کسی بھی چیز اور وجود کو پرکھنے کے لئے دنیا میں ہی نہیں بلکہ آخرت میں بھی معیار قائم کر دیے گئے ہیں۔ معیار کے ان پیمانوں پر جب کوئی چیز پوری اترتی ہے تو اسے معیاری تسلیم کیا جاتا ہے ورنہ اس پر غیر معیاری کا لیبل چسپاں کر دیا جاتا ہے۔
معیار کے یہ پیمانے انسانی رویوں کو جانچنے کے لئے اخلاقیات کہلاتے ہیں۔ اور اخلاقیات کے یہ پیمانے اٹل اور ابدی ہیں ۔ آج اگر ہم کسی کو لیڈر مان لیں تو یہ بھی لازم ہے کہ وہ اخلاقیات کے ان پیمانوں پر پورا بھی اترے وگرنہ ہم اسے صرف مفاد پرست اور جھوٹا ہی کہیں گے جیسا کہ آج کل کے ہمارے اکثریت سیاستدان جن کی طلب صرف کرسی اور اقتدار ہی رہا ہے۔ اخلاقیات کے یہ پیمانے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ لیڈر وہ نہیں ہوتا جو خود منرل واٹر پیتا ہو اور اس کی رعایا بوند بوند کو ترسے بلکہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو عوام کے بیچ رہے، انہی جیسا رہن سہن ہو، ان کی مشکلات کو اپنی مشکلات سمجھے۔
لیڈر وہ نہیں ہوتا جو جلسہ گاہ میں کھڑا ہو کر عوام کو بتائے کہ میں آپ کا نوکر ہوں اور جلسہ ختم ہوتے ہی نوکر دو کروڑ کی گاڑی میں بیٹھ کر نکل جائے اور پیچھے کارکن دھوتی جھاڑ کر خوشی سے پھولے نہ سماتے ہوں کہ آج اپنے قائد کو قریب سے دیکھنے کا شرف حاصل ہو گیا۔
لیڈر وہ نہیں ہوتا جو لوگوں کو مذہب و مسلک کی جنگ میں جھونک دے بلکہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو مختلف مکتب الفکر یا مذاہب کے افراد کی ایک مشترکہ ٹیم بناتا ہے اور جس کا مقصد ریاست کی فلاح و بہبود ہوتا ہے۔
لیڈر وہ نہیں ہوتا جو پالشیوں، مالشیوں اور چغل خوروں کی باتوں پہ توجہ دے بلکہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو اپنے کام کے متعلق حقائق سے باخبر رہے اور اسے پتہ ہو کہ کون سے کارکن کو کون سا عہدہ دینا ہے۔
لیڈر وہ نہیں ہوتا جو ہر وقت اپنے ماتحتوں کے سر پر سوار رہے بلکہ لیڈر وہ ہوتا ہے جسے اپنے کام کی تفصیلات کا علم ہوتا ہے اور جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنا وقت نہیں برباد کرتا۔
لیڈر وہ نہیں ہوتا جو اپنے ماتحتوں کو عدم اعتماد میں مبتلا کرے بلکہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو ماتحتوں کی ذمہ داریوں سے ضرور باخبر رہے کہ دوسرے کیا کام کر رہے ہیں لیکن انہیں یہ احساس مت دلایئے کہ آپ ہر وقت ان کی نگرانی کر رہے ہیں کیونکہ اس عمل سے کسی لیڈر کے ماتحت عملہ اس پر اعتماد نہیں کرتا اور ٹیم کے لوگ جلد ہی ایسے شخص سے کترا کر کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔
لیڈر وہ نہیں ہوتا جو منہ پہ کچھ ہو اور پیٹھ پیچھے کچھ بلکہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو اپنے وعدے پورے کرے تاکہ لوگ اس پر اعتماد کریں، بار بار یو ٹرن لینے والے لیڈر پر کارکن اعتماد نہیں کرتے۔
نظم و ضبط یعنی ڈسپلن، مثبت سوچ، مثبت عمل، بصیرت، اپنے آپ پر اعتماد، علم، انصاف پسندی، راست بازی، جانچ اور پرکھ، وفاداری، بے غرضی، ہمت و حوصلہ، بھروسہ مندی، قوتِ فیصلہ و برداشت، جوش و ولولہ اور اصول و ضوابط کسی بھی لیڈر کی پہچان ہوتے ہیں چاہے وہ لیڈر گھر کا سربراہ ہو یا کسی شعبہ، ادارے یا ملک و قوم کا۔
لیڈر کبھی بھی ذاتی مفادات کے لیے اجتماعی مفادات کو قربان نہیں کرتا۔
لیڈر کبھی بھی کسی شخص کو اپنے ادارے میں چپڑاسی نہ رکھنے کا کہ کر اسے ملک کی اہم ترین وزارت نہیں سونپ دیا کرتا۔ لیڈر کبھی بھی کسی صوبے کے سب سے بڑے ڈاکو کو اس صوبے کی اسمبلی کا سپیکر نہیں بنا دیتا۔
لیڈر کبھی کسی جماعت کو قاتل جماعت کہ کر اس سے اپنے اقتدار کی کرسی کا سہارا نہیں مانگتا۔ لیڈر کبھی بھی 6 روپے یونٹ بجلی کا بل جلا کر 30 روپے کرنے پر دلالت نہیں کرتا، لیڈر کبھی بھی یہ بتا کر پٹرول کی قیمت میں اضافہ نہیں کرتا کہ یہ اضافہ وزیراعظم کی جیب بھرتا ہے۔لیڈر کبھی بھی اپنے گھر کو ریگولرائز اور غریب کی جھونپڑی کو مسمار نہیں کیا کرتا۔ لیڈر کبھی بھی سو دن میں تبدیلی کا راگ الاپ کر تین سال بعد ” آپ نے گھبرانا نہیں” کا نعرہ نہیں لگاتا، لیڈر کبھی بھی 35 ووٹوں سے 65 کو ہرا کر الیکشن کمیشن کو الزام نہیں دیتا، لیڈر کبھی بھی ملزمان کو غیر ملک فرار کر کے این آر او نہ دینے کے دعوے نہیں کرتا، لیڈر کبھی بھی ڈسکہ میں 20 پریزائیڈنگ افسران کو گم کراکے کسی بھی حلقہ کے نتائج تبدیل نہیں کراتا، لیڈر اپنے ساتھ کسی بھی وقتی شہرت و مفاد کے حامل شخص کو اپنی ٹیم میں اہم عہدے نہیں دیتا۔ لیڈر کبھی بھی کسے کے ہیلی کاپٹر استعمال کرکے اپنی حکومت میں اسی چینی مافیا نہیں بننے دیتا۔
اخلاقیات کے واضح اور روشن معیار ہیں ۔ جس پر پاکستانی سیاست کا کوئی بھی انسان پورا نہیں اترتا۔
ہر بار معیار بدلنے کی کوشش کی جاتی ہے اور عوام میں ایک نئے تاثر کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ سیاست کے ان دوہرے معیارات نے ہمیں لیڈرشپ کے فقدان کی اندوہناک گھاٹیوں میں دھکیل دیا ہے۔
ہم جزباتی قوم ہر بار معیار کے قائم کردہ پیمانوں کو بھول جاتے ہیں۔ پاکستانی قوم سے دست بستہ گزارش ہے آئیں اب ان دوغلے چہروں سے نجات حاصل کریں اور معیار کے پیمانوں پر اندھی محبت کی پٹی اتار ان مکروہ چہروں کو پہچانیں اور پاکستان کو ایک جہت میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔
اختتامی الفاظ میں راقم الحروف یہ بات کہنے میں حق بجانب ہے کہ وطن عزیز میں اگر کوئی ان پیمانوں پر پورا اترتا ہے تو وہ صرف علمائے حق ہیں اور ان کی کچھ جھلک جماعت اسلامی میں دیکھی جاسکتی ہے ۔













