوڑھے صحابی
مسلم بن عوسجہ اٹھے اور عرض کی
’’ اگر ہم آپ کو تنہا چھوڑدیں
؟تو آپ کے حق کی ادئیگی میں اللہ کے سامنے ہمارے پاس کیا عذر ہوگا؟
خدا کی قسم!
جب تک کہ میں اپنا نیزہ ان کے سینے میں نہ تو ڑلوں
اور جب تک قبضۂ شمشیر میرے ہاتھ میں ہے
میں ان کو نہ مار تا رہوں
میں آپ سے جدا نہ ہوں گا
اور اگر میرے پاس کوئی اسلحہ نہ ہوا
جس سے میں ان لوگوں سے مقابلہ کر سکوں
تو
میں
آپ کی حمایت میں ان پر پتھر مارتا رہوں گا
یہاں تک مجھے آپ کے ہمراہ موت آجائے
مسلم بن عوسجہ کے بعد
سعید بن عبد اللہ حنفی اٹھے اور عرض کیا
‘‘ خدا کی قسم!
ہم آپ کو تنہا نہیں چھوڑ یں گے
یہاں تک
کہ
خدا ہمیں یہ بتادے
کہ
ہم نے رسول خدا صلی اللہ وآلہ وسلم کے پس پشت
آپ کی حفاظت ونگرانی کرلی،
خدا کی قسم!
اگر مجھے معلوم ہو
کہ
مجھے قتل کیا جائے گا
اور پھر زندہ کیا جائے گا
اور پھر زندہ کر نے کے بعد مجھے زندہ جلا دیا جائے
اور میری راکھ کو ہوا ؤں میں اڑادیا جائے گا
اور یہ کام میرے ساتھ ستّر مرتبہ بھی کیا جائے
تب بھی میں آپ سے جدا ئی اختیار نہیں کروں گا
یہاں تک کہ میں آپ کے سامنے قربان ہو جاؤں۔
اور میں ایسا کیوں نہ کروں
جب
کہ
ایک ہی بار قتل ہونا ہے
اور اسکے بعد ایسی کرامت ہے جو کبھی بھی ختم ہونے والی نہیں ہے
اسکے بعد
زہیر بن قین بولے
‘‘خدا کی قسم!
میرا دل تو یہی چاہتا ہے
کہ
میں قتل کیا جاؤں پھر مجھے زندہ کیا جائے پھر قتل کیا جائے
یہاں تک کہ ایک ہزار مرتبہ ایسا کیا جائے
اور اللہ میرے اس قتل کے ذریعہ
آپ کے اور آپ کے گھر انے کے ان جوانوں سے بلا کو ٹال دے
اسکے بعد اصحاب کی ایک جماعت گویا ہوئی
’’خداکی قسم !
ہم آپ سے جدانہیں ہوسکتے
ہماری جانیں آپ پر قربان ہیں
ہم اپنی گردنوں ، پیشانیوں اور ہاتھوں سے آپ پر قربان ہیں
جب ہم قتل ہو جائیں گے
تب ہم
اس حق کوادااور اس عہد کو وفاکریں گے جوہماری گردن پر ہے
اس کے بعد اصحاب کے گروہ درگروہ نے
اسی قسم کے فقروں سے اپنے خیالات کااظہار کی
آدھی رات کو ابو عبداللہ الحسین نے
اطراف میں واقع پہاڑیوں اور دروں کا معائنہ کرنے کے لئے باہر نکلے

جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY