افغانستان سے انخلا پر پچھتانا پڑ سکتا ہے، سابق امریکی جنرل پیٹریاس

0
624

امریکہ کے سابق چوٹی کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے کہا ہے افغانستان سے امریکی فوجی انخلا کے فیصلے پر پچھتانا پڑ سکتا ہے کیونکہ وہاں ،ان کے بقول، ایک بار پھر خانہ جنگی لوٹ سکتی ہے۔

وائس آف امریکہ کی افغان سروس کو دیئے گئے انٹرویو میں سابق امریکی جنرل نے کہا ہے کہ امریکہ کے خصوصی مندوب برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد کی بہترین سفارتی کوششوں اور دیگر متعدد اقدامات کے باوجود افغانستان میں انتہا پسندی بڑھنے کے خدشات موجود ہیں۔

جنرل ڈیوڈ ایچ پیٹریاس ماضی میں افغانستان میں امریکی و اتحادی افواج کی کمان سنبھال چکے ہیں اور امریکہ کی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں۔

انہوں نے افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کے کانگریس کی کمیٹی کے سامنے شہادت میں بیان کی گئی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ زلمے خلیل زاد کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے قائل ہیں اور ان کے ساتھ عراق میں کام کر چکے ہیں۔ لیکن جنرل پیٹریاس کا کہنا تھا کہ ایسی کوششوں کے باوجود خدشہ ہے کہ افغانستان میں انتہا پسند گروپ اپنی محفوظ پناہ گاہیں بنا سکتے ہیں۔

گزشتہ پیر کو ​افغانستان کیلئے امریکہ کے خصوصی ایلچی، زلمے خلیل زاد نے امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سامنی ایک شہادت میں کہا تھا کہ ایسی پیش گوئیاں غیر ضروری طور پر منفی ہیں کہ جب امریکی اور اتحادی افواج افغانستان سے نکل جائیں گی تو طالبان جلد ہی افغان سیکیورٹی فورسز کو شکست دے کر کابل پر قبضہ کر لیں گے۔

سماعت میں زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ وہ ذاتی طور پر سمجھتے ہیں کہ افغان فورسز کے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے اور طالبان کے قابض ہونے کے بارے میں بیانات غلط ہیں

کیا طالبان واپس آ سکتے ہیں؟
جنرل پیٹریاس نے افغان سروس کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ طالبان کسی بامقصد، قابل توثیق اور پائیدار معاہدے کے لیے سنجیدہ ہیں، جو شراکت اقتدار کے کسی بندوبست کی طرف لے جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان نے وہ سب کچھ حاصل کر لیا ہے، جو وہ مذاکرات سے حاصل کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے اپنے راہنماؤں اور اپنے جنگجوؤں کو جیلوں سے رہا کرا لیا ہے اور اب وہ امریکہ کو افغانستان چھوڑنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ ہمارے اتحادی بھی افغانستان چھوڑ جائیں گے۔

ان کے بقول، سیکیورٹی کا ایک فقدان ہو گا جس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ کئی لوگ اپنے تحفظ کی ذمہ داری اپنے قبیلوں، نسلی گروہوں اور مذہبی وابستگیوں پر چھوڑ دیں گے۔ اور آپ ایک بار پھر افغانستان میں ایک خانہ جنگی کی سی صورتحال دیکھ سکتے ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY