یہ دَین ہے خدا کی ملتی ہے جو آزادی عالم آرا
ہر پاکستانی کو وہ جہاں بھی رہتا ہے یومِ آزادی بہت بہت ،مبارک اللہ ہمارے ملک کو تا ابد قا ئم رکھے اور ہمیں ایک سچا اور اچھا پاکستانی بنانے بننے کی توفیق دے آمین
ہم اپنے ملک سے تھوڑے چھوٹے ہیں ۔جب سے ہوش سنبھالا اسے ترقی کرتے بھی دیکھا پروان چڑھتے بھی دیکھا ،بڑھتے بھی دیکھا گھٹتے بھی دیکھا ۔جڑتے بھی دیکھا ٹوٹتے بھی دیکھا ۔اس کے دکھ پر روئے بھی اور اسکی خوشیوں پر خوش بھی ہوئے۔ اس کے لئے دعائیں بھی کیں دنیا سے لڑے بھی ،ہم نے اسے بنتے بھی دیکھا بگڑتے بھی دیکھا ہم نے اسے پھلتے پُھولتے بھی دیکھا اور لُٹتے بھی دیکھا ۔پھلنے پھولنے کا زمانہ کم تھا لُٹنے کا ّعرصہ زیادہ تھا ۔لیکن کبھی ہم نے سیاسی قیادت کو ملک کے لئے بہرہ مند ہوتے نہ دیکھا ۔
ہم نے فوجی قیادتیں بھی دیکھیں اور سیاسی بھی۔
لیکن اگر حق بات کریں تو فوجی قیادت نے نقصآن کم کیا ،گو بعد میں بہت ساری غلطیوں کی نشاندہی کی گئی ۔لیکن سیاسی قیادت نے جس طرح ملک میں اجارہ داری ، اقرباء پروری ،خاندانی بالا دستی اور مفاد پرستی کو فروغ دیا وہ بس ان ہی کا خاصہ ہے ۔اور ہماری کمزوری کیونکہ عوام کبھی بک گئی اور کبھی بٹ گئی ،کبھی رُل گئی اور کبھی رُلادی گئی ۔لیکن اس میں اتنی طاقت نہیں چھوڑی گئی کہ وہ اپنے لئے اآواز اُٹھا سکتی ۔ ادارے بھی کسی نہ کسی طرح مصلحت کا شکار رہے ۔ کوئی ادارہ کبھی بھی ان طاقتوروں کے سامنے کھڑا نہ ہو سکا اور سنتے ہیں کہ اگر کبھی کسی نے کھڑے ہونے کی کوشش کی تو ایسا رگڑا لگایا کہ پھر کوئی ہمت نہ کر سکا ،یا خرید لیا گیا کیونکہ پیسے کی بہتات تھی امیروں کے لئے بیوروکریٹس کے لئے لیکن ملک کے لئے خزانے خالی بھی تھی اور قرضدار بھی قرضہ بھئ اتنا کہ الامان
ملک میں مافیاز نے جنم لیا ۔لاء اور آرڈر بھینٹ چڑھا عدل پنڈولم بن گیا ھائی کورٹس سمجھ سے باہر ہو گئیں اور پھر اللہ نے کچھ لوگوں کو کھڑا کردیا کہ وہ اس ملک کے حالات کو سمجھتے ہوئے اسے اس دلدل سے نکالیں جس میں پورا جسم نیچے تک پھنس چکا ہے صرف سَر باہر ہے کہ سانس لے سکو ۔
اور ایک مقدمہ بن گیا سربراہِ مملکت پر جو تیسری دفعہ اقتدار کے مزے لوٹ رہے تھے ،ان کی جائیدادیں سامنے آگئیں وہ جو تنخواہ کے نام پر کچھ نہ لیتے تھے لیکن کروڑوں خرچ ہوتے تھے اُن پر ،اُن کے علاج پر اُن کے دوروں پر ۔عدل جاگا اور اُس نے انہیں ڈھیر کر دیا کہ بس اب بہت ہوگئی ۔مگر ہم وہ بد نصیب قوم ہیں جسے انصاف نہیں ملتا ،سال بھر وہ ہمارے ہی پیسوں سے سیکیورٹی میں نیب جاتے آتے رہے پھر بیمار ہو گئے ایسے خطرناک بیمار کہ ھائی کورٹ نے نئی اآئی حکومت سے انکی زندگی کی ضمانت مانگ لی۔وہ مجبور ہوگئی کہ ایسی ضمانت تو کوئی بھی نہیں دے سکتا لیکن فیصلہ تھا کورٹ کا یہاں بھی انہیں بانڈ نہیں بھرنے دیا گیا اُن کے پیسے کو پوری طرح بچایا گیا لیکن کسی کے منہ سے بھاپ تک نہ نکلی ،کیونکہ چترائیت اتنی حاوی تھی کہ وہ مزے سے جہاز میں بیٹھ یہ جا وہ جا ،اور اُن جیسوں کو پناہ دینے والے ہمارے وہ دوست ملک جو اپنے کرپٹ آدمی کو پاتال سے بھی نکال لاتے ہیں لیکن ہمارے سارے مجرم وہاں عیش کرتے ہیں وہ نہ انہیں نکالتے ہیں نہ ان کے ویزے ختم ہوتے ہیں اور نہ ہی ہماری حکومتوں میں چاہے وہ کتنی ہی اچھی ہوں یہ دَم ہوتا ہے کہ اپنے ملزم وہاں سے لے آئیں چاہے ملک کو انہوں نے کتنا ہی نقصان پہنچایا ہو ۔
میرا ملک ان معاملات میں کمزور رہا اور اُسے کمزور رکھا گیا ۔علم سے عوام کو نابلد رکھا تاکہ وہ ایک مشین کی طرح ان سب کے ہاتھوں چلتے رہیں جو پرزہ خراب ہوا یا آواز نکالی اُسے بدل دیا یا نیست و نابود کر دیا اور عبرت کردی اُن کے لئے جو کبھی آواز نکالنے کی ہمت بھی کریں ،اور اس طرح جمہوریت کی آڑ میں بادشاہت چلی جس کا اعتراف بھی کیا گیا کہ ہم حکمران خاندان ہیں اور میرا ملک دو خاندانوں اور چند ایسی پارٹیوں میں تقسیم ہو گیا جنہوں نے کبھی عوام کے بارے میں سوچا ۔نہ ملک کے بلکہ دوسرے دوست ممالک کو فائدہ پہنچایا معاہد وں کے زریعے بڑے بڑے پراجیکٹ کے زریعے ۔اور وہ اس کے عادی ہو گئے کہ جہاں سے بھی ملے جیسے بھی ملے کماؤ ۔اور یہ ہی سوچ بھر گئی ہر زہن میں یہاں تک کہ کچھ نے تو کہہ دیا کہ کھاتے ہیں تو لگاتے بھی ہیں ،یہ ایسی منطق ہے جو آج تک ہماری سمجھ میں نہیں آئی ۔
پھر ہم نے ملزموں کو پھول نچھاور ہوتی کاروں میں جلوس کی شکل میں نیب اور عدالت جاتے دیکھا ۔ساتھ ہی عدل کی بے توقیری دیکھی ۔ججوں کو ملوث دیکھا ۔کورٹس کو عجیب وغریب فیصلے کرتے دیکھا مجرموں کو ضًانتیں ملتے دیکھا قانون کہیں بھی نہ نظر آیا نہ کوئی سخت سزا کا مستحق ٹہرا ۔پھر عدالتوں کو تھوڑا ہوش آیا لیکن انہوں نے پرانے اور بڑے مقدمے پھر بھی ہاتھ نہ لگائے اایک بچی اپنی ماں اور پھپو کے لئے انصاف مانگتی مانگتی بچپن سے جوانی کی منزل تک پہنچ گئی لیکن کسی نے نہ آواز اُٹھائی ۔نہ کسی بھی کان پر جوں رینگتی نہ دیکھی اور اس طرح بلدیہ ماڈل ٹاؤن اور سارے بڑے مقدمے لپٹے ہوئے ہیں کب کھلیں گے شاید کبھی نہیں ۔
۔اب پاکستان میں ایک ایسی حکومت اآئی جس کا خواب تھا کہ سب لُٹیروں سے پیسہ واپس لے گی اور کرپشن کا خاتمہ کرے گی اللہ مدد گار ہوا پیسہ تو ابھی تک نہیں ملا مگر بہت بڑے بڑے بُت گرے ۔وہ جن کے بارے میں کوئی تصور نہیں کر سکتا تھا کہ کبھی ڈھیر ہو سکتے ہیں ۔لیکن بھلا ہو سیاست کا اُس نے ان کو اتنا قوی کر دیا ہے کہ ایک خاتون کو نیب نے طلب کیا وہ پھولوں سے لدی کار میں اپنے ورکرز کےساتھ نیب کے سامنے پہنچیں پھولوں کی آڑ میں پتھر بھی اخباروں میں لپیٹ کر رکھ لئے اور پتھراؤ کر دیا نونیوں نے ۔کہتے ہیں پولیس نے پتھر مارے مان لیتے ہیں کہ پولیس نے وہ کام کیا جو آج تک دنیا کی کسی پولیس نے شاید ہی کیا ہو لیکن کمال یہ ہوا کہ بُلٹ پروف کار جس طرح ان پتھروں سے ٹوٹی وہ ورلڈ ریکارڈ ہے اور ساری دنیا کی بلٹ پروف کاروں اور گاڑیوں کے لئے لمحئہ فکریہ کہ ہمارے ملک کے پتھر گولیوں سے بھی زیادہ طاقتور ہین ۔
جھوٹ اتنا ہے کہ سچ سو پردوں میں چھُپ گیا ہے ۔حقیقت نہ میڈیا سامنے لاتا ہے نہ ادارے جو بھی ہو جائے دوسرے دن اُس پر اُوس ڈال دی جاتی ہے ۔اور یہ ہی وہ روئے ہیں جنہوں نے ہمارے ملک میں ملزموں اور مجرموں کو طاقت دے رکھی ہے ۔اور کوئی تہزیب یافتہ ملک ہوتا تو نہ تو ملزم اس طرح جاتا اور نہ ہی بغیر گرفتار کیئے ادارہ چھوڑتا مگر نہ جانے ہمارے ملک میں ملزموں اور مجرموں کو نہ پکڑنا سزا نہ دینا کیسی مصلحت ہے ۔عدلیہ خاموش ہے ۔
کیا ہمیں اپنے قوانین پر نظرِ ثانی نہیں کرنی چاہئے کہ ایسے قانون بنیں کہ ملک کی احتساب عدالتیں ،عدالتیں اور نیب ایک مستحکم اور طاقتور ادراہ بنیں اور کسی کی مجال نہ ہو کہ قانون کے خلاف چلے ۔مگر جب جج بِک جائیں انکی ویڈیوز نکل آئین لیکن تحقیق نہ ہو تو پھر کیا کہیں سوائے اس کے قائد ہم شرمندہ ہیں کہ پاکستان کو ویسا پاکستان نہ بنا سکے جیسا آپ نے چاہا تھا ۔
لیکن اب کچھ روشنی نظر آرہی ہے ہم وہ کچھ ہوتے دیکھ رہے ہیں جس کا تصور بھی نہیں تھا غریب کی داد رسی کی جارہی ہے ۔بچوں کی صحت کے بارے میں سوچا جا رہا ہے ۔اداروں کو مضبوط کرنے کی طرف رغبت نظر آرہی ہے ۔اگر اچھی قانون سازی بھی کر لیں تو بہت کچھ ٹھیک ہو جائے گا ،حکومتی ارکان بھی جواب دے رہے ہیں جو شاید پہلے کبھی نہیں ہوا ۔اگر اسی طرح ہر کوئی جواب دہ بنا دیا جائے تو بے ایمانی اور غلط طریقوں سے کمانے اور دولت کے ارتکاز میں کمی ہو جائے گی ۔کوئی برائی جڑ سے ختم نہیں ہوسکتی کیونکہ شیطان ہے اور تا قیامت اُسے مہلت دی گئی ہے لیکن کمی لازمی آسکتی ہے ۔ہماری دعا ہے کہ ہمارا ملک واقعئی اسلام کا قلعہ بن جائے ۔
لیکن ضرورت ہے اپنی کوتاہیوں کی طرف بھی دیکھنے کی ہم جب تک متحد ہو کر اچھائی اور سچائی کا ساتھ نہیں دیں گے ہم برکت نہیں حاصل کر سکتے ۔اللہ کا کتنا کرم ہمارے ملک پر ہوا کہ وہ وباء جس نے بڑی بڑی طاقتوں کو کمزور کر دیا اللہ نے ہمیں اُس میں بھی کمی کر کے اور ہماری دعاؤں کو قبول کر کے ہمیں کم سے کم نقصآن دیا لیکن یہ باتیں ہیں سوچنے سمجھنے کی ۔اس حکومت سے لاکھ اختلاف کر لیں لیکن جو اچھا کر رہی ہے اُسے اچھا ضرور کہیں تاکہ ہمتیں بڑھیں، اور ہم اپنے ملک کے لئے اللہ کی مدد سے کچھ اچھا کر سکیں
اللہ ہم سب کو ہی نیک ہدایت دے اور اپنے حفظ و امان میں رکھے فسادی لوگوں اور ان کی سوچ سے محفوظ فرمائے ۔
پاکستان زندہ باد آزادی پائندہ باد

SHARE

LEAVE A REPLY