صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ایک صدارتی آرڈیننس کی منظوری دے دی جس کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کی خریداری کا پابند ہوگا اور آئندہ انتخابات میں بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنا حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے اہل ہوں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کے انتخابی اصلاحات کے معاملے پر اپوزیشن کو شامل کرنے کے لیے کابینہ کے اراکین کی ایک کمیٹی تشکیل دینے کے محض دو روز بعد ہی صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت انتخابات (دوسری ترمیم) آرڈیننس 2021 کا اعلان کیا۔

آرڈیننس کے ذریعے صدر نے الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 94 (1) اور سیکشن 103 میں دو ترامیم پیش کیں۔

دفعہ 94 (1) میں کی گئی ترمیم کے مطابق کمیشن (ای سی پی)، نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) یا کسی اور اتھارٹی اور ایجنسی کی تکنیکی مدد سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو عام انتخابات کے دوران اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے اہل بنائے گا۔

ترمیم شدہ دفعہ 103 میں کہا گیا کہ کمیشن (ای سی پی) عام انتخابات میں ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں (ای وی ایم) خریدے گا۔

اس حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے جواز پیش کیا کہ حکومتی اقدام کا مقصد الیکشن کمیشن کو ای وی ایم کے استعمال کے انتظامات کرنے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو آئندہ عام انتخابات میں بطور ووٹر بنانے کے لیے خاطر خواہ وقت فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے باور کرایا کہ 2018 کے عام انتخابات سے قبل ای سی پی نے یہ دلیل دی تھی کہ کمیشن کو اس طرح کے انتظامات کرنے کے لیے خاطر خواہ وقت نہیں دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اب ای سی پی کو آئندہ انتخابات سے قبل انتظامات کرنے کے لیے نادرا یا کسی اور ایجنسی کی مدد لینے کا موقع فراہم کیا جارہا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ایک ہسپانوی فرم پہلے ہی انتخابات میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ذریعے ووٹنگ میں آسانی پیدا کرنے کے لیے ای سی پی کو تکنیکی مدد فراہم کرنے میں مصروف ہے۔

وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ دونوں معاملات پر ای سی پی کو اعتماد میں لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے آرڈیننس جاری کیا ہے کیونکہ ہم نے اس کے بارے میں فیصلہ کیا تھا۔

جب یہ پوچھا گیا کہ جب آرڈیننس اپنی 120 دن کی آئینی زندگی مکمل کرنے کے بعد ختم ہوجائے گا تو کیا ہوگا؟ فواد چوہدری نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ سے ایک ترمیمی بل کی شکل میں اس کی منظوری حاصل کریں گے جس کے لیے مطلوبہ تعداد موجود ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے بغیر ہی انتخابی اصلاحات کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ وہ اس معاملے پر سنجیدہ نظر نہیں آتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اپوزیشن جماعتوں کو ‘بے نقاب’ کرے گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY