دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں تعینات پاکستان کے خصوصی نمائندے اس مہینے کے آخر میں بڑی تبدیلی سے گزریں گے جیسا کہ اقوام متحدہ میں ملک کے مستقل نمائندے، منیر اکرم 79، سے ان کی ذمہ داری فوراً واپس لے لی جائے گی۔

وہ مسلسل دوسری بار دو سال کی مدت کے لیے کنٹریکٹ خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ امریکہ میں پاکستان کے سفیر سردار مسعود خان اور دیگر نان کیرئیر/ کنٹریکٹ کے حامل سفیر/ ہائی کمشنر اپنے معاہدوں کے مطابق فوری طور پر اپنے استعفے جمع کرائیں گے۔ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں پاکستان کے سفیر افضل محمود بھی اس ماہ کے آخر میں ریٹائر ہو رہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں اگلے ماہ کے اوائل میں نئے سفیر ہوں گے۔ باخبر سفارتی ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، جو اپنی موجودہ ذمہ داری میں تین سال مکمل کر چکے ہیں، کو ایک دو ہفتوں میں کنٹرکٹ کی بنیاد پر اہم دارالحکومت سونپ دیا جائے گا۔

عید کی تعطیلات کے بعد جلد ہی ان کی تبدیلی پر بات کی جائے گی۔ امریکا میں سابق سفیر ڈاکٹر اسد مجید خان کو ان کی اگلی تعیناتی کے لیے ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی گئی۔

وہ اگلے ہفتے کے شروع میں برسلز میں بیلجیئم اور یورپی یونین کے لیے پاکستان کے سفیر کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ یورپی یونین اور بیلجیئم کے لیے پاکستان کے سفیر ظہیر اسلم جنجوعہ رواں ماہ کے آخر میں کینیڈا میں ملک کے ہائی کمشنر بنیں گے۔

جاپان میں پاکستان کے سفیر امتیاز احمد نے ریٹائرمنٹ کے بعد ٹوکیو میں چارج چھوڑ دیا ہے۔ سینئر سفارت کار عصمت حسن سیال نے مشن میں چارج ڈی افیئرز کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔

آئرلینڈ کے لیے ڈبلن اور یونان کے لیے ایتھنز کا ہائی کمیشن بھی اس ماہ خالی ہو رہا ہے۔ لندن میں ہائی کمشنر کو تبدیل کرکے معظم احمد خان کو جگہ دینے کا چرچا ہے جن سے ہیڈ کوارٹر واپس جانے کو کہا جائے گا۔

پاکستان اگلے ماہ کسی وقت برطانیہ کے لیے نیا ہائی کمشنر تعینات کرے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ جلد ہی پاکستان کے مختلف دارالحکومتوں میں نئے سفیر/ہائی کمشنر ہوں گے جہاں کنٹریکٹ پر کام کرنے والےخصوصی نمائندے کام کر رہے ہیں جنہیں پچھلی حکومت نے تعینات کیا تھا۔

حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی وہ فوری طور پر مستعفی ہو جائیں گے اور ذرائع نے نشاندہی کی کہ نئی حکومت نے ابھی تک ایسے کسی خصوصی نمائندے کو برقرار رکھنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔

فیصلہ اعلیٰ سطحی مشاورت میں کیا جائے گا جہاں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیر مملکت حنا ربانی کھر اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY