شوکت ترین نے جنرل فیض سے مداخلت کی تصدیق کر دی

0
618

سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے اپنے کرپشن کیس کے حوالے سے جنرل فیض سے سفارش کی تصدیق کر دی۔

ایک انٹرویو میں شوکت نے کہا اور جنرل فیض نے کبھی نہیں کہا کہ میں آپ کا یہ کیس جو ہے ختم کرادوں گا ، میں نے کبھی کسی کو یہ نہیں کہا کہ آپ جاکر میری طرفداری کریں میں نے صرف یہ کہا پرائم منسٹر نے مجھے اپریل 2019ء میں پہلے کہا میں نے کہا میں یہ جاب نہیں لوں گا جب تک میرے کیسز ختم نہیں ہونگے اب میرے کیسز ہیں مجھے کوئی ایفڈ ڈیفڈ چاہئے آپ صرف کورٹ کو کہیں یہ کیس چلالے کورٹ جیسے ہی چلائے گا کیس تو آپ کوپتہ چلے گا یہ خود بخود ہی ختم ہوجائیں گے ۔ صرف یہی میں نے کہا تھا کہ آپ کیس چلوادیں۔

اس سوال پر کہ باجوہ صاحب نے آپ کو وزیر خزانہ بنانے سے روکا تھا اور وزیر اعظم سے کہا سر یہ اپنا بینک نہیں چلا سکا یہ معیشت کا بیڑہ غرق کردے گا لیکن عمران خان نہیں مانے۔

شوکت ترین نے کہا کہ یہ بالکل صحیح ہے ہوسکتا ہے ، لیکن میں ان کو یہ کہوں گا کہ بینک تو میں نے بہت اچھے طریقے سے چلائے حبیب بینک کو تین سال میں نے ٹرن آراؤنڈ کردیا تھا ،یونین بینک میں 18ٹائم میں لوگوں کو پیسے دیدیئے تھے ،اور اگر سلک بینک میں کچھ کوتاہی ہوئی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں چلا نہیں سکا اس کی کچھ اور وجوہات تھیں

اس کالم میں جو ریمارکس ہیں میں نہیں سمجھتا کہ باجوہ صاحب نے دیئے ہوں گے لیکن اگر دیئے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے یہ کوئی اچھی بات نہیں کی سوچ سمجھ کر بات نہیں کی ۔

SHARE

LEAVE A REPLY