کورونا اور اقوام متحدہ کی سنگین خاموشی؛ ڈاکٹر نگہت نسیم

0
1055

کورونا کی عالمی وبا کے تسلسل میں نظام حیات اس تیزی کے ساتھ بدلنے والا ہے کہ لولی لنگڑی حکومتیں لڑکھڑا کر گرنے لگ گئی ہیں ۔ ایمانداری سے دیکھا جائے تو تمام ممسلمان ریاستوں کے ستون گرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ اور جن کے ستون ابھی نہیں گرتے دکھائی دے رہے ہیں انہیں دھکا دے کر گرایا جارہا ہے ۔ اس وقت دنیا کے نقشے پر بظاہر خاموشی اور اندر پکنے والا لاوا یقیننا کچھ ماہ بعد پھوڑے کی طرح‌بہہ نکلے گا جس سے دنیا کی موجودہ صورت کچھ سے کچھ ہو جائے گی۔ دنیا میں جو کچھ کورونا کی عالمی وبا کے پہلے 100 دن میں ہوا ہے ۔ وہ یہ بتانے کو کافی ہے کہ ہر ملک کی بنیادی ثقافت ، سماجی رویے ، اعتقاد ، دینی فکر و فلسفہ ، اور معاشیات کو شدید دھچکہ لگا ہے۔

میں سمجھ رہی تھی کہ کورونا کی عالمی وبا کی وجہ سے دنیا میں ظلم و ستم کا خاتمہ ہوجائے گا اور بھائی چارے کی فضا قائم ہوجائے گی ۔۔ لیکن ایسا نہیں ہوا ۔۔ میرا خواب ادھورا ہی رہا ۔ کیا کسی کو نظر نہیں آ رہا ہے کہ یمن کی عوام بے انتہا غربت اور مظلومیت کے ساتھ سعودیوں ‌کی چھیڑی ہوئی جنگ لڑ‌رہے ہیں ۔۔ فلسطین کے مظلوم عوام اسرایئلی بارود کا نشانہ بن رہے ہیں ۔۔ امریکہ کس طرح‌سے ایران کے خلاف معاشی دہشت گردی کر رہا ہے ۔۔ بھارت کس طرح‌سے مقبوضہ کشمیر پر ظلم و ستم توڑ‌رہا ہے ۔ دکھ اور تکلیف کی بات اس سے بھی زیادہ یہ ہے کہ ان ملکوں کے انسان کورونا کی وبا سے بھی لڑ‌رہے ہیں اور بارود کی دہشت سے بھی نبردآزما ہیں ۔

ایسے وقت میں کیا دنیا کے باضمیر لوگوں کا فرض نہیں ہے کہ ظالموں کا ہاتھ پکڑا جائے اور انہیں روکا جائے ۔ لیکن صد افسوس کورونا نے عالمی ضمیر کی دھجیاں بکھیر دیں اور سارے ملک ایک ہی حمام میں ننگے ہو گئے ۔ سب سے زیادہ قابل مذمت کردار اقوام متحدہ کا ہے جس کی آواز شاید اس عالمی تنظیم میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو بھی سنائی نہیں دیتی وہ بھلا امریکہ ، اسرایئل ، بھارت اور سعودی عرب کو کیسے سنائی دیتی ۔ زمین اور زر کے اس کھیل میں جس طرح‌ دہشت گردی اور بارود سے کام لیا گیا ہے اس کے سامنے کورونا کی عالمی وبا بھی ہیچ ہے ۔

ابھی کہانی یہیں تک نہیں ہے بلکہ اس سے کئی قدم آگے ہے ۔ بین الاقوامی ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ اور دیگر ایجنسیوں کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق تقریبا 3 ارب افراد یا دنیا کی آبادی کا 39 فیصد حصہ ایسے ممالک میں رہائش پذیر ہے جہاں کی وہ شہریت نہیں رکھتے اور ایسے لوگوں کے لئے سرحدوں کو مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے ایئرلائنز روٹس کم کرنے پر مجبور ہوگئی ہیں اور سیاحت میں بھی تیزی سے کمی آئی ہے۔ اور یہ صورتحال کب تک رہتی ہے کوئی نہیں جانتا۔ مزید یہ کہ امریکہ کینیڈا سمیت کئی ملکوں میں زمینی راستے سے داخل ہونے والے پناہ گزینوں کی نہیں سنی گئی اور کئی پناہ گزینوں کی درخواستیں اور سروسز بھی معطل کردی گئی ہیں۔ ایکواڈور اور کئی وسطی ایشیائی ممالک سمیت کچھ ملکوں نے اپنے شہریوں اور رہائشیوں سمیت تمام افراد کے لیے سرحدیں بند کر رکھی ہیں۔ اندازا دنیا کے 27 کروڑ 20 لاکھ تارکین وطن کو مستقبل قریب میں بڑھتی ہوئی سفری پابندیوں اور چند کمرشل ایئرلائن فلائٹس کی وجہ سے وطن واپسی میں مشکل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

کورونا کے سو دن مکمل ہونے کے بعد سے کئی ہزار اموات ہو چکی ہیں اور لاکھوں افراد ایسے ہیں جو اس وائرس سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔ تاہم دنیا کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ اور عوام بالواسطہ طور پر اس وائرس کے پھیلنے کے سبب متاثر ہو رہے ہیں۔ حتی کہ نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ متاثرہ افراد کا علاج کرنے والے میڈیکل اسٹاف اور ڈاکٹر بھی علاج کرتے کرتے اس وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس وقت دنیا کے ایک سو پچانوے ممالک اس مہلک وائرس کا شکار ہیں جس کے باعث دنیا کا نظام اور تعلق بھی منقطع ہو چکا ہے۔ سیاسی وتجارتی تعلقات اور ہر قسم کے روابط محدود ہو کر رہ چکے ہیں، ہر کام ڈیجیٹل ذرائع سے انجام دینے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

کیا کسی کو اس بحرانی کیفیت میں یہ نظر آرہا ہے کہ کچھ ممالک اپنے مفاد کو یہاں بھی مدنظر رکھ رہے ہیں ۔ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریاں اپنی جگہ پر لیکن موجودہ صورتحال کی تباہ کاریاں ان سے کئی گنا زیادہ سنگین ہیں ۔

پہلے ہر ملک کے مسائل دیکھتے ہیں خاص‌طور پر ترقی پذیر ممالک کے مسائل یہ ہیں

ایک، آبادی
دو، تعلیم

تین ، تربیت
چار، معاشیات
پانچ، ملکی نظام
چھ ، ثقافتی، اعتقادی، دینی، فکری فلسفہ

یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے سائے میں عالمی سطح پر آبادی میں 11 کروڑ 16 لاکھ بچوں کا اضافہ ہو گا اور ان میں سے تقریباً ایک چوتھائی یعنی تقریباً دو کروڑ 90 لاکھ جنوبی ایشیا میں پیدا ہوں گے۔جنوبی ایشیا میں پیدا ہونے والے بچوں کی سب سے زیادہ تعداد دو کروڑ انڈیا میں پیدا ہوں گے۔ اس کے بعد پاکستان میں 50 لاکھ، بنگلہ دیش میں 24 لاکھ جبکہ افغانستان میں 10 لاکھ بچوں کے پیدائش متوقع ہے۔ آبادی بڑھنے کا اثر وسائل پر پڑتا ہے۔ تعلیم ،صحت، غذا اور رہائش سے متعلق اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، جب یہ بچے بڑے ہونگے تو انہیں ملازمتوں کی ضرورت ہوگی ۔ کیا پاکستان کی معیشت لاک ڈاؤن کے بعد پیدا ہونے والے 50 لاکھ بچوں کا بوجھ سہہ پائے گی؟؟‌

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی حالیہ رپورٹ کےمطابق ” کوویڈ‌ 19 کے بعد اقتصادی شرح نمو گذشتہ برس کے 3.3 فیصد نمو کے مقابلے میں منفی 0.5 فیصد تک ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں بے روزگاری، غربت اور بھوک میں اضافے کا خدشہ ہے۔ اس پر جب 2.4 فیصد کی شرح سے آبادی بڑھے جائے گی تو اس کامطلب یہ ہے کہ وسائل اور آبادی کے درمیان فرق 3 فیصد سے زیادہ ہو جائے گا۔”

ابھی حال ہی میں سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے ایک انٹرویو میں کورونا کے بعد کی صورتحال کا ذکرگہری تشویش کے ساتھ کیا جس سے مجھے اتفاق ہے کہ کورونا وائرس کی وبائی بیماری کے بعد دنیا پہلے جیسی نہیں رہے گی اور بحران کو حل کرنے میں ناکامی ” دنیا کو آگ لگا سکتی ہے۔” اور کسنجر نے جن تین مراحل کازکر کیا ہے وہ ناصرف ترقی یافتہ ممالک کی سلامتی کے لئے بلکہ ترقی پذیر ملکوں کی بقا کے لئے بھی ناگزیر ہیں ۔

۔ وائرس کا علاج یا ویکسین بنانا
۔ انفیکشن کنٹرول کے لئے نئی ٹیکنالوجیز تیار کرنا۔ جس کی کمی سے کورونا انفیکشن میں ہزاروں کی جانیں گیئں اور سماجی دوریوں اور سفری پابندیوں سے عالمی معشیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ۔
۔ کورونا کی وبا کے بعد پیدا ہونے والے معاشی بحران پر قابو پانا ۔۔

یہ سوچنے کی بات ہو گی کہ عالمی طور پر اس پر کیسے قابو پایا جائے گا ۔

مجھے لگتا ہے

1۔ کورونا کی عالمی وبا کے بعد ہماری خوشحالی کا انحصار اب عالمی تجارت اور ہجرت سے وابستہ ہو گا ۔
2۔ لوگوں کو اپنے گھر ، مقام اور نوکریوں کے محور بدلنے ہونگے ۔
3۔ آبادی پر کنٹرول کرنا ہوگا تاکہ وسائل کی کمی نہ ہونے پائے تاکہ بچوں کی مناسب تعلیم و تربیت اور ملازمتوں کا انتطام ہو سکے۔

اس پیش منطر کے پس منظر سے اٹھنے والے سازشی مفروضات منظر کی سنگینی کو پس منظر میں ڈالنے کی سر توڑ‌کوششوں میں ہے ۔ ان تھیوریز سے الجھ کر دنیا کے جابر حکمرانوں کے چہرے سے جو نقاب اتر رہاتھا اسے بچایا جا رہا ہے ۔۔۔ اس ساری صورتحال میں چین واحد ملک ہے جو کورونا سے متاثر ہونے کے باوجود اپنی بہتر معشیت کی وجہ سے سیاسی اور اقتصادی دونوں میدانوں میں اپنی مرضی کا کھیل سکے گا ۔

اقوام متحدہ کی سنگین خاموشی سے امریکہ ، اسرایئل ، بھارت ، سعودی عرب کو جو ڈھیل مل رہی ہے اس کے دور رس نتائج غربت اور افلاس کی شکل میں نظر آ رہے ہیں ۔ یوں لگ رہاہے جیسے کورونا کی عالمی وبا نے ظالموں اور فاسقوں کو ترقی پذیر ملکوں کو حالت جنگ میں رکھنے کے لئے نئے رخ سے متعارف کروایا ہے ۔۔ یعنی میدان جنگ بدلا ہے لیکن جنگ کا ارادہ ترک نہیں کیا ۔

دیکھنا یہ ہے کہ عالمی سطح پر دنیا کے امن کی ضامن اقوام متحدہ اور اس سے منسلک امن سلامتی کمیٹیاں اور پارٹیاں ایسا کیا کر پاتی ہیں کہ جس سے اس معاشی بحران میں انسانوں کی صحت اور سلامتی ممکن رہ سکے ۔

سب سے زیادہ مشکل وقت ان قوموں پر آنے والا ہے جہاں پر بنیادی سہولتیں میسر نہیں ہیں اور لا اینڈ ‌آرڈر کی حالت بھی مخدوش ہے ۔ جس میں پاکستان سرفہرست ہے جہاں “‌سایئلنٹ‌کو “ یعنی خاموش عسلری قبضہ ہے ” ہے اور جمہوریت کی دھجیاں سرعام اڑ‌رہی ہیں ‌۔ مجھے یہ بھی ڈر ہے کہ آنے والے وقتوں میں کہیں یہ تمیز مشکل نہ ہو جائے کہ دنیا میں بھکاری زیادہ ہیں یا ڈاکو۔۔

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY