ایک طرف ملک میں کرونا عفریت بن کے روزانہ کی بنیاد پر جانیں نگل رہا ہے دوسری طرف عام لوگ بھی ایس او پیز پر عمل نہیں کر رہے۔ عوام تو ایپک طرف خود اسد عمر کو کرونا سے بچاو کے ادارے کے سربراہ ہیں کس طرح سے لوگوں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ لاک ڈاون لگ سکتا ہے اس لیئے عید کی شاپنگ جلد کر لیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔افسوس ہوتا ہے اسی عقل پر اگر اسے عقل کہا جائے
لیجئے پوری خبر خود پڑھ لیجئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول (این سی اوسی) کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ شہری عید کی شاپنگ ابھی سے کرلیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ آگے جا کر لاک ڈاؤن لگ جائے۔
قومی رابطہ کمیٹی برائے کورونا کے اجلاس سے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ 5 فیصد سے زائد کیسز والے علاقوں میں سکول بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ملک بھر میں تمام مارکیٹیں شام 6 بجے تک کھلیں گی، ریسٹورنٹس میں عید تک ان ڈور کے بعد آؤٹ ڈورڈائننگ پر بھی پابندی عائد کی جا رہی ہے، آفس ٹائمنگ 2 بجے تک کی جا رہی ہے، لوگ آخری دنوں کا انتظار نہ کریں، عید کی تیاری کریں۔
معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ گزشتہ سال جب گرمیوں میں کورونا کی پہلی لہر آئی تو ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ گیا، ہم پچھلی کورونا کی لہر میں مثبت کیسز کی شرح سے بہت اوپر جاچکے ہیں، آکسیجن کے استعمال پر دباؤ زیادہ ہے، ہم 90 فیصدآکسیجن استعمال کر رہے ہیں۔
قبل ازیں وزیراعظم نے کہا ہے کہ فوج ایس او پیز پر عملدرآمد کے لئے پولیس کی مدد کرے گی، لاک ڈاؤن نہیں کر رہے، لوگوں نے احتیاط نہ کی تو سب کچھ بند کرنا پڑے گا، مثبت کیسز میں اضافہ ہوتا رہا تو ہسپتالوں پر بوجھ بڑھے گا، گھر سے باہر جاتے ہوئے ماسک استعمال کریں۔













