ریڈیو پاکستان , اعلی افسران کی عیش اور عیاشی ختم کیجائے، نور اظہر جعفری

0
1419

ریڈیو پاکستان ایک ایسا ادارہ ہے جو پاکستانی فوج کے بعد دوسرا پاکستان کے نظریے کی حفاظت کرنے والا ادارہ ہے یہ ایک تسلیم شدہ بات ہے جس کو دہرانے کی ضرورت تو نہیں ہے مگر اب ضرورت پڑ گئی ہے کیونکہ عمران خان صاحب کے وزیر ریڈیو پاکستان کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئے ہیں یہ وزیر مائکروفون اور کیمرہ پینشنرز کے بعد اب فنکاروں کے پیچھے آ گئے ہیں اور ریڈیو کے اعلی افسران کو یہ تجویز دے دی گئی ہے کہ وہ 60 سال کی ملازمت کے بعد ریٹائر ہونے والے کو دوبارہ ملازم نہ رکھنے کے فیصلے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مائیکروفون پر جو فنکار ہے ان کو بھی بے روزگار کر دے فنکار سالوں میں بنتے ہیں اور استاد کا درجہ رکھتے ہیں موسیقی کے فنکاروں کو تو آپ استاد کا درجہ دیتے ہیں اور انعام واکرام بھی عطا کرتے ہیں مگر نشریات کے بادشاہوں کو فقیر بنانے پر تلے ہوئے ہیں طویل عرصے تک مائیکرو فون پر خدمات انجام دینے والے استاد کا درجہ رکھتے ہیں اور ان سے سیکھ کر نئے لوگ بولنا سیکھتے ہیں زبان کو سمجھتے ہیں اور نشریاتی آداب سے واقف ہوتے ہیں مگر یہ چاہتے ہیں کہ انھیں دھکے دے کر میں کر فون سے دور پھینک دیا جائے اور نئے لوگوں کو وہاں لاکر اناپ شناپ نشریات کا آغاز کیا جائے

دنیا بھر کے ریڈیو اسٹیشنز اپنے سینئر بولنے والوں کا احترام کرتے اور انہیں آخری دم تک سہولیات فراہم کرتے ہیں یہ صرف ریڈیو پاکستان کو اعزاز حاصل ہو رہا ہے کے کسی نے سپریم کورٹ میں درخواست دے دی ہے اور فیصلہ آنے سے پہلے افسران نے فیصلہ کر کے پورے پاکستان کے ماہر نشریاتی لوگوں کو بےعزت کر دیا ہے ہم عمران خان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ریڈیو کے معاملات کو خود دیکھیں بے شک 60 سال کی نوکری کرنے کے بعد کسی کو ملازم نہ رکھیں فالتو لوگو کو ریڈیو سے نکالیں جو سیاسی طور پر بھرتی کیے گئے ہیں اور ریڈیو کے سینئر فنکاروں اناؤنسر اور کم پیرس کو دوبارہ مائیکرو فون پر بحال کریں تاکہ ریڈیو پاکستان کی باعزت نشریات برقرار رہے اور یہ کھیل تماشے بند ہوجائے اگر یہی حال رہا تو ریڈیو پاکستان راہنمائی کے بجائے تماشے کا اڈہ بن جائے گا جو کہ اس کے اعلی افسران اور وزیر صاحب چاہتے ہیں یہ ایک وارننگ ہے کہ ریڈیو کے لوگوں کو نہ ستائے وہ بولنا بھی جانتے ہیں اور لڑنا بھی جب وہ انڈیا سے لڑے تھے 1965 میں تو اپنے ملک میں دشمنوں سے لڑنا کوئی بڑی بات نہیں ہے ریڈیو ریڈیو کے ماحول کو خراب نہ کریں اور اسے عام ایف ایم نہ بنائے

یہ ملک کا ایک نشان ہے اور اعزاز ہے پنشنرز کے مسائل حل کریں بقایاجات ادا کریں موجودہ اسٹاف کی صورتحال ٹھیک کریں سیاسی بھرتیاں ختم کریں اور فی اسٹرکچر سے فائدہ اٹھا کر جو بیکار لوگ بھرتی کیے گئے ہیں انہیں فارغ کرکے اس کام پر لگائیں جوان کے لئے ٹھیک ہے بہتر یہ ہے کہ اس ادارے کو پی آئی اے اور اسٹیل مل بننے سے بچائیں قابل شرم بات یہ ہے اسٹیل مل اور پی آئی اے کے لیے اب بھی پیسہ موجود ہے مگر سالوں ملک کی خدمت کرنے والے پینشنرز کے لیے پیسہ نہیں ہے پروگرام کے لیے پیسہ نہیں ہے میڈیکل کے لئے پیسہ نہیں ہے اور دوسرے جو اخراجات واقعی ضروری ہے ان کے لیے پیسہ نہیں ہے اعلی افسران کی عیش اور عیاشی کے لئے سب کچھ موجود ہے اس کی تحقیقات کروائی جائیں اور مکمل طور پر ریڈیو کو سہولیات کے ساتھ قومی ادارہ بنایا جائے یہ بھی عمران خان کا ایک بڑا کام ہوگا کہ ریڈیو سے سیاست ختم ہوجائے گی
سید نور اظہر جعفری

SHARE

LEAVE A REPLY