ریلوے حکام نے ڈہرکی ٹرین حادثے کے ذمہ دار 9 افسران و ملازمین کو معطل کردیا۔
اس حوالے سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی کے ڈپٹی ڈی ایس شوکت شیخ، مجیب الرحمان اور مسرور انور کو معطل کیا گیا ہے۔
اسی طرح معطل کیے گئے افسران میں محکمہ ریلوے لاہور اور سکھر کے 6 افسران بھی شامل ہیں۔
ان میں محمد عمران ڈی ایم ای ٹو لاہور، سکھر ریلوے کے غلام قادر لاکھو، نہال خان، عبدالعزیز اور میر پورماتھیلو ریلوے کے قاضی شمس الدین کے ساتھ ریلوے افسر ابتسام الحسن بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب ایم ایس ڈاکٹر آغا توحید شیخ زاید اسپتال رحیم یار خان کے مطابق ڈہرکی ٹرین حادثے کے 13 زخمی زیر علاج ہی، جن میں سے 6 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے اور جبکہ تمام میتیں ورثاء کے حوالے کردیں گئی ہیں۔
ڈہرکی ٹرین حادثے میں جاں بحق مزید ایک شخص کی لاش لودھراں پہنچا دی گئی، ٹرین حادثے میں لودھراں کے جاں بحق افراد کی تعداد 20 ہوگئی ہے۔
کمشنر شفیق مہیسر کا کہنا ہے کہ ٹرین حادثے میں 66 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
………………………….
گھوٹکی ٹرین حادثے کے مقام پر ریلیف آپریشن مکمل کر لیا گیا، حادثے کا شکار انجن اور 17 کوچز اٹھا لی گئیں، جبکہ ٹرینیں بحال کر دی گئیں۔
ڈی ایس ریلوے سکھر طارق لطیف کے مطابق 29 گھنٹے بعد ریلوے ٹریک پر ٹریفک بحال کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریلوے ٹریک پیر کی صبح 3 بج کر 40 منٹ پر بند ہوا تھا، جو 29 گھنٹوں کے تعطل کے بعد بحال ہوا ہے۔
ڈی ایس ریلوے سکھر نے بتایا کہ اتوار سے رکی ٹرینیں اب منزل مقصود کی طرف چلنا شروع ہو گئی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ متاثرہ ٹریک پر فی الحال ٹرینوں کی اسپیڈ کم رکھی گئی ہے۔
طارق لطیف کا یہ بھی کہنا ہے کہ حادثے کی وجہ سے 35 مسافر ٹرینیں مختلف اسٹیشنوں پر رکی ہوئی ہیں۔
ریلوے حکام کے مطابق زکریا ایکسپریس حادثے کے مقام پر پہنچ گئی،جسے کچھ دیر میں ٹریک سے گزارا جائے گا، جبکہ متاثرہ ڈاؤن ٹریک کی مرمت کا کام جاری ہے۔
واضح رہے کہ ضلع گھوٹکی کے شہر ڈہرکی کے قریب گزشتہ روز پیش آنے والے ٹرین حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد 62 ہو چکی ہے، جبکہ سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔













