دو ہزار انیس میں ہم نے اپنا دوسرا مرثیہ ۔۔۔۔۔اشک ۔۔۔۔لکھا آٹھ دس بند لکھ کر ہم نے اسے سحر انصاری صاحب کو نہ صرف سنایا بلکہ دکھایا ( سحر صاحب ہمارے ساتھ واٹس ایپ اور فیس بک پر ہیں ) سحر صاحب نے کہا کہ اس نو عیت کا مرثیہ آپ نے لکھا ھے یہ کمال ھے اسے مکمل کریں کہ مرثیہ کی تاریخ میں اس نو عیت کا مرثیہ اس سے پہلے نہیں لکھا گیا ہم نے ان سے درخواست کی کہ اس مرثیہ پر مضمون آپ لکھیں گے وہ ان دنو ں انجمن کے کچھ معاملات میں الجھے ہوۓ تھے پہلی بار مسودہ ان سے کہیں گم ہوگیا اور دوسری بار وہ نا معلوم وجوہات کی بنا پر شاید لکھ نہ پائے بہر حال ہم نے ہلال نقوی صاحب سے بات کی وہ 42 بند کا مرثیہ پڑھ کر اس پر لکھنے کے لیے تیار تھے ان کا کہنا تھا جس پائے کا یہ مرثیہ ھے اس پر لکھنے کے لیے وقت اور یکسوئی چاہیے میں چار ماہ کے لیے کینیڈا جا رہا ہوں وہاں اس پر مضمون لکھ کر آپ کو واٹس ایپ کر دوں گا چار ماہ بعد ان کی وااپسی ہوئی ہم نے ان سے رابطہ کرنے کی اپنی سی ہر کوشش کر لی مگر جواب دینا دور کی بات انہوں نے فون بھی رسیو کرنے کی زحمت نہیں کی آٹھ ماہ مسودہ ان کے پاس پڑا رہا آخر ہم نے سرور جاوید کو بھیج کر اپنا مسودہ منگوا لیا مگر ان کے پاس معذرت کے لیے بھی الفاظ نہیں تھے
پھر ہم نے ید اللّه حیدر صاحب سے اس مرثیے پر کچھ لکھنے کے لیے کہا انہوں نے اپنی گا ڑ ی بھیج کر مسودہ منگوایا اور آٹھ دس دن میں مضمون لکھ کر دینے کا وعدہ کیا بیس دن بعد ہم نے فون کر کے اس با بت پوچھا تو ان کا جواب تھا مضمون میں نے لکھ لیا ھے بس چار دن اور دے دیں کہ میں اسے صاف کرلوں پھر بیس دن بعد ان کا یہی جواب تھا چھ ماہ مرثیہ ان کے پاس پڑا رہا لیکن وہ ٹال مٹول کرتے رہے آخر ہم نے حسین موسی بھائی کو بھیج کر مسودہ منگوا لیا وہاں بھی وہی بے حسی کہ نہ کوئی شرمندگی نہ کوئی معزرت نہ اپنے جھوٹ بولنے پر کوئی پشیمانی
آٹھ ماہ سے اب وہ مرثیہ ایک صاحب لے گئے ہیں کہ مولانا کمال حیدر اس پر مضمون لکھیں گے
کیا بے حسی ھے کیا انداز ھے جب کہ اب ان میں سے کسی کو بھی اس قابل نہ سمجھتے ہوۓ آئندہ ہم نے عہد کیا ھے کہ ان میں سے کسی کی کیا کسی کی بھی تحریر ہماری آنے والی کسی کتاب میں شامل نہیں ہوگی
کہ یہ تمام 80 . 80 . سال کے ہو کر بھی ابھی مرنے کو تیار نہیں مگر ہمیں لگتا ھے کہ اگلے ہی پل بلاوا آجائے اور ہم اپنے تمام کام خصوصا کتاب چھپوانے کی آرزو ادھوری چھوڑ کر اگلے سفر پر نہ روانہ ہو جائیں یہ ہیں بڑے لوگوں کے چھوٹے رویے













