افریقی ملک نائیجیریا سے تعلق رکھنے والے محمد بیلو المعروف ابو بکر نامی ایک سابق مذہبی رہ نما اور مبلغ 93 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ وہ کثرت ازواج کی بناء پر دنیا بھر میں مشہور ہوئے تھے۔ کچھ عرصہ قبل تک ان کی بیویوں کی تعداد 86 تھی جب کہ ان کی موت تک ان کی بیویوں کی تعداد ایک سو تیس تک جا پہنچی تھی۔
محمد بیلو ابوبکر بابا مسابا کے نام سے بھی شہرت رکھتے ہیں اور ان کا انتقال وسطی ریاست نائجر میں نامعلوم بیماری کی وجہ سے ہوا۔ کل اتوار کے روز ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مرحوم نے سوگواروں میں دسیوں بیویوں کے ساتھ ساتھ ڈیڑھ سو بیٹوں، بیٹیوں اور پوتے پوتیاں چھوڑے ہیں۔
نائجیریا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق سنہ 2008 میں مبلغ الحاج محمد بیلو ابوبکر کی 86 بیویاں تھیں جب وہ میڈیا کا مرکز بنے اور ان کی موت کے وقت یہ تعداد 130 تک پہنچ چکی تھی۔

بی بی سی کی سنہ 2008 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ابوبکر کے کم از کم 170 بچے تھے تاہم ڈیلی ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ انھوں نے سوگواروں میں 203 بچے چھوڑے ہیں۔
علامہ ابو بکر اپنے مذہبی نظریات کی بناء پرنہ صرف مشہور ہوئے بلکہ متنازع شخصیت بن کرابھرے۔ خود نائیجیریا کی حکومت بھی ان کے انوکھے خیالات پر پریشان رہی۔ علامہ ابو بکر چار سے زاید بیویاں ایک ہی وقت میں عقد نکاح میں رکھنے کے قائل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ قرآن پاک میں چار سے زاید شادیاں کرنے اور چار سے زیادہ بیویاں رکھنے پر کوئی سزا بیان نہیں کی گئی۔ اس لیے یہ اس بات کا جواز ہے کہ بیویاں ان گنت بھی ہوسکتی ہیں۔
سنہ 2008 میں ان کی بیویوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان کی ملاقات ابوبکر سے اس وقت ہوئی جب وہ مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے ان کے پاس آئیں اور انھیں شفا ملی تھی۔
محمد بیلو پیشے کے اعتبار سے ایک اسکول میں استاد اور مسجد میں امامت اور خطابت کرتے رہے۔ وفات سے تین روز قبل ان کی بیماری کی اطلاعات ملیں۔ ان کے قریبی ساتھی موتایرو صلاح الدین بیلو نے بتایا کہ علامہ محمد البیلو کی وفات ان کے آبائی شہر بیدا میں ہوئی۔

Nigerian Satcha‘
کے مطابق محمد بیلو ابو بکر نے 107 شادیاں کیں جن میں سے ان کی موقت کے وقت 97 بیویاں تھیں۔ انہوں نے 10 بیویوں کو طلاق بھی دی۔
مذہبی ملبغ محمد بیلو کا دعویٰ تھا کہ وہ اللہ سے ہم کلام ہوتا ہے۔ اس پر نائیجیریا کی سپریم مذہبی کونسل کی جانب سے انہیں سختی سے ایسے دعوؤں سے روکا گیا اور چار سے زاید بیویوں کے جواز سے منع کرنے کی کوشش کی گئی مگر وہ اپنے نظریات پرقائم رہے۔ وہ میڈٰیا سے جب بھی بات کرتے تو ان کی کثرت ازواج پر ضرور سوال پوچھے جاتے اور وہ ہر بار جواب میں کہتے کہ قرآن میں چار سے زاید بیویاں رکھنے پر کوئی سزا مقرر نہیں کی گئی اس لیے چار سے زاید بیویاں رکھی جاسکتی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق کثیر تعداد میں بیویوں کے بطن سے محمد بیلو ابو بکر کے 187 بچے بچیاں پیدا ہوئیں جن میں سے 180 حیات ہیں اور سات انتقال کرگئے تھے۔

نائیجیرین اخبار نے اپنی رپورٹ میں کثرت ازواج کے حوالے سے ایک بھارتی شہری کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ بھارتی نژاد ’زیونا چنا کی 39 بیویاں تھیں جن سے اس کے 94 بچے بچیاں پیدا ہوئیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کو چنا اور اس کی فیملی کا ایک گروپ فوٹو بھی ملا ہے جس میں انہیں ایک ساتھ دیکھا سکتا ہے۔

شریفہ نامی ایک خاتون نے ’بی بی سی’ کو بتایا تھا کہ وہ ان خوش قسمت خواتین میں سے ایک ہے جنہوں نے حاجی محمد بیلو سے شادی کی۔ انہوں نے ایک ایسے شخص سے شادی کی جس کی ایک ہی وقت میں 86 بیویاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بیلوسے اس کی شادی اس وقت ہوئی جب میری عمر 25 سال اور بیلو کی 74 سال تھی۔
بہت زیادہ بیویوں اور اولاد نے الحاج محمد بیلو کے گھر میں معاشی مسائل بھی پیدا کیے۔ ان کی ایک بیوی نے بتایا کہ ان کے شوہر بچوں کو بھیک مانگنے کے لیے بازاروں میں بھیجتے تھے۔

SHARE

LEAVE A REPLY