اور آفتاب غروب ہو گیا۔۔مگر آفتاب بھی کبھی غروب ہوتا ہے؟؟؟ سید امین حیدر شاہ

1
1193

لوگ کہتے ہیں کہ بچے کے نام اور بُرج کا اُس کی شخصیت پر بہت اثر ہوتا ہے۔ اپنے اِرد گِرد جائزہ لیا تو یہ بات سچ ہی ثابت ہوئی۔ ہماری چھوٹی بیٹی کا نام وانیہ ہے جِس کے معنی خدا کا تحفہ ہے۔ جب سے آئی، ہمیں اپنا اینٹوں کا مکان گھر لگنے لگا جہاں وہ ہماری دفتر سے واپسی پر روزانہ باہنیں کھولے ہمیں گلے لگاتی ہے۔ اور اُس کا بُرج ہمارے والا بُرج عقرب ہے تو وہ بھی ہماری طرح بلا کی جذباتی بھی ہے اور غصہ بھی ہمیشہ اُس کی ننھی سی ناک پر رہتا ہے۔

بابا نے ہمارا نام امین رکھا تھا اور اماں نے حیدر جو مِلا کے امین حیدر بنا۔ گویا اِسی لئے ہم جنگجو، ذہین، شِدت کی حد تک اصول پسند اور جلالی تو رہے مگر منافقت اور دوسروں کے خلاف سازش کرنے میں آج تک بُری طرح ناکام رہے۔

بابا نے بھی اپنے نام کو بھرپور نِبھایا۔ اُن کا نام آفتاب تھا تو وہ بھی جیتے جی پورے مُلک میں نہ صِرف آفتاب کی طرح چمکے بلکہ اپنی گرمائش اور گرم جوشی سے لوگوں کو بھرپور فائدہ پہنچایا۔ اپنی ۳۵ سالہ سروس میں لگ بھگ ۴۵۰ لوگوں کو بِلا حرص سرکاری ملازمت میں بھرتی کروایا یعنی کہ ۴۵۰ خاندانوں کا وسیلہ روزگار بنے۔ ۸۸ لوگ تو ہماری آنکھوں کے سامنے اپنے آخری محکمے میں بھرتی کئے۔ سڑکیں بنوانا،علاقے میں گیس پہنچانا، بجِلی پہنچانا، زیمنداری کے امور اور لوگوں کے ان گنت کام اور نہ جانے کیا کیا: کوئی بھی اُن کے پاس مدد کے لئے آیا تو کم از کم ہمارے سامنے تو خالی ہاتھ نہیں گیا۔

ہاں وہ بھی ہماری طرح جلالی طبیعت کے مالِک تھے: ظاہر ہے، ہمارے والِد جو ٹھہرے اور نام آفتاب کا اثر بھی رہا۔ لیکن بُرج میزان تھا تو توازن بھی کمال کا تھا۔ چونکہ ہمارا معاشرہ احسان فراموشوں، منافقین اور موقع پرستوں سے بھرا پڑا ہے تو بابا کو آئے دِن ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا جو مطلب پورا ہونے پر طوطا چشمی کا بھرپور مظاہرہ کرتے تھے۔ مگر مجال ہے کبھی انتقام لیا ہو! بس ایسے لوگوں کو کہتے تھے “جا موج کر فقیرا!” اور ہم نے اکثر قدرت کا اصول عملاً ہوتے ہوئے دیکھا کہ جو بھی “آفتاب” سے ٹکرایا، بالاخر اُسے ہم نے راکھ ہوتے ہی دیکھا۔

سروس کے حوالے سے وہ اپنے باقی فرسٹ کامن کے ڈی ایم جی کے ساتھیوں کی طرح ۲۲ گریڈ اور اِتنی زیادہ “تگڑی پوسٹنگز” نہیں لے پائے اور انہیں محض ایک بار اِس بات پر ہم نے افسوس کرتے دیکھا۔ لیکن جیسے انہوں نے جابر لوگوں کے آگے کلمہِ حق کہا، قانون کے مطابق کام کیا، عام عوام کی خدمت اپنی بساط سے بڑھ کر کی، چاپلوسی سے اجتناب تو کیا اُس سے بڑھ کر اُس کی کھُلے عام مذمت کی، سول سروس کی روایات کی پاسداری کی، جونئیرز پر شفقت رکھی، احساس کرنے والے باس رہے، بدمعاش طبقات کو آڑے ہاتھوں لیا، اپنے والدین، بچوں، بہن بھایئوں، دوستوں، اقربا، علاقائی لوگ، سروس کے ساتھی، احباب اور شناسائوں کو جو سہولیات اور جو سہارے میئسر کئیے، اور جو بھرپور زندگی جی، ہمیں نہیں لگتا اُنہوں نے گریڈ ۲۲ گنوا کر کہیں سے بھی گھاٹے کا سودا کیا۔کئی ۲۲ گریڈ کے خاموشی سے وِدا ہو گئے جبکہ بابا کے لئے ہزاروں نم آنکھیں اُن کے اِس شعر کے عکاسی کرتی ہیں:

خُدا کی خلق پر جو مہربانی کی نظر رکھے
وہ مِل جاتا ہے مٹی میں مگر فانی نہیں ہوتا

غم میں ڈوبے اور پُر نم آنکھوں کے ساتھ ہم اِس بات کا با ہوش و حواس اقرار کرتے ہیں کہ بابا کا پیار تو سب بچوں سے ہی بہت تھا مگر جِتنا دِل اُن کا ہمارے لئے دھڑکتا تھا، اِتنا کِسی اور کے لئے نہیں دھڑکتا تھا اور یہ بات اُن کے تمام ساتھیوں اور پورے خاندان کے سامنے ایک کھُلی کتاب ہے۔ اُن سے ہمارا بیٹے کا رشتہ کم اور دوست کا رشتہ زیادہ تھا۔ شاید اِسی لئے وہ ہمیں اپنی زندگی کی وہ باتیں بھی بتا جاتے تھے جو ایک باپ اپنے بیٹے کو بتاتے دس بار سوچے۔ ہم بھی اُس بات کو ایسے سُن کر دفن کر دیتے جیسے کچھ ہوأ ہی نہیں کیونکہ ہم دونوں “دوستوں” کے بیچ طے تھا کہ جب سیدھی اور سچی بات بتا دی جائے گی تو اُس پر ایک فریق دوسرے کو جج نہیں کرے گا۔

تاہم باجی اور بھائی کو بھی اُنہوں نے بے حد آسائشیں فراہم کیں مگر ہمیں تو اُنہوں نے شہزادوں کی طرح رکھا۔ جو جو معیار زِندگی لوگ سپنے میں سوچ سکتے ہیں، اُس سے بڑھ کر ہم نے بابا کے توسط سے جیا۔ یہاں تک کہ لوگ ہم پر رشک سے لے کر حسد کی نگاہ رکھتے تھے۔ وہ ہمیشہ ہمیں “میرا شہزادہ” کہتے تھے اور میرے مختلف سینئیرز کو مجھے بِنا بتائے فون کر کہ اکثر کہتے تھے کہ “حیدر میرا شہزادہ ہے، اِسے میں نے شہزادوں کی طرح رکھا ہے، اگر اِس کو تم نے تنگ کیا تو تمہاری خیر نہیں”

ہم بھی اکثر جب دفتری ماحول کی منافقت اور انا پسندی سے مقابلہ کرتے تھک جاتے تو بابا کو فون کرتے۔ وہ کہتے “تُو تو میرا شیر ہے، اور امین بھی ہے، تجھے کِس کا ڈر۔ اول تو معاف کر دے اور اگر قابلِ معافی نہیں سمجھتا تو جا سب کو کھڑکا دے۔ آفتاب احمد شاہ ابھی زندہ ہے” ۔ ہم بھی جب اِس منافقت زدہ اور ہراسگی زدہ ماحول میں جب طیش میں آتے تو ہمارے پہلے الفاظ ہی یہی ہوتے تھے کہ “میں ایک دلیر افسر باپ کا دلیر افسر بیٹا ہوں” افسوس کہ اب اِس منافقت کا مقابلہ ہمیں تا دمِ مرگ اکیلے کرنا ہو گا!!

بابا کی حیاتی میں بھی لوگ ہمیں اُن کا ہی عکس کہتے تھے اور ہم دونوں بھی اِس بات کو کافی حد تک تسلیم کرتے تھے۔ ایک جیسا جلالی مزاج ہونے کے ناطے ہماری تین بار بہت بری لڑایاں بھی ہوئیں جہاں ہم دونوں نے ایک دوسرے سے اظہار لاتعلقی تک کا سوچا۔ مگر خون تو خون ہے۔ چند ماہ الگ رہنے کے بعد ایک دوسرے سے معافی مانگ کر پہلے کی طرح ہو جاتے۔ ہم دونوں کا رشتہ جلیبی کی طرح تھا؛ ٹیڑھا، میٹھا مگر اول و آخر تک جُڑا ہوأ۔

ہم انہیں غیر سنجیدہ کہتے تھے اور وہ ہمیں معاملات کو حد سے زیادہ سر پر سوار کرنے والا سمجھتے تھے۔ جب بھی ہم پوچھتے تھے کہ آپ نے زندگی کی پلاننگ باقی ساتھیوں کی طرح کیوں نہ کی تو جواب دیتے کہ میں اللہ کا فقیر ہوں، اُس سے اچھی منصوبہ بندی کون کر سکتا ہے ۔

واقعی، اللہ کی پلاننگ اُن کے آخری سفر میں بھی کمال تھی۔ اُن کی خواہش کے مطابق اُنہیں لاہور سے آبائی گاؤں بلوایا۔ اُنہیں ۲۳ رمضان کی رات ڈرائیور ہوتے ہوئے بھی گاڑی میں ایک اور ملازم سمیت ڈرائیونگ سیٹ پر بِٹھایا اور اُسی گاڑی میں ایک گیئر لگاتے ہی چند مِنٹوں میں اُنہیں بِنا کِسی محتاجی کے اِس دُنیا سے اُس دنیا میں بُلوا لیا۔ ہماری نظر میں وہ ریورس گئیر غلط لگا مگر لگتا ہے کہ اللہ نے اُسی کو اِس دنیا کا ریورس گئیر بنا کر اُنہیں فاروڈ کر دینا بہتر سمجھا۔

باباہمیں اپنا مضبوط، جِگرے والا اور ہمت والا بچہ کہتے تھے اور ہمیشہ رونے سے منع کرتے تھے کیونکہ وہ ہماری نم آنکھیں نہیں دیکھ سکتے تھے۔ ہم نے اُن کی آنکھوں کو دیکھا اور کافی دیر اُن کی پیشانی سہلاتے رہے کہ شاید ابھی جاگ جائیں گے مگر اُن کے چہرے کی بدستور ٹھنڈک نے اعلان کر دیا کہ اب وہ ایک نئی دنیا میں بچہ بن کر دادا ابو اور دادی اماں کے پاس چلے گئے ہیں اور اب اِس دنیا کی سیٹ معین بھائی اور ہمارے حوالے ہے۔

بابا کہتے تھے کہ تو جتنا بھی لاہوری یا سرگودھے کا ہو جا، میں تجھے ملکوال سے باندھ کر رہوں گا اور یہ کام بھی اُنہوں نے وصیعتاً اپنی تدفین وہاں کروا کر یقینی بنا دیا۔ وہ اپنے بابا کے پاس چلے گئے اور اُن کا عکس ہماری شکل و صورت اور حرکات میں یہیں باقی ہے۔

ہمارا آفتاب غروب ہو گیا۔ مگر بھلا آفتاب بھی کبھی غروب ہوتا ہے۔ یہ بات تو سائنس بھی کہتی ہے کہ آفتاب ساکت ہے اور زمین اُس کے گرد گردش کرتی اور گھومتی ہے۔ آفتاب اگر سچ میں غروب ہو جائے تو قیامت آ جاتی ہے۔ ہماری زندگی میں تو فی الوقت قیامت ہی برپا ہے مگر اِس دنیا کا چلنا اِس بات کی دلیل ہے کہ آفتاب غروب نہیں ہوأ۔

بس زمین کا یہ حصہ اُس کی نگاہوں سے اوجھل ہوأ ہے سو یہاں اندھیر نگری کے اندھیروں میں بھٹکتا ایک شیر اب معاشرے کے لگڑ بھگوں اور بھیڑیوں سے اکیلے لڑتا لڑتا تھک گیا ہے اور آفتاب کی روشنی کے سہارے کے بِنا ہارا ہوأ بیٹھا کِسی ساتویں سِمت کی تلاش میں ہے۔ جبکہ آفتاب آسمان پر بیٹھا کِسی اور دنیا، کِسی اور خطے میں ابھی بھی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا ہے اور اپنی گرمائش بانٹ رہا ہے ۔

وہ جاتے جاتے اِس جنگجو حیدر کو یہ بتا گیا کہ آگے بڑھو؛ کیونکہ

جیون کا یہ کھیل تماشہ یونہی چلتا رہتاہے
دِن پھرتے ہیں لوگوں میں اور وقت بدلتا رہتا ہے

SHARE

1 COMMENT

  1. بہت عمدہ انداز تحریر ایک عظیم باپ کے عظیم بیٹے کے قلم سے رب کریم شاہ صاحب کے درجات بلندتر فرماۓ
    جوار رحمت عالمین

LEAVE A REPLY