جی چاہتا ہے کہ زائچہ نکلوا کے دیکھا جائے کہ فواد چوہدری کو کیا بچپن میں ریڈیو پاکستان کے بچوں کے پروگرام میں شرکت سے انکار کیا گیا تھا جو ان موصوف کی دشمنی اس قومی ادارے سے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔ پہلے بھی جب دوہزار اٹھارہ میں وہ وزیر اطلاعات تھے تو انہوں نے ریڈیو ملازمین پر عرصہ حیات تنگ کیا تھا اور اب پھر دوسری مرتبہ پسر احمد فراز ش بلی کے بعد جب وہ وزیر اطلاعات بنے ہیں تو کمال ہے کہ پرنالہ وہیں ہیں اور انکی ترجیحات کا اندازہ لگائیں کہ آتے ہی انکی رال ریڈیو کی زمینوں پر ٹپکنے لگی ہے اور موصوف نے اپنے پر پھیلانے شروع کر دیئے ہیں
مجھے معلوم ہوا کہ گزشتہ دنوں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اپنے خصوصی ماتحتوں کے ساتھ بریفنگ کے نام پر ریڈیو صدر دفتر پر حملہ آور ہوئے ۔ اس دوران موصوف کی تمام تر دلچسپی ریڈیو میں اصلاحات اور جدت کی بجائے اسے بیچنے پر مرکوز تھی ۔ انھیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ بھارت نے پراپیگنڈے کے محاذ پر پاکستان کو چاروں جانب سے گھیر لیا ہے، اب جی ٹی روڈ پر سفر کے دوران ریڈیو پاکستان کے سٹیشنوں کی بجائے بھارتی ایف ایم سٹیشن سنائی دیتے ہیں ۔ بھارت نے ڈی آر ایم ٹیکنالوجی کے ذریعے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں 20 سے زائد سٹیشن اور 40 سے زائد ٹرانسمیٹر چوبیس گھنٹے اپنے بیانئیے کا ڈھول پیٹنے میں مصروف ہیں لیکن تبدیلی سرکار کی اول و آخر ترجیح اپنے اداروں کا گلا گھونٹنا ہے ۔ پاکستان میں صورتحال اب یہ ہوچکی ہے کہ اب کوئی دن جاتا ہے کہ حضرت قائد اعظم اور علامہ اقبال کے مزار بھی کمشن مافیا کی زد میں آنے والے ہیں ۔
دراصل پاکستان ھاوسنگ سوسائیٹیوں کے مالکان اور ان کے کمشن ایجنٹوں کے نرغے میں ھے۔
زلفی بخاری تو صرف ایک مثال ہے جس کا برطانیہ میں پراپرٹی اور لینڈ ڈویلپمنٹ کا بزنس ہے جسے وہ اپنے فنٹ مینز کے ساتھ پاکستان میں جاری رکھے ہیں اور اسی طرح ہر دوسرا آدمی اس حکومت کا آڑھتی مزاج ہے
اسلام آباد رنگ روڈ دراصل اس سارے کھیل کا چھوٹا سا حصہ ہے، ان سب کی نظریں ایسی قیمتی زمینوں اور عمارتوں پر ہے جو سرکار کی ملکیتی ہیں اور جنہیں بیچ کر دام کھرے کئیے جاسکیں ۔ فواد اور اس قبیل کے دوسرے لوگ اصل میں کمیشن ایجنٹ ہیں جو مختلف حیلے بہانوں کے ذریعے یہ قیمتی زمینیں اور عمارتیں کوڑیوں کے بھائو اینٹھنا چاہ رہے ہیں۔
موصوف کے خیال میں ریڈیو پاکستان جیسے اداروں کو اصلاحات اور جدت کی ضرورت ہے اور یہ مقصد صرف اور صرف ان اداروں کے اثاثے بیچ کر حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ اصلاحات کی آڑ میں یہ لوگ ہر چیز بیچنا چاھتے ہیں تاکہ اپنا کمشن کھرا کرسکیں۔
انہیں اس بات سے غرض ہی نہیں کہ قومی ادارے کیا ہوتے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ فواد اور دوسرے حواری گدھوں کی نظریں ریڈیو پاکستان کے صدر دفتر، روات ایچ پی ٹی ون کی زمین، لاہور، کراچی اور حیدرآباد میں واقعی ریڈیو کی عمارتوں اور زمینوں پر ہے ۔ وزارتوں میں بیٹھے بابو اپنے پلاٹوں، گریڈوں اور ترقیوں کے چکر میں ہر وہ کام کرنے پر آمادہ ہیں جو بے غیرتی اور ذلت کی ہر تشریح سے ثابت ہے ۔
قومی اداروں کو نقصان پہنچانے والے ان لوگوں کو یہ اندازہ نہیں کہ ان ہی جیسے لوگوں کی کھوپڑیاں قبرستانوں میں راہگیروں کے جوتوں کی زد میں رہتی ہیں۔ کیا یہ ملک دشمنی نہیں اور کیا اسی کا نام نیا پاکستان ہے؟
صفدر ھمٰدانی













