کافر ہوں سر پھرا ہوں مجھے مار دیجئے
میں سوچنے لگا ہوں مجھے مار دیجئے
ہے احترام حضرت انسان میرا دین
بے دین ہو گیا ہوں مجھے مار دیجئے
میں پوچھنے لگا ہوں سبب اپنے قتل کا
میں حد سے بڑھ گیا ہوں مجھے مار دیجئے
کرتا ہوں اہل جبہ و دستار سے سوال
گستاخ ہو گیا ہوں مجھے مار دیجئے
خوشبو سے میرا ربط ہے جگنو سے میرا کام
کتنا بھٹک گیا ہوں مجھے مار دیجئے
معلوم ہے مجھے کہ بڑا جرم ہے یہ کام
میں خواب دیکھتا ہوں مجھے مار دیجئے
یہ غزل پڑھنے والے اس خاص لہجے سے یہی تاثر لیتے ہوں گے کہ اس کا لکھنے والا ۔معاشرے کا کوئی ایسا فرد ہے جو سڑکوں پر نعرے بلند کرتا نظر آتا ہوگا مگر اس کے برعکس آج کے مہمان انتہائی ذمہ دار عہدوں پر کام کرتے رہے ہیں اور نہایت منکسر المزاج انسان ہیں ۔۔ تعلیم یافتہ سلجھے ہوئے نوجوان ہیں ۔۔
مگر غلط کو غلط کہنے کے جرات ببانگ دہل کرسکتے ہیں ۔۔ان کی نظموں اور غزلوں میں جالب، فیض ،ساحر ،کیفی اعظمی جیسے قبیل کے شعرا کا رنگ جھلکتا ہے ۔۔گذشتہ دنوں پڑوسی ملک بھارت سے اسی نظم کو کسی فلم میں شامل کرنے کی کوشش جاری تھی مگر سرکاری اجازت آڑے آگئی ۔۔نوجوانوں میں احمد فرہاد صاحب کے اشعار ضرب المثل کی طرح پڑھے جاتے ہیں ۔۔ یہ نمائندہ اشعار دنیا بھر میں اردو پڑھنے و جاننے والوں کے لئے انتہائی مانوس ہیں اور بیحد پسند کئے جاتے ہیں۔۔
ان کی پیدائش باغ آزاد کشمیر میں ہوئی اور میٹرک تک تعلیم بھی وہیں حاصل کی . دو ہزار ایک میں میں پنڈی تشریف لے گئے اور پھر وہیں اردو اور انگریزی لٹریچر میں ماسٹرز کیا . ان دنوں ایک نجی ٹی وی چینل پر بطور ہیڈ آف کانٹینٹ ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں .
عرصے کی تگ و دو کے بعد آج محترم دوست احمد فرہاد صاحب کی گفتگو حاضرِ خدمت ہے ۔۔
آج کی گفتگو میں خوش آمدید احمد صاحب
آپکے اشعار پڑھ کر اکثر ذہن میں ایک سوال اٹھتا ہے ۔۔
کہ آپکی وائرل ہونے والی غزلوں میں مزاحمتی رنگ بہت نمایاں ہے . یہ رجحان کیونکر ہے ؟ کیا کسی خاص وقت کا ردعمل ہے کہ جیسے جون ایلیا نہ کہا کہ
“بات نہیں سنی گئی بات نہیں کہی گئی” ۔۔
یا آپ نے اسی انداز کو اپنا طرز کلام بنایا اور یہی آپ کی شناخت بن گئی ؟
جواب _ مزاحمتی رجحان میرے مزاج میں بھی ہے اور شعر میں بھی . مزاج کا تاروپود تو کئی عوامل سے بنتا ہے جبکہ شعری مزاج بھی آپ کی شخصیت سے ہی برآمد ہوتا ہے . میری شاعری بنیادی طور پر رومان اور مزاحمت کا کولاج ہے
چلئیے بات بہت دلچسپ رہی کے رومانی شاعری و مزاحمت دونوں کا امتزاج ہر شعری ذوق رکھنے والے کو لبھاتا ہے ۔۔
اب ہم باقاعدہ آغاز کرتے ہیں اپنے سوالات سے تو یہ بتائیے گا کہ ۔
سوال 1 _لکھنے کا آغاز کب ہوا اور کیا یہ آپ جانتے تھے کہ ایک دن آپ ایسے مقبول ہوجائیں گے؟
جواب _شاعر تو پھلدار درخت کی طرح ہوتا ہے . آم کا پیڑ جب اپنے بیج میں ہوتا ہے تب بھی آم ہی ہوتا ہے ہاں اس پر پھل آنے کا ایک خاص وقت ضرور ہوتا ہے .میرے نزدیک شاعری کوئی سیکھنے والا یا اکتسابی کام نہیں
”کہ جو بھی چاہے وہی خوش خیال ہو جائے “
اسی مثال کے تناظر میں شاید ہم سے پہلا شعر کوئی تیرہ یا چودہ برس کی عمر میں ہوا .واقعہ یہ ہے کہ ہم محرم سلام و نوحہ پڑھتے تھے تو اکثر جب کسی نوحے یا سلام کے سارے اشعار نہ ملیں تو خود سے کچھ اضافہ کر دیتے تھے اور با وزن اور با معنی کرتے تھے .دوسری تحریک اپنے سکول سے ملی جہاں ہم ہم نصابی سرگرمیوں کے کرتا دھرتا اور سرخیل تھے لہذا تقاریر اور دیگر سرگرمیوں میں بھی شعر ویر کہنے کی ایک ترغیب ملتی رہتی تھی .
ہم سمجھتے ہیں ہمارے اندر کے شاعر کو باہر لانے میں ہمارے ابا کا بہت ہاتھ تھا جنہوں نےہمیشہ ہم نصابی سرگرمیوں میں اس امر کے باوجود ہماری حوصلہ افزائی کی کہ اس سے ایک قابل طالب کا تعلیمی حرج ہو سکتا تھا
سوال 2_
نوجوانوں میں بے انتہا حساسیت کیوں پیدا ہوگئی ہے۔۔
جواب _ مجھے تو آج کا نوجوان بالکل حساس نہیں لگتا . معلوم نہیں یہ سوال کس تناظر میں کیا گیا ہے . حساسیت موت جیسی سنجیدگی سے جنم لیتی ہے اور سنجیدگی ہمارے نوجوان کا المیہ ہے . میں تو حسن نثار کی زبان میں یہ کہوں گا کہ یہ لڑکے آتش فشاں کے دھانے پر بیٹھ کر پکنک منا رہے ہیں .کاش یہ حساس ہو جائیں
سوال 3_ آپ کے لکھے کو کب پہلی بار سراہا گیا .
جواب_ مجھے میرے شہر کے لوگوں نے آغاز سے ہی ایک لیجنڈ جیسی عزت دی . میرے استاد پروفیسر شفیق راجا اور دیگر دوستوں نےجو اعتماد ایک دور افتادہ چھوٹے سے پہاڑی علاقے میں دیا وہ جانے کن کن فورمز اور میدانوں میں میرے ہمرکاب رہا .اور سچ پوچھیے تو یہ عزت ان دنوں کی ہے جب ہمارے پلے کچھ بھی نہ تھا .
سوال 4_
ہمارا مجموعی ادبی سفر تنزلی کا شکار ہے یا ترقی کا ؟
جواب _ یہ عہد مجموعی طور پر روحانی ابتری اور مادی ترقی کا عہد ہے . آرٹ اور شاعری روحانی اور غیر مادی معاملات ہیں . فی زمانہ صرف شعر ہی نہیں نثر بھی زوال آمادہ نظر آتی ہے . ہم اگلے پچاس برس میں ایک بھی بڑا ادیب پیدا نہیں کر سکیں گے اور میرا یہ دعوی شاعری فکشن تنقید اور ادب کے تمام میدانوں کے لیے ہے .
سوال6 _
کیا ایک لکھنے والے کو لوگوں کے رد عمل پر لکھنے کا انداز تبدیل کرنا چاہیئے ؟
جواب _لکھنے والا ہمیشہ خود کو پینٹ کرتا ہے . مجھے اس سے سے کیا کہ لوگوں کی رائے کیا ہے . میں اپنی تصویر لوگوں کی مرضی سے پینٹ نہیں کر سکتا .اس سوال کا ایک تناظر پاپولرازم بھی ہے اور میں سمجھتا ہوں پاپولرازم جینوئن اور سچے تخلیق کا مسئلہ نہیں ہوتا ہاں فارمی شاعروں کی بات الگ ہے .
6_ سوال
آپکی دانست میں لکھنے والے کا معیار کس طرح طے کیا جاتا ہے ؟ اپنے مطالعہ کے لئے کن کتابوں کو زیادہ منتخب کرتے ہیں؟ اور کس شاعر یا ادیب نے آپ کو سب سے زیادہ متاثر کیا ؟
جواب _ورڈزورتھ ٹی ایس ایلیٹ ولیم بلیک پابلو نرودا شیکسپئیر غالب میر کافکا کنڈیرا اور منٹو سے آج تک سیکڑوں نام ہیں کس کس کو گنا جائے . اردو شاعری میں میر غالب اقبال انیس اور سراج الدین ظفر میرا نشہ رہے ہیں .باقی پسندیدہ شاعروں کی تو ایک طویل فہرست ہے
9سوال_ نثری شاعری سے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب_ یہ بڑی گنجلگ بحث ہے . نثری شاعری کو میں اصطلاحی معنوں میں شاعری اور لغوی معنوں صرف نثر پارہ ہی مانتا ہوں . نثری شاعری کو خود کو شاعری منوانے کے لیے تخلیقیت کی بہت تیز دھار گزرنا پڑتا ہے. زیشان ساحل ، افضال احمد سید ، ثروت حسین اور معدودے چند دیگر شاعروں کی وجہ سے اسے شاعری ماننے کو جی کرتا ہے ورنہ زیادہ تر تو دوہرے عذاب کا معاملہ ہےیعنی نا تو شعری لوازمات اور نا تخلیقی . مجھے لگتا ہے آزاد نظم کی طرح نثری نظم تیزی سے قبولیت کے درجے تک پہنچ جائے گی ؟
11_ سوال
کیا تمام متحرک لکھنے سے معاشرے میں کسی سدھار کی توقع رکھتے ہیں ؟
جواب_ افلاطون سے ڈرائیڈن اور ڈرائیڈن سے الطاف حسین حالی تک یہ ایک بڑی بحث رہی ہے کہ شاعری کا مقصد کیا ہے یا شعر برائے شعر اور شعر برائے زندگی کا قضیہ کیا ہے . بطور طالب میں سمجھتا ہوں شاعری کا بنیادی کام تبلیغ نہیں اور یہ بات وہ شخص کہہ رہا ہے جو اس وقت مزاحمتی شاعری کا سب سے بڑا حوالہ ہے . میرے خیال آرٹ کی دیگر جہتوں کی طرح شاعری ایک کیف و انبساط انگیز اور نشاط آور معاملہ ہے ہاں یہ الگ بات ہے کہ دنیا بھر کی شاعری مجموعی طور پر اعلی انسانی شرف اور عظیم آدرشوں کی حمایت یا پرچار کرتی ہے
سوال 12_
فی زمانہ مزاحمتی آوازیں نہ ہونےکےبرابر کیوں ہیں ؟
جواب _میں سمجھتا ہوں کہ اس عہد کا واسطہ اتھلے کھوکھلے دانشورانہ اپروچ سے عاری اور سماجی و سیاسی معاملات سے نا بلد ادیب سے پڑا ہے. آپ کسی معاملے پر تب تک رائے زنی نہیں کر سکتے جب تک آپ کو اس کا شعور نہ ہو .بہر حال اس کے باوجود علی زریون ، عاطف توقیر، سلمان حیدر اور نوجوانوں میں افکار علوی اور اسلم رضا جیسے شاعروں میں سیاسی شعور کے زیر اثر شعری تخلیقات ملتی ہیں .
13_سوال_
نو آموز شعرا و لکھنے والوں اور اپنے قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے ۔
جواب _ لکھنے والوں کے لیے تو افتخار عارف کی بات ہی دوہراوں گا کہ ایک ہزار صفحہ پڑھ کر ایک صفحہ لکھیں . فیس بکی اور سوشل میڈیائی دھوکے اور داد کے وٹے سٹے سے نکل کر سنجیدہ و علمی ادبی رویہ اپنائیں.
سوال 14_ کیا مشہور شاعر ہی اچھا شاعر ہوتا ہے ؟
جواب _ دیکھیں جناب اگر اس بات کو برعکس لیں تو زیادہ دلائل سامنے آئیں گے لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہر گز نہیں کہ مشہور شاعر برا شاعر ہوتا ہے . مشہور شاعر بیک وقت اچھا بھی ہو سکتا ہے اور برا بھی اور اس کے لیے کوئی کرائٹ ایریا نہیں . مثلا جس دور میں فراز صاحب بہت مشہور تھے اسی دور میں ان سے کئی بہتر غزل گو شاعر ان کی طرح مشہور نہیں تھے . شہرت زیادہ تر ایک حادثہ ہوتی ہے لیکن اچھی تخلیق ہر گز حادثہ نہیں . میں نے ڈی ڈبلیو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ آج نوجوان نسل مجھے افتخار عارف سے زیادہ جانتی ہے لیکن یہ فخر کی نہیں المیے کی بات ہے . ایک بات یہ بھی ہے کہ بعض اوقات جس کلام پر آپ کو شہرت مل جاتی ہے اسے آپ اپنا نمائندہ کلام بھی تصور نہیں کرتے اور میں اس کی زندہ مثال ہوں …
سوال 15 _سوشل میڈیا پر اس قدر شاعروں کی بہتات کیوں ہے ؟
جواب مجھے ایسا ہی لگتا ہے کہ سوشل میڈیا شہرت کا آسان راستہ ہے.فکشن تنقید یا کوئی صنف تخلیق کرنا جان جوکھم کا کام ہے . شعر تو جیسا تیسا آپ نے دو مصرعے جوڑ لیے یا کسی اجرت کے عوض کسی سے جڑوا لیے اور بن گئے شاعر پھر ساتھ ہی واہ واہ کرنے کو اپنے حصے کے بے وقوف بھی ڈھونڈ لیے اور یوں راتوں رات آپ سلیبرٹی ہو گئے. اب تو باقاعدہ فارمی چوزوں کی طرح فارمی شاعرات اور شاعروں کی بھی ایک کھیپ ہے . خواتین شاعرات کا تو ایک جھکڑ چل رہا ہے . پیسے عہدے یا خاطر تواضع کے دیگر ذرائع سے بزعم خود سیکڑوں پروین شاکریں سارا دن سوشل میڈیا پر دل پھینک اتھلے عاشقوں سے داد بٹورتی نظر آتی ہیں ..

سوال 16 _آپ کے خیال سے لکھنے والوں کو کیا پڑھنا چاہیے ؟
جواب _ یہ پوچھیے کیا نہیں پڑھنا چاہیے . شاعری فکشن فلسفہ تاریخ تنقید سماجیات سیاسیات . شاعر تو کسی زمانے میں ایک مکمل پیکج ہوتا تھا ان سب مطالعات کا . اب تو لکھنے والا شاعری نہیں پڑھتا باقی موضوعات خاک پڑھے گا
سوال 17 _ادبی حلقوں میں آپ کو اینگری ینگ مین کے طور پر دیکھا جاتا ہے ایسا کیوں ہے ؟
جواب _ زندگی کا دعوی نہیں لیکن ادبیات و شعریات میں میرا رویہ خوفناک حد تک غیر جانب دارانہ اور بے باکانہ ہے . میں نے ساری زندگی جھوٹی تعریف کی اور نہ رائے میں کوئی لگی لپٹی رکھی اسی لیے بہت سے لوگ جھوٹی واہ واہ کے لیے جڑتے ہیں اور پھر مایوس ہو کر واپس لوٹتے ہیں .
میرے خلاف باقاعدہ کیمپینز چلانے والے لڑکے وہ ہیں جو میرا دم بھرتے تھے اور میرے کہے کو حرف آخر سمجھتے تھے حالاں کہ میں نے اس کا کبھی تقاضا کیا اور نہ دعوی . میرا خیال ہے جو سنجیدہ لوگ تھے وہ کبھی مجھ سے جدا نہیں ہوئے اور جو جدا ہوئے وہ کبھی سنجیدہ تھے ہی نہیں ..
سوال 18 _ آخر میں میں یہی جاننا چاہوں گی شعرا جو ترقی پسند ہونے کے دعویدار ہیں وہ بر ملا اسی کا اظہار کرتے ہیں اور شاید اسی باعث مقبول ہیں تو کیا ترقی پسند شاعری نعرے کی شاعری ہے ؟
جواب _ اس کے جواب میں یہی کہوں گا کہ ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی . شعر کسی بھی فکر کے زیر اثر کہا جائے اگر وہ تخلیقی لوازمات اور جمالیاتی احساس سے عاری ہے تو وہ جگالی ہے اور کچھ نہیں ..
تو یہ تھے احمد فرہاد جو وطن عزیز سے لیکر پڑوسی ملک کے نوجونوجوانوں تک میں یکساں مقبول ہیں اور ان کی شاعری ہر نوعمر کے دل کی آواز ہے ۔۔
امید ہے کہ ان کا کلام ہر دور میں اسی طرح سراہا جائے گا جیسا کہ آج ہر محفل میں سنا جاتا ہے سراہا جاتا ہے ۔۔
عالمی اخبار کی طرف سے احمد فرہاد کا بہت بہت شکریہ
عزیزو اگلی نشست اور اگلے مہمان سے ملاقات تک آپ سے رخصت کی طلبگار ہوں ۔۔
روما رضوی













