ٹرمپ کا فیصلہ اورمسلم ملکوں کی بے حسی۔ ماہ پارہ صفدر

0
897

آج سے کچھ عرصے قبل کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، وہ ملک جہاں دنیا بھر میں خانہ جنگیوں سے اکتائے ہوئے، مذہبی اور فرقہ وارانہ متعصبانہ رویوں، ملکی قانون اور ریاستی جبر و تشدد کے شکار اور ستائے افراد آزاد فضا میں سکھ کا سانس لے پاتے تھے، وہ ہی ملک ان کے لیے جائے پناہ کے بجائے نفرتوں کا افریت بن جائیگا۔ دو دن پیشتر شام سے آنے والے پناہ گزیں بچوں، عورتوں اور مردوں کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم نامے کے تحت نیویارک کے ہوائی اڈے پر روک دیا گیا۔اس حکم نامے کے تحت شام ان سات ملکوں میں شامل ہے جن کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ دوسرے چھ مک ایران، عراق، صومالیہ، لیبیا، یمن اور سوڈان ہیں۔

ٹرمپ کے اس فیصلے نے  امریکہ بھر میں اور یورپ کے ملکوں میں تشویش اور احتجاج کی ایک لہر دوڑا دی، جس میں اس متنازعہ فیصلے کو نسلی طور پر متعصبانہ اور انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی قرار دیا جارہا ہے ۔ نیویارک میں ہزاروں مظاہرین اور کئی ایک سیاسی رہنما اس ایر پورٹ کے سامنے گھنٹوں کھڑے رہے۔ جہاں پناہ گزینوں کو مقید کیا تھا۔

سوشل میڈیا پر اس فیصلے کے خلاف احتجاج کے لیےپیٹیشن پر دستخط کرنے والوں کی تعداد پانچ لا کھ سے تجاوز کرچکی ہے۔

لوگوں کے ایئرپورٹس پر پھنسنے کے بعد نیویارک کی ایک عدالت نے ایک درخواست پر حکم سناتے ہوئے پھنسے تارکین وطن کو نکالنے اور صدر کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے پرعارضی پابندی عائد کردی ہے۔ یہ درخواست ایک غیر سرکاری تنظیم’ دی امریکن سول لبریشن یونٹ (اے سی ایل یو) نے نیویارک کی مقامی عدالت میں اس پابندی کے خلاف دائر کی تھی

عوامی سطح پر اٹھنے والی پرزور احتجاجی آواز میں کئی ایک عالمی رہنماؤں کی آوازوں بھی شامل ہیں،جن میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

کینڈا کے وزیر اغطم نے اپنے ملک کے دروازے پناہ گزینوں کے لیے کھولتے ہوئے فوراً ہی ایک ٹوئیٹ کے ذریعےً شام سے آنے والوں کو کینڈا آنے کی دعوت دی ہے۔ برطا نیہ میں حزب اختلاف کے رہنما لیبر پارٹی کے سربراہ جرمی کوربن نے کہا ہے کہ وہ مسٹر ٹرمپ جیسے لیڈر کا برطانیہ میں استقبال کرنے کو تیار نہیں۔

انھوں نے اپنی حکومت پر زور دیا ہے کہ مسٹر ٹرمپ کے سرکاری دورے کو منسوخ کیا جائے۔ واضح رہے کہ ابھی گزشتہ ہفتے ہی برطانوی وزیر اعظم ٹریسا مے نے امریکہ کے اپنے پہلے سرکاری دورے میں صدر ٹرمپ کو برطانیہ آنے کی دعوت دی تھی۔خود برطانوی وزیر اعظم جنھوں نے پہلے تو ایک نامہ نگار کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ پناہ گزینوں کے بارے میں امریکہ کی پالیسی پر پر وہ کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتیں۔امریکہ کی اپنی پالیسی ہے جبکہ برطانیہ کی اپنی، لیکن بعد میں سیاسی اور عوامی دباؤ کے بعد انھیں اپنا سابقہ موقف تبدیل کرتے ہوئے کہنا پڑا کہ وہ پناہ گزینوں کے بارے میں صدر ٹرمپ کی پالیسی سے اتفاق نہیں رکھتیں۔کئی یورپی ملکوں کے رہنماؤں نے اس پالیسی کو غیر اخلاقی، غیر انسانی ، شرمناک اور ظالمانہ قرار دیا۔جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے خصوصی طور پر مسٹر ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کرکے انھوں باور کرایا کہ جو کچھ وہ کررہے ہیں وہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

مگر کیا یہ ستم ظریفی نہیں کہ امریکی حلقوں میں اور یورپی ایوانوں میں تو ہلچل ہے، مگر احتجاج کی اس بازگشت میں اگر کسی آواز کی شدت سے کمی محسوس کی جارہی ہے تو وہ خود ڈیڑھ ارب افراد پر مشتمل مسلمان ملکوں کی آواز ہے۔ سوائے ایران اور عراقی پارلیمان کے پابندی لگائے جانے والے باقی ملکوں اورنہ ہی دوسرے پچاس سے زیادہ ملکوں میں اس نسل پرست پالیسی پر کوئی تشویش، کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔ خصوصاً مشرق وسطیٰ کے سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات جیسے امیر ممالک، جہاں خاصی تعداد میں امریکی موجود ہیں، اور ترکی اور پاکستان جیسے جمہوری ملکوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ سیاسی ایوانوں میں بھی اور عوامی سطح پر عجب بے حسی اور لاتعلقی نظر آ رہی ہے۔
اس زیادتی پر خاموش رہنا نہ صرف انتہائی افسوناک ہے، بلکہ ان ملکوں کی قیادت میں سیاسی اور ذہنی ناپختگی کا واضح ثبوت بھی۔

ماہ پارہ صفدر

SHARE

LEAVE A REPLY