تیڈی راہ بھلیندیں وے ماہیا میکوں شام تھی گئی
1998 میں مڈل کا امتحان پاس کرنے کے بعد مجھے کائنات کی شفیق اور مہربان ہستی میرے والد محترم نے قران مجید کی تجوید پڑھنے کے لئے اپنے خالہ زاد بھائی مولانا محمد سلیمان خان چنگوانی کے ساتھ کراچی روانہ کیا جو اس وقت کراچی میں تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ سلیمان خان رشتے میں میرے بہنوئی بھی ہیں۔ ان دنوں ڈیرہ غازی خان سے کراچی ائیرکنڈیشنڈ بس ہی ایک لگژری سفر کی سہولت ہوا کرتی تھی۔ ہم مانہ احمدانی سے بس پر بیٹھے جہاں ابو جان اور بھائی صاحبان نے ہمیں روانہ کیا۔ ابو جان سراپا محبت تھے۔ انتہائی حساس اور مشفق ترین ہستی تھے۔ باپ اور بیٹے کی محبت سے ہٹ کہ ان کی عوام الناس اور تمام انسانوں سے محبت کو الفاظ میں ڈھالنا ممکن ہی نہیں۔ آج بھی ان کی وفات کے دس سال بعد بھی جب لوگ ان کا تذکرہ کرتے ہیں تو ان کی محبت کو یاد کرکے لوگ رو پڑتے ہیں کہ اتنا مہرباں انسان زندگی میں ہمیں کبھی نہیں ملا۔
شام پانچ بجے بس روانہ ہونی تھی مانہ احمدانی اڈے پر آکر رکی تو سارا عملہ نیچے اتر آیا کیونکہ بھائی جان عرفان خان ٹرانسپورٹر ہیں۔ عمومی طور پر بس انتظار نہیں کیا کرتی مگر فیملی کے احترام اور ابا جان کی موجودگی کے سبب کافی دیر بس رکی رہی۔ ابو جان ازخود مجھے بس کی سیٹ تک دعاؤں کے حصار میں چھوڑنے آئے اور بہت دیر تک آپا جان کے اور میرے سر پر ہاتھ رکھ کے دعائیں پڑھتے رہے اور بار بار باجی کو کہتے رہے ” میرے یار کا ، میرے نعمان کا خیال رکھنا۔
مجھے شوق تھا کراچی جا کے قرات پڑھنے کا اور نامعلوم کتنے کرب اور “مونجھ” سے دل پر پتھر رکھ کر ابو جان مجھے روانہ کر رہے تھے کیونکہ پیکر محبت و الفت کو ساری اولاد بہت عزیز تھی مگر میرے ساتھ شاید انہیں محبت کی انتہا تھی۔
بس روانہ ہوئی تو میں بہت خوش تھا کہ کراچی گھوموں گا پھروں گا مگر صبح جب ہم کراچی جیسے بڑے شہر میں اترے تو میرے دل کی دنیا ویراں تھی یوں لگتا تھا کہ متاعِ دل و جاں لٹ چکی ہے۔ یوں ہر لمحہ مجھے ابو جان کی محبت پل پل بے چین کئے رکھتی کیونکہ میرا تو معمول تھا کہ میں آٹھویں جماعت تک بھی ابو جان کے ساتھ ان کے بازو پہ ہی سویا کرتا تھا۔
پی ٹی سی ایل فون کا دور تھا وہ بھی بہت کم اور عمومی رابطہ کے لئیے خط ہی موثر ذریعہ تھے۔ مجھے یاد ہے جب پہلی مرتبہ ابو جان کا خط آیا تو نقشہ کشی کے مصور ابا جان نے خط میں وہ سماں باندھ دیا کہ آپا جان خط پڑھتی جاتیں تھیں اور میں تو رو رو کے نڈھال ہوگیا تھا۔ باجی نے خط آدھا پڑھ کر رکھ دیا تھا مگر میں روتے روتے گھر سے باہر نکل گیا تھا۔ جامعہ ستاریہ میں قرات کی کلاس پڑھنے جاتا وہاں پر بھی ابو جان اور بھائی جان سلیمان خان کے جاننے والے سبھی لوگ میرا بہت خیال رکھتے اور بھائی جاں سلیمان خان بھی ہر روز میرا دل بہلانے کے لئے مجھے کہیں نہ کہیں سیر و تفریح کیلئے لے جاتے مگر ایک ابو جان کی یاد تھی جس نے جینا محال کر دیا تھا۔ روازنہ رات کو گھر آکر کمرے میں خود کو بند کردیتا اور ابو جان کا خط پڑھتے پڑھتے حالت یہ ہو جاتی کہ
کہوں کیا دل کی کیا حالت ہے ہجر یار میں غالب
کہ بے تابی سے ہر یک تار بستر خار بستر ہے !
خط پڑھ پڑھ کے سوچتا کیسے چھوٹا بھائی امی کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کرتا ہوگا، ابو اس وقت کیا کر رہے ہوں گے، چھوٹی بہن جس کے ساتھ لڑنا معمول تھا اس وقت کیا کررہی ہوگی؟ اور پھر ابو جان نے مومن خان مومن کی نظم کو کچھ اس انداز میں تبدیل کر دیا تھا کہ سارے گھر کا نقشہ سامنے آجاتا تھا
تمھیں یاد ہو کہ نا یاد ہو مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا
وہ ہر ایک بات پہ اڑنا تیرا ، محسن سے بھی لڑنا ترا
نکہت پہ طعن اٹھکیلیاں تمھیں یاد ہو کہ نا یاد ہو
مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا
بہت لمبی چوڑی نظم تھی جس میں گھر کے تمام معمولات کو ابو جان نے لفظوں میں جکڑ کے رکھ دیا تھا۔
جو حال میرا تھا ابو جان کی محبت میں ادھر ان کا بھی وہی حال تھا، بمشکل دو ماہ مکمل ہوئے تو میں نے نے باجی سے کہ دیا کہ مجھے یہاں اب ایک لمحہ بھی نہیں رکنا کہ مجھے ابو جان کی دید نے بدحال کردیا ہے۔ میری آنکھیں ترس گئی ہیں ابو جان کو دیکھنے کے لئے اور میری سماعتیں ویران ہو چکی ہیں اب انہیں صرف ابو جان کی محبت سے معمور آوز ہی رونق بخش سکتی ہیں، میرا دل ہجر ابا جان میں پھٹ چلا ہے، میری روح تک زخمی زخمی ہے۔ میں اندر تک گھایل ہو چکا ہوں ، میری ذات تخریب گزیدہ ہو گئی تھی میرے ہاتھ ترس گئے تھے ابو جان کو چھونے کے لئے ۔ میرا دل کرتا تھا آنکھیں بند کروں تو سامنے ابو جان کے بازو ہوں جو مجھے سمیٹ لیں ۔ میں لمحہ لمحہ قریہ قریہ اپنے ابو جان کو ڈھونڈتا تھا اور پھر ابو جان سے بھی رہا نہ گیا اور انہوں نے بھائی جان عرفان خان کو بھیجا کہ کراچی جاؤ اور میرے لخت جگر کو لے آؤ .
بھائی جان کراچی تشریف لائے تو جینے کا حوصلہ ملا اور رخت سفر باندھ لیا کہ اب اپنے ” یار سے اپنے ابو جان” سے جا کے ملوں گا۔
بھائی جان نے چند دن کراچی کی سیر کی اور پھر ہم واپس رحیم داد خان سدوزئی کہ نئی ائیر کنڈیشنڈ بس ایل پی ٹی ستر اکتر پر عازم سفر ہوئے۔ راستہ میں پورے عملہ نے بے حد خدمت کی کئی ایک اقسام کے کھانے اور طرح طرح کے مشروبات سے خدمت ہوئی۔
کتنا خوش تھا میں اس واپسی کے سفر میں اور جب بس صبح کے وقت مانہ احمدانی کے سٹاپ پر رکی تو ابو جان از خود مجھے لینے کے لئے آئے ہوئے تھے ۔ نیچے اترا تو بے خود ان سے چمٹ گیا اور روتے روتے ہوش بھی نہ رہا اور ابو جان کی لرزتی ہوئی اتنی سی آواز کانوں میں ٹکرائی
زندگی میں دو ہی لمحے مجھ پہ گزرے ہیں کٹھن
ایک تیرے آنے سے پہلے ، ایک تیرے جانے کے بعد
اور آج گاؤں میں ان کے مرقد پر حاضری دی ، کافی دیر ان کی آخری آرام گاہ پر بیٹھ کر ان سے باتیں کرتا رہا مگر آہ۔۔۔
جواب نہ آیا۔۔۔۔
تیڈی راہ بھلیندیں وے ماہیا میکوں شام تھی گئی
ابو جان کا راستہ تکتے تکتے وقت نے جوانی میں ہی بوڑھا کردیا ہے۔ اور یوں لگتا ہے کہ زندگی کی شام آگئی ہے اور ابو جان آپ نے نہ آنا تھا اور نہ ہی آئے۔ اب تو ہم نے آپ کی طرف آنا ہے۔
اے مالک ذوالجلال میرے ابّو جان کے درجات بلند فرما انہیں جنت الفردوس میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمسائیگی نصیب فرما۔ یا اللہ اب میری ماں ہی میرا والد بھی ہے اور اماں بھی۔ میری امی جان کو عمر خضر عطا فرما اور انہیں زندگی بھر کسی کا محتاج نہ کرنا۔ امین آمین
تمیم خان میرا بیٹا ابھی میرے پاس آ کے پوچھتا ہے کہ ابو آپ کی آنکھیں کیوں سرخ ہیں اور آپ کیوں رو رہے ہیں اسے کیا معلوم کہ جب باپ چلے جائیں تو آنسو نہیں تھما کرتے۔ اللہ تعالیٰ میرے بیٹے کو اپنے دادا محترم کی طرح اطاعت الٰہی اور سنت نبوی نصیب فرمائے۔ امین













