ولادت باسعادت حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام
حضرت امام حسن کی ولادت پندرہ رمضان المبارک تین ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی آپ کی کنیت ” ابو محمد ” اور لقب ” المجتبیٰ ” ہے
ولادتِ باسعادت کی خوش خبری سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا تے ہیں اور کہتے ہیں
مجھے میرا بیٹا دکھاؤ
یہ نہیں کہتے کہ مجھے میرا نواسہ دکھاؤ
نبی پاک نے ان کے کان میں اذان دی اور خود ہی حسن نام رکھا اور یہ بھی فرمایا کہ
اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے حکم آیا ہے کہ جو ہم نے آسمانوں پر بچا کر رکھا ہے وہی اس بچے کا اسمِ گرامی ہے
کہا جاتا ہے کہ جنت سے ایک انتہائی خوبصورت کپڑا آیا جس پر جناب امام حسن اور امام عالی مقام حضرت امام حسین کا نام کندہ تھا
ولادت باسعادت کے ساتویں دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام حسن کا عقیقہ کیا دو بکرے ذبح کر کے خیرات کیے اور سر کے بال اتروا کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی خیرات کی
اس طرح امام حسن کے عقیقہ سے بچوں کے عقیقہ کے
اسلامی طریقے سے آگاہی ہوئی۔
امام حسن کے نا نا خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے
آپ کی نانی امہات المومنین حضرت خدیجہ تھیں
آپ کے والد حیدر کرار حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ ہیں
آپ کی والدہ خاتون جنت حضرت سیّدہ فاطمہ زہرا ہیں
آپ کی بہین حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہیں
آپ کے بھائی سید الشہداء امام عالی مقام حضرت امام حسین ہیں
کیسے بے مثل و بے نظیر، عظیم خانوادے میں آپ نے آنکھ کھو لی تھی۔
امام حسن شبیہ رسول تھے ، آقا کی ہو بہو تصویر تھے امام حسن کا چہرہ مبارک اور اندازِ گفتگو بالکل نبی پاک جیسا تھا آپ
نہ صرف صورت میں بلکہ سیرت میں بھی عکسِ رسول تھے
رخ مصطفی ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسرا آئینہ
نہ کسی کی بزمِ خیال میں نہ دکان آئینہ ساز میں
اقبال
آپ پہلے نواسے تھے نبی پاک اس شہزادہ سے بے حد پیار کرتے ان کا چہرہ اقدس چوما کرتے آپ کو سونگھتے ، اپنے کندھوں پر سوار کرتے اور سب کو بتاتے یہ میرا نواسہ مجھ سے بہت پیار کرتا ہے اور میں اس سے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں ہوتے اور دونوں شہزادے ،جنت کے پھول حسن و حسین نانا کی پشت پر آکر بیٹھ گئے پروردگار کے حکم پر آپ نے سجدے کو گو طویل کر دیا
حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے
ایک بار حضرت امام حسن علیہ السّلام خدمت اقدس میں آ کر حضور پر نور کے شانوں پر سوار ہوگئے۔ایک صاحب نے عرض کیا
صاحبزادے آپ کی سواری کیسی اچھی ہے
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
اور سوار کیسا اچھا سوار ہے
امام حسن کی عبادت وریاضت کا یہ عالم تھا کہ ساری ساری رات کھڑے رہتے یا ساری ساری رات سجدے میں رو رو کر اس طرح گذار دیتے کہ مصلی آپ کے آنسو وں سے تر ہو جاتا
آپ اتنے سخی تھے کہ خود بھوکا رہ کر غریبوں اور مسکینوں کا پیٹ بھرا کرتے تھے اکثر مدینے سے باہر رہا کرتے تھے اور جہاں جہاں پانی نہیں ہوتا تھا وہاں پانی کے کنویں کھودا کرتے تا کہ لوگوں کو میٹھا پانی میسر آسکے دریا دل اتنے تھے کہ سائل کے سوال کرنے سے پہلے ہی اسے عطا کردیا جاتا تھا آپ کو نہ جانے کیسے سائل کی ضرورت کی خبر ہو جاتی تھی
خلق خدا کی حاجت روائی کا یہ عالم تھا کہ حرم پاک میں طواف میں مصروف ہیں کہ ایک حاجت مند آگیا جناب امام حسن طواف ادھورا چھوڑ کر اس کی حاجت روائی کے لیے چل دیےاسی دوران آپ سے بغضو و عناد رکھنے والا ایک مخالف وہاں آگیا اور کہا کہ یہ کیا، کیا؟
آپ نے فرمایا مجھے اپنے نانا کی حدیث پاک یاد ہے
جو کسی حاجت مند کی حاجت پوری کرے گا اللہ اسےحج کا ثواب بھی دیتا ہے اور عمرے کا بھیج اور عمرے کا ثواب تو میں نے لے لیا ۔طواف کی قضاء باقی ہے
سواریوں کے ہوتے ہوئے آپ نے 25 حج پیدل کیے
لوگوں نے پوچھا کہ حضرت گھوڑے اور اونٹوں کے ہوتے ہوئے پیدل کیوں جاتے ہیں
آپ نے فرمایا
مجھے شرم آتی ہے کہ اللہ کے گھر کی طرف روانہ ہوں اور اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار ہو کر جاؤں
امام حلم و برداشت کا اوج کمال تھے جس کا اعتراف مروان جیسا بدترین دشمن بھی کرنے پر مجبور ہوگیا تھا۔
جب آپ کو زہر دیا گیا اور وصال ہو گیا تو مروان پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا جس نے ساری زندگی انہیں اذیت دی تنگ کیا بار بار زہر دلوانے کی کوشش کرتارہا اور تو اور آپ کے والد محترم حضرت علی المرتضیٰ کی شان میں گستاخانہ گفتگو کیا کرتا تھا
امام حسین نے اس سے پوچھا
آج تو رو رہا ہے ساری زندگی تو نے میرے بھائی کو ستا یا ہے
مروان کا جواب تھا
جتنا میں نے اس بندے کو تنگ کیا ہے اتنا اگر میں پہاڑ کو بھی تنگ کرتا تو وہ اپنی جگہ سے ہل جاتا مگر یہ بندہ تو پہاڑ سے بھی زیادہ حلم اور برداشت والا تھا
جنت کے دونوں شہزادوں ، حسنین و کریمین کے بارے میں حدیث پاک ہے کہ
جس نے ان سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اللہ سے محبت کی
حجت الوداع کے خطبہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
میں دو بہترین چیزیں تمہارے پاس چھوڑ کر جا رہا ہوں
قرآن و سنت
اور
اہل بیت رسول
جب تم ان دونوں سے تعلق رکھو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے
ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم اہلِ بیت اطہار سے محبت کریں اور ظلمتوں میں نور کے جو دیےانہوں نے روشن کیے ان نورانی روشنیوں سے اپنی زندگی کی راہوں کو منور کریں
زہدو تقویٰ ، اعلیٰ اخلاق و کردار، صبرو تحمل ، استقامت ، ایثار وقربانی ، حاجت روائی اور بڑے سے بڑے دشمن کو معاف کر نے کی جو شاندار روایات اہل بیت رسول نے قائم کیں ۔ آج ہمارا معاشرہ اسلام کے اس عظیم الشان ورثےسے یکسر محروم ہوتا جارہاہے
اللہ تعالیٰ ہمیں اہل بیت رسول کی راہوں پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے
تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا
تو ہے اہل نور تیرا سب گھرانہ نور کا














Beyshak ahlybait s mohabbat iman ka hissa h.