پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے پلے بوائے عمران خان سے صوفی عمران خان کا سفر کیسے طے کیا ہے یہ ایک سوال ہےْ مغرب میں بھرپور زندگی گزارنے کے بعد اب عمران خان صوفی ازم کی طرف رواں دواں ہیں جس میں بظاہر بڑا رول انکی موجودہ اہلیہ کا بتایا جاتا ہے۔ پاکستان کو مدینے کی ریاست بنانے کے حوالے سے بھی انکے خیالات کسی سے مخفی نہیں لیکن ابھی تک تو یہ مدینہ کوفے کی شکل میں ہے
اب انہوں نے ایک اور ایسا بیان دیا ہے جس نے ملک سمیت سوشل میڈیا پر ایک بڑی بحث شروع کر دی ہے
میں ان چند سطور میں اپنی طرف سے نہ کوئی دلیل دے رہا ہوں اور نہ کوئی فیصلہ، میں صرف مختلف حوالے پیش کر رہا ہوں کو اخبارات میں موجود ہیں
اگر عورت کپڑے کم پہنے گی تو اس کا اثر تو ہوگا، وزیراعظم عمران خان
وزیر اعظم عمران خان نے خواتین پر جنسی تشدد سے متعلق کہا ہے کہ مرد کوئی روبوٹ نہیں، اگر عورت کپڑے کم پہنے گی تو اس کا اثر تو ہو گا۔
امریکی ٹی وی کو انٹر ویو کے دوران عمران خان نے کہا کہ ہمارے پاس یہاں ڈسکو یا نائٹ کلب نہیں ہیں، یہ ایک مکمل طور پر مختلف معاشرہ ہے۔
عمران خان نے کہا کہ جب آپ لوگوں کو اکسائیں گے تو اِن نوجوانوں کے پاس جانے کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوگی تو پھر اس کے نتائج ہوں گے۔
اس سوال پر کہ کیا واقعی خواتین کے لباس کا چناؤ اُن پر جنسی تشدد کی وجہ ہے؟ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کس معاشرے میں رہتے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کے خواتین کے لباس کے بارے میں بیان پر پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ کسی مرد کو یہ حق نہیں کہ وہ خواتین کے خلاف جنسی تشدد اور جرائم کا الزام خواتین یا اُن کے لباس پر عائد کرے۔
اپنے بیان میں شیری رحمان کا کہنا تھاکہ صدمہ ہوا ہے کہ ہمارے وزیراعظم نے ایسا کیا، کیا عمران خان نہیں جانتے کہ ایسا کہہ کر اُنہوں نے خواتین پر ظلم کرنے والوں کو اپنے جرائم کے جواز کیلئے نیا بیانیہ فراہم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی وزیر اعظم کیلئے اس طرح کی بات کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے، وزیر اعظم کا یہ بیان انتہائی غیر ذمے دارانہ اور قابلِ مذمت ہے
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان بتائیں کہ تین سال میں ریاست مدینہ نعرے کا کیا بنا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے پاس اب تبدیلی لانے کا وقت ہے نہ استطاعت ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان بتائیں کہ تین سال میں ریاست مدینہ نعرے کا کیا بنا۔
سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے خواتین کو بااختیار کرنے پر کام کیا، عمران خان خواتین کو ماں کی طرح دیکھتے ہیں۔
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ آپ کی حکومتیں تین مرتبہ رہ کر بھی یہ نہ کر سکیں، آپ ہمیں بھاشن دیں گے
خواتین کے لباس پر وزیراعظم عمران خان کے بیان پر ترجمان ن لیگ مریم اورنگزیب کا بیان سامنے آگیا۔
پاکستان مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان کے اس بیان سے دنیا کو ان کی بیمار اور عورت سے نفرت کرنے والی ذہنیت کی جھلک دیکھنے کو ملی۔
Hot Lifestyle News
اس اخبار نے ایک طویل مضمون اس عنوان سے متعدد عمرانی تصاویر کے ساتھ لکھا ہے جسکا لنک آپ کھول سکتے ہیں
WHAT SHAMELESS HYPOCRISY THAT IMRAN IS NOW TELLING WOMEN TO COVER UP!
His reputation as a playboy while living in England, where he dated some of the most beautiful women of the time, may have been at odds with his Muslim roots, but it was dismissed by Khan and conveniently forgotten by his supporters.
Now Prime Minister of Pakistan, Imran Khan is back in the spotlight in the UK for his shockingly regressive views on morality and crimes against women, which, given his Western education and previous lifestyle, are all the more astounding in their hypocrisy.
In a recent question-and-answer session with the Pakistani public, the 68-year-old Oxford-educated PM was asked what his government was doing to tackle the surge in sexual violence in the country.
Khan blamed what he described as the ‘increasing obscenity’ spread by Hollywood and Indian Bollywood movies for the surge in sexual crimes against women and children.
آخر میں صرف یہ عرض کرنا ہے کہ پاکستانی سیاست میں دین اور مذہب کا چورن ایسا چورن ہے کو مسلسل خوب بک رہا ہے اور بکتا رہے گا
کہنے والے کہہ سکتے ہیں کہ اللہ کسی وقت بھی کسی کو نیکی کی راہ دکھا سکتا ہے، بے شک
صفدر ھمدانی













