پاکستان کی جانب سے زیر حراست بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو ویانا کنونشن کے تحت آج قونصلر رسائی دے دی گئی۔
کلبھوشن سے ملاقات کے لیے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر گورو اہلیوالیہ دفتر خارجہ پہنچے تھے جہاں پہلے انہوں نے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل سے ملاقات کی۔
اطلاعات کے مطابق بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر گورو اہلووالیہ، ویزہ افسر اور زیر حراست بھارتی جاسوس کے درمیان سب جیل میں یہ ملاقات 2 گھنٹے تک جاری رہی۔
ذرائع کے مطابق کمانڈر کلبھوشن یادیو سے ملاقات کیلئے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو نامعلوم مقام لے جایا گیا اس ملاقات میں پاکستان کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل بھارتی امور فریحہ بگٹی بھی موجود تھیں۔
حکام کا کہنا تھا کہ ملاقات عالمی عدالت انصاف کی جانب سے کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی کی فراہمی کے فیصلہ کی روشنی میں کروائی گئی۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کے روز بھارتی عہدیدار نے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی تھی کہ عالمی عدالت انصاف کی ہدایات کی روشنی میں پاکستان ملاقات کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے گا تاکہ ملاقات آزاد، معنی خیز اور موثر طور پر ہوسکے۔
قبل ازیں دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ٹوئٹر پر اعلان کیا تھا کہ بھارتی جاسوس کو ویانا کنونشن کے تحت 2 ستمبر کو قونصلر رسائی دی جائے گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بھی پاکستان نے بھارت کو کلبھوشن یادو کو قونصلر رسائی دینے کی باضابطہ پیش کش کی تھی۔
دوسری جانب نئی دہلی میں گفتگو کرتے ہوئے بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے تصدیق کی تھی کہ انہیں پاکستان سے پیشکش موصول ہوئی تھی لیکن وہ آئی سی جے کے فیصلے کے تناظر میں اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت سفارتی ذرائع سے پاکستان کے ساتھ روابط جاری رکھے گا۔
ڈاکٹر محمد فیصل نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کے جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو کو ویانا کنونشن، عالمی عدالت انصاف کے فیصلے اور پاکستانی قوانین کے تحت رسائی دی جائے گی۔
ٹوئٹ میں واضح کیا گیا تھا کہ ’کلبھوشن یادیو کو 2 ستمبر کو قونصلر رسائی دی جائے گی‘۔
……………………………
انڈیا نے پاکستان کی پیشکش کا جواب دے دیا۔ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر دہشتگرد کلبھوشن یادیو سے ملاقات کیلئے دفتر خارجہ پہنچ گئے۔
یاد رہے گزشتہ روز ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے بھارتی بحریہ کے حاضر سروس جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ رسائی عالمی عدالت انصاف کے فیصلے، پاکستانی قوانین اور ویانا کنونشن کے قونسلر تعلقات کے تحت فراہم کی جا رہی ہے۔
ترجمان کا اپنے ٹویٹ میں کہنا تھا کمانڈر کلبوشن یادیو پاکستان میں جاسوسی اور دہشتگردی میں ملوث ہونے پر حراست میں ہے۔
………………..
پاکستان ویانا کنونشن اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے مطابق آج بھارتی جاسوس کلبھوشن جادیو کو قونصلر رسائی دے گا۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے ایک بیان میں بھارتی جاسوس کلبھوشن جادیو کو قونصلر رسائی دینے کا اعلان کیا ہے۔
دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارتی جاسوس کو پاکستانی قوانین کے تحت قونصلر رسائی دے رہے ہیں۔
ملتان میں میڈیا سے گفتگو میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی کلبھوشن جادیو کو قونصلر رسائی دیے جانے کی تصدیق کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پرامن ملک ہے، خطے کا امن خراب نہیں کرنا چاہتے، جنگ آخری آپشن ہوتا ہے، کوئی باشعور ملک یا طبقہ جنگ سے گفتگو کا آغاز نہیں کرتا۔












