چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی پنجاب میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرے گی،لانگ مارچ کے ذریعے حکومت گرانے کی کوشش ہوگی، حکومت نہ گراسکے تو سیاسی نقصان ضرورپہنچائیں گے، ن لیگ کہتی ہے ان کو پی ٹی آئی کے 34 ارکان کی حمایت حاصل ہے، اگر ن لیگ کو پی ٹی آئی ارکان کی حمایت حاصل ہے تو حکومت گرا دینی چاہیے۔
بلاول ہاؤس میں لاہور میں بیورو چیفس کے ساتھ غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹوزرداری کا کہنا تھا کہ اگر ادارے غیر جانبدار رہیں تو پیپلز پارٹی لانگ مارچ کے اہداف حاصل کرلے گی۔
انہوں نے کہا ہمیں یوسف رضا گیلانی پر 100 فیصد اعتماد ہے، میمو گیٹ کا مسئلہ ہوا تو وہ کھڑے تھے، جب سے لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے تب سے کچھ حلقے ہماری ساکھ خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان پر بہت عجیب الزام لگایا گیا، سٹیٹ بینک کا قانون ہماری معیشت کیلئے اچھا نہیں ہے، اس معاملے کو عدالت لے کر جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلق کی خبریں ہماری طرف سے نہیں بلکہ میڈیا کی طرف سے آتی ہیں، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہماری دلچسپی نہ کل تھی اور نہ آج ہے، گلگت جاؤں یا جنوبی پنجاب کہا جاتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا اشارہ ہے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ حکومت کو آئینی طریقے سے عدم اعتماد کے ذریعے نکالنا چاہیے، ہم پارلیمنٹ کا گھیراؤ نہیں کریں گے بلکہ عدم اعتماد کا آپشن لیں گے کیونکہ سیاسی جماعتوں کا انتہائی اقدام بحران پیدا کرسکتا ہے، بات اِن ہاؤس تبدیلی کی نہیں بلکہ عمران خان کو ہٹانے کی ہے، پی ڈی ایم کا جو معاہدہ ہوا اس میں عدم اعتماد آخری آپشن تھا۔












