بڑے بڑے ادیب، شاعر، نقاد اورمفکر دنیا سے اٹھتے چلے
جارہے ہیں ۔ادبی اور فنی دنیا میں پت جھڑ کاسلسلہ تھمنے کانام
نہیں لے رہا۔آج بھی کئی نامور ہستیوں کی برسی منائی گئی
۔علامہ طالب جوہری، اور امجد صابری قوال کی یادوں کے
دئیے روشن کئے جارہے تھے کہ ایک اور الم ناک خبر دنیائے
ادب پر بجلی بن کر گری ۔21جون کو رات 10 بجے کےقریب
فون کی گھنٹی بجی ۔ دوسری طرف سے ایک رندھی ہوئی سنائی
دی ۔اللہ رحم فرمائے۔ یہ تین الفاظ میری زبان پر آگئے۔کون
صاحب ۔میں نے پوچھا تو جواب ملا ۔ ظفر بھائی ۔بابا پروفیسر
جاذب قریشی اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ یہ آواز تھی پروفیسر
جاذب قریشی کےفرزندِ ارجمند کی۔ میں سکتے میں آگیا ۔ شاید
رسمی افسوس کااظہارکرنا ہی بھول گیا ۔حواس بحال ہوئے تو ان
کی یادوں کی فلم میری آنکھوں کے سامنے چلنا شروع ہوگئی۔
پروفیسر جاذب قریشی استادوں کے استادتھے۔ نامور شاعر ،مایہ
ء ناز ادیب،منجھے ہوئے نقاد،جنگ کے کالم نگار،اپنی ذات میں
ایک انجمن اور خداجانے کیا کچھ تھے۔ان کی شخصیت کے بہت
سے رنگ اور پہلوتھے۔ کچھ دنیا کے سامنے آگئے اور کچھ
سے آج کی نسل ابھی واقف ہی نہیں۔ ساری زندگی ادب کی
خدمت میں نہیں گزری ۔بہت سے کام کئے اور جب ادبی دنیا میں
قدم رکھے تو اپنی جاندار شاعری ، سحرطراز نثرنگاری ،تنقید،
تخلیق اور تحقیق کی بنیاپر خوب نام اور مقام کمایا۔داتا کی
نگری سے بھی ان کی بڑی خوشگوار یادیں وابستہ رہیں ۔ جاذب
قریشی بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آئے تھے۔ان کا شمار
اپنے عہد کے خوبصورت شاعروں میں ہوتا ہے۔لیکن اس مقام
تک پہنچنے کیلئے انہیں کتنے پاپڑ بیلنے پڑے ، یہ وہی جانتے
ہیں یا ان کااور ہمارا خدا۔کبھی کبھار خوشگوار موڈ میں ہوتے تو
اپنی زندگی کی کتاب کا کوئی سا ورق کھول دیا کرتے تھے۔قریباً
دس برس پہلے ان کے ساتھ ایک طویل نشست ہوئی۔اپنی زندگی
کی کہانی سناتے ہوئے ان کی آنکھیں بھیگ گئیں ۔کہنے لگے
میں آپ کے والد بزرگوار سید فخرالدین بلے صاحب سےقریباً
10برس چھوٹا ہوں ۔اسی لئے میں انہیں بھائی بلے کہتاہوں۔واقعی
انہوں نے بڑا کام کیا۔میں نے ان پر مقالہ بھارتی ادیبوں کی
فرمائش پر لکھا تھا۔یہ کہتے ہوئے انہوں نے گفتگو کاکانٹا اپنی
طرف موڑ دیا۔مجھے ایسا لگا کہ وہ خودکلامی کررہے ہیں
اورانہوں نے اپنی خودکلامی میں مجھے بھی شریک
کرلیاہے۔میں ہمہ تن گوش رہا ۔کچھ سوال بھی اٹھائے۔اپنی ولادت
سے لے کر پروفیسر جاذب قریشی نے اپنی زندگی کے بہت سے
ابواب کھول کررکھ دئیے۔کہنے لگے آپ مجھے جاذب قریشی
کے نام سے جانتے اور پہچانتے ہیں حالانکہ میرے والد
بزرگوار نے میرانام محمدصابر رکھاتھا۔دنیا مجھے اس نام سے
نہیں جانتی اور نہ ہی پہچانتی ہے ۔ میری زندگی کاسورج
3 اگست 1940 کو کلکتہ میں طلوع ہوا۔ میرے خاندان کاتعلق
لکھنو سے تھا ۔ابھی میرے شعور کی آنکھیں نہیں کھلی تھیں اور
میری عمر پانچ سال کے لگ بھگ ہوگی کہ باپ کے سایہ سر
سے اٹھ گیا۔کیا کہوں اک دھوپ تھی جو سر سے گئی ،آفتاب
کے۔ وہ مجھے ایک بڑا آدمی بنانا چاہتے تھے لیکن یہ اتنا بڑا
دھچکاتھا کہ میں بتانہیں سکتا،میری تعلیم کاسلسلہ جاری نہیں رہ
سکا۔گھر کاچولہا ٹھنڈا پڑنے لگا ۔ہمارے پورے گھرانے کو
معاشی مشکلات نے گھیرلیا۔کم عمری میں تعلیم کےحصول پر
توجہ دینے کے بجائے ناتواں کندھوں پر روزی روٹی کمانے کی
ذمےداریاں آگئیں ۔حالات نے میرے بھائی کو بھی کارخانے میں
محنت کشی پر مجبور کردیا کیا بتاءوں ۔میرا بچپن ہی حالات نے
مجھے سے چھین لیا ۔
بھائی کی کاوشیں رنگ لائیں ۔ حالات نے کروٹ بدلی اور میں
الہ آباد چلا گیا ۔تعلیم کے شوق میں ۔میری والدہ کومجھ سے بڑا
پیارتھا ،وہ مجھے واپس لکھنو لے آئیں۔ یہی وہ موڑ ہے جو
مجھے ادبی دنیا میں لے آیا۔ لکھنو میں میرے خالہ زاد بھائی
عبدالواحد کے ساتھ شعرو ادب کی محفلوں میں جانے کااتفاق
ہوا۔ وہ شمیم لکھنوی کے نام سے شاعری کیا کرتے تھے۔انہوں
نے شاعری کی چاٹ مجھے بھی لگادی ۔ یہ ذوق و شوق میرے
ساتھ ساتھ پلابڑھا اور پروان چڑھا ۔۔ 1950 میں اپنے گھر
والوں کے ساتھ ہجرت کرکے میں بھی داتا کی نگری لاہورمیں
آن بسا ۔دن بھر ایک چھاپہ خانے میں کام کرتا اور رات گئے
تک غزلیں لکھتا۔ اس شہر میں آکر لگا زندگی کانیا سفر اب
شروع ہواہے۔ تعلیم کےحصول کاسلسلہ بھی بحال ہوگیا ۔ادبی
ذوق کی تسکین کاسامان بھی میں نے حلقہ ارباب ذوق کی
تنقیدی نشستوں میں ڈھونڈ لیا ۔ جہاں ادبی دنیا کے درخشندہ
ستاروں کی کہکشاں سجاکرتی تھی ۔سعادت حسن منٹو کے
افسانے سننے کی سعادت بھی انہی محفلوں میں مجھے حاصل
ہوئی ۔مجھے اورینٹل کالج میں بھی قابل اساتذہ سے مستفیض
ہونے کے مواقع ملے۔ اپنے وقت کےنامور شاعر اور عالمی
شہرت یافتہ شاعر حبیب جالب میرے ہم جماعت تھے ۔لاہور میں
کئی ادبی تنظیموں سے وابستہ رہا۔لاہور میں قیام کے دوران ہی
مخلصین ادب سے جُڑگیا۔ جوفروغ لکھنوی نے بنایا تھا ۔ میں
اس ادبی ادارے کا سیکریٹری بھی رہا۔ اس کی خوبصورت
محفلیں انارکلی کے پچھواڑے صوفی کے تکیے پر سجا کرتی
تھیں۔ داتا کی نگری کی یادوں کو سمیٹتے ہوئے کئی بار ان کی
آواز بھراگئی اور میں نے ان کی آنکھوں کونم ناک ہوتے دیکھا
۔اسی لئے میں نے موضوع بدلنا چاہا تاکہ وہ جذباتی فضاسے باہر
آجائیں ۔ وہ سمجھ گئے اور بولے ظفر معین بلے صاحب ،آپ کو
پتانہیں ہوگا کہ میں نے افسانے بھی لکھےہیں ۔
جاذب قریشی محض ایک ادیب، شاعر، دانشور، افسانہ
نویس، تنقید نگار،صحافی اور کالم نویس ہی نہیں تھے ۔
انہوں نے ایک فلم بھی بنائی تھی ، جس کانام تھا پتھر کے
صنم ،جو کامیاب نہیں ہوسکی ۔ اگر کامیاب ہوجاتی تو ہم
مدتوں پہلے پروفیسر جاذب قریشی سے محروم ہوگئے
ہوتے اور جن ہزاروں افراد نے آپ کی صحبت بابرکت
سے استفادہ اور استفاضہ کیا ،وہ کبھی نہ کرپاتے ۔اردو ادب
اور کراچی کی تاریخ جاذب قریشی کے ذکر خیر
کےبغیرہمیشہ ادھوری رہے گی ۔روشنیوں کے شہر میں
جاذب قریشی نے اپنے فکرو خیال کے چراغ روشن کرکے
مزید اجالا پھیلا دیا۔کچھ باتیں اپنے بارے میں انہوں نے
بتائیں اور کچھ اد ب دوستوں نے ۔ان باتوں کےتانے بانے
جوڑ کر میں ان کی داستان حیات رقم کررہاہوں ۔جاذب
قریشی 1962 میں داتا کی نگری کو خیر باد کہہ کر
روشنیوں کےشہر کراچی میں آن بسے تھے ۔ 1964
میں درس و تدریس سےوابستہہوگئے ۔ادبی ہنگامہ آرائیوں
میں شریک رہ کر اپنی پہچان کرائی ۔1967 میں ارباب قلم
کیلئے کےلئے اہم خدمات انجام دیں ،یہ ایک ادبی ادارہ تھا
،جس نے ارباب قلم و ادب کوجگائے رکھا ۔کچھ جرائد و
رسائل سے وابستگی کے دوران بھی اپنی فکری اور قلمی
جوہر دکھائے،ان جرائد و رسائل میں کائنات،نقش،
نگارش، نمک دان اور سات رنگ شامل ہیں ۔اردو کے
مجلے ’’کائنات‘‘کی ادارت بھی کی ، ہفت روزہ ’’نصرت‘‘
میں کالم نگار کی حیثیت سے جلوہ افروز ہوئے ۔روزنامہ
جنگ کےادبی ایڈیشن کے نگراں کی حیثیت سے اپنے
رنگ دکھائے ۔اسی قومی روزنامے میں کالم نگار کی
حیثیت سے بھی اپنی تخلیقی توانائیوں کےجوہر دکھا کر
خوب داد و تحسین سمیٹی ۔جاذب قریشی نے جامعہ کراچی
سے ایم اے کی سند حاصل کی اور جناح کالج میں لیکچرر
بن کر اپنے معاشی کیرئیر کاآغاز کردیا ۔وہ ایک ناکام فلم
ساز اور کامیاب شاعر ،کامران ادیب ، دیدہ ور نقاد اور
اعلی پائے کے دانشور تھے ۔۔ انہوں نے ایک فلم ’’پتھر
کے صنم‘‘ بھی بنائی ،جوبری طرح فلاپ ہوگئی ،لیکن
انہوں نے جتنی بھی کتابیں لکھیں ، انہیں ادبی دنیا میں
ہاتھوں ہاتھ لیاگیا۔ ان کی کتابیں نثرنگاری ، تنقید، شاعر ی
اور ادب کے مختلف موضوعات سے متعلق ہیں ۔ ان کے
عنوانات بھی بتارہے ہیں کہ وہ ذرا ہٹ کر دنیا کودیکھتے
تھے۔ذرا آپ بھی ان کی کتابوں کے عنوانا ت پر ایک نظر
ڈالئےتو آپ میرے خیال کی تائید کریں گے کہ واقعی وہ
پامال راستوں کے مسافر نہیں تھے ۔جاذب قریشی کی کچھ
کتابوں کے عنوانات یہ ہیں ۔تخلیقی آواز، آنکھ اور چراغ،
شاعری اور تہذیب، دوسرے کنارے تک، میری تحریریں،
میں نے یہ جانا، پہچان، نیند کا ریشم، شیشے کا درخت،
آشوبِ جاں، اجلی آوازیں، شکستہ عکس، شناسائی، جھرنے،
عقیدتیں، مجھے یاد ہے، نعت کے جدید رنگ،
پروفیسر جاذب قریشی کی مطبوعات کےنام یہ ہیں ۔
1. تخلیقی آواز
2. آنکھ اور چراغ
3. شاعری اور تہذیب
4. دوسرے کنارے تک
5. میری تحریریں
6. میں نے یہ جانا
7. پہچان
8. نیند کا ریشم
9. شیشے کا درخت
10. آشوب جاں
11. اجلی آوازیں
12. شکستہ عکس
13. شناسائی
14. جھرنے
15. عقیدتیں
16. مجھے یاد ہے
17. نعت کے جدید رنگ
18. میری شاعری
میرے بڑے بھائی سید عارف معین بلے نے بھی ان کےاعزاز میں تقریب
پذیرائی پر ایک نظم لکھ کر فیس بک پر شئیر کی تھی، جسے پڑھ کروہ بہت
خوش ہوئے تھے اور کہا تھا کہ آپ کے خانوادے میں سب کیلئے اتنا پیار
کیسے امڈ آتا ہے ۔خداکرے آپ لوگ ہمیشہ خوش و خرم رہیں ۔اب وہ منظوم
تاثرات جو سید عارف معین بلے نے قلمبند کئے تھے،عالمی اخبار کے قارئین
کی نذر ہیں ۔
سالِ نو کو خوب یہ فیضان بخشا آپ نے
زندہ شعروں کا نیا دیوان بخشا آپ نے
ذوق کی تسکین کا سامان بخشا آپ نے
دوش اورامروزکا آئینہ فردا کی کتاب
آپ کی یہ شاعری کا پہلا پہلا انتخاب
زندہ و تابندہ ہیں یہ نثر پارے آپ کے
اہلِ دانش جان سکتےہیں اشارے آپ کے
بندشیں یکتا, اچھوتے استعارے آپ کے
دھوپ کےصحرا میں جاذب آپ لےآئےسحاب
خوب ہے یہ نثر کا بھی پہلا پہلا انتخاب
آپ کی "پہچان" سے اردو کو دانائ ملی
قابلِ صد آفریں بے شک "شناسائ" ملی
آپ کو اردو ادب میں جو پزیرائ ملی
آپ کی طرح ہے وہ جاذب قریشی لاجواب
علم و حکمت کا خزینہ آپ کی ہر اک کتاب
اک زمانہ معترف ہے آپ کی تحقیق کا
آپ کی تنقید میں بھی رنگ ہے تخلیق کا
نیم کا ریشم نہیں, سامان ہے تشویق کا
اللّہ اللّہ معرفت ساماں محّبت کا نصاب
آپ کی تنقید کا یہ پہلا پہلا انتخاب
ہے میّسر دھوپ میں بھی ہم کو شیشہ کا درخت
اسکی شاخیں یکجا بھی ہوتےہوئےہیں لخت لخت
بات سختی کی بھی ہے, لہجہ نہیں لیکن کرخت
آپکےجب دل کی کلیاں کِھل اُٹھیں,مہکےگلاب
ہے بصیرت زا یقیناً آپ کا ہر انتخاب
سیّد عارف معین بلّے
اپنے عہد کے نامور ادیبوں اور شاعروں نے ان کی زندگی میں
بھی ان کی خدمات کوبھرپور انداز میں خراج تحسین پیش کیا
اور اب وہ دنیا کوخیرباد کہہ گئے ہیں تو آج بھی ان کی خدمات
کو بھرانداز میں ارباب ی فن و ادب کی طرف سے سلامی دی
جارہی ہے ۔مجھے یادہے کہ کراچی ہی میں ان کےاعزاز میں
ایک تقریب پذیرائی کااہتمام کیا گیا تو نامور ادبی شخصیت
ڈاکٹر پیرزادہ قاسم نے انہیں کھل کر ان کے ادبی کارناموں پر
داد دی اور انہیں باکمال شاعر اور معتبر نقاد قرار دیا۔جہاں تک
میری یادداشت ساتھ دے رہی ہے یہ محفل جنوری2018میں
سجی تھی۔پروفیسر سحر انصاری کاکہناتھا جاذب قریشی نے
زندگی کے منفی رویوں کو شکست دے کر، مثبت پہلوئوں کو
اجاگر کیاہے ۔بزم یاور مہدی کے زیر اہتمام جاذب قریشی
کےلئے یہ تقریب پذیرائی سجائی گئی تھی ۔کہنا یہ ہے کہ ان کی
زندگی میں بھی ان کی عظمت کوتسلیم کیا گیا اور آج بھی انہیں
آج بھی تحسین و آفرین کے کلمات دریادلی کے ساتھ پیش کرکے
مھبتوں کاقرض ادا کیاجارہا ہے ۔
کوتاہی ہوگی اگر میں ان کا منتخب کلام عالمی اخبار کےقارئین
کرام کی نذر نہ کروں ۔ملاحظہ فرمائیے ۔پروفیسر جاذب قریشی
کا کچھ کلام ،ان میں سے کچھ کلام مجھے براہ راست ان کی
زبانی سننے کی سعادت بھی حاصل ہوئی ہے اور کچھ کلام ان
کی کتابوں سے ماخوذ ہے۔
– کاغذی گھر سے
نکلنا ہے مجھے
اپنی تصویر بدلنا ہے مجھے
جس نے پرچھائیں کو خوشید کیا
اُسی شعلے میں پگھلنا ہے مجھے
ہے ترے لمس کی خواہش مجھ میں
زرد موسم کو بدلنا ہے مجھے
تیرے چہرے کا تعاقب ہے عجب
عمر بھر نیند میں چلنا ہے مجھے
میں چراغ ایسا کہ اک تیرے لیے
گھر کی دہلیز پہ جلنا ہے مجھے
شام رستے میں کھڑی ہے جاذب
اور صحرا سے نکلنا ہے مجھے
اس کا لہجہ کتاب جیسا ہے
اور وہ خود گلاب جیسا ہے
دھوپ ہو چاندنی ہو بارش ہو
ایک چہرہ کہ خواب جیسا ہے
بے ہنر شہرتوں کے جنگل میں
سنگ بھی آفتاب جیسا ہے
بھول جاؤ گے خال و خد اپنے
آئنہ بھی سراب جیسا ہے
وصل کے رنگ بھی بدلتے تھے
ہجر بھی انقلاب جیسا ہے
یاد رکھنا بھی تجھ کو سہل نہ تھا
بھولنا بھی عذاب جیسا ہے
بے ستارہ ہے آسماں تجھ بن
اور سمندر سراب جیسا ہے
چہروں پہ لکھا ہے کوئی اپنا نہیں ملتا
کیا شہر ہے اک شخص بھی جھوٹا نہیں ملتا
چاہت کی قبا میں تو بدن اور جلیں گے
صحرا کے شجر سے کوئی دریا نہیں ملتا
میں جان گیا ہوں تری خوشبو کی رقابت
تو مجھ سے ملے تو غم دنیا نہیں ملتا
زلف و لب و رخسار کے آذر تو بہت ہیں
ٹوٹے ہوئے خوابوں کا مسیحا نہیں ملتا
میں اپنے خیالوں کی تھکن کیسے اتاروں
رنگوں میں کوئی رنگ بھی گہرا نہیں ملتا
ڈوبے ہوئے سورج کو سمندر سے نکالو
ساحل کو جلانے سے اجالا نہیں ملتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیند آنکھوں میں رہے پھر بھی نہ سویا جائے
میں وہ پتھر ہوں کہ روؤں تو نہ رویا جائے
اجنبی ہے ترے خوش رنگ بدن کی خوشبو
اک ذرا لمس وفا تجھ میں سمویا جائے
شب کے صحرا نے عجب پیاس لکھی ہے مجھ میں
مجھ کو خورشید کے شعلوں میں ڈبویا جائے
میں نے تنہائی میں جل کر بھی یہی چاہا ہے
خوشبوؤں سے ترے آنچل کو بھگویا جائے
زندگی کو ہے ضرورت نئے پیراہن کی
اپنے ہی خون میں اپنے کو ڈبویا جائے
کیوں مانگ رہے ہو کسی بارش کی دعائیں
تم اپنے شکستہ در و دیوار تو دیکھو
تیری یادوں کی چمکتی ہوئی مشعل کے سوا
میری آنکھوں میں کوئی اور اجالا ہی نہیں
دفتر کی تھکن اوڑھ کے تم جس سے ملے ہو
اس شخص کے تازہ لب و رخسار تو دیکھو
مری شاعری میں چھپ کر کوئی اور بولتا ہے
سر آئنہ جو دیکھوں تو وہ شخص دوسرا ہے
دیکھ لے ذرا آ کر آنسوؤں کے آئینے
میں سجا کے پلکوں پر تیرا پیار لایا ہوں
پروفیسر جاذب قریشی کی رفیق حیات تو برسوں پہلے انہیں
چھوڑ کر جنت الفردو میں جابسی تھیں ۔جس کی کمی کوانہوں
نے بہت محسوس کیا ، اسی لئے اب وہ بھی ان کے ساتھ
جابسے ہیں۔وہ اپنے پیچھے یادوں کے ساتھ ساتھ کتابوں
کاوسیع ذخیرہ اوردو بیٹے سوگوار چھوڑ گئے ہیں ۔ ان بیٹوں
سے ان کی علالت کے دوران بھی میرا رابطہ رہا۔ ہمارا پورا
گھرانہ ان کے دکھ میں برابر کاشریک ہے ۔ اللہ تبارک و تعالی
سے دعاہے کہ وہ پروفیسر جاذب قریشی کو جنت الفردوس میں
اعلیٰ مقام عطاکرے اور سوگواروں کو صبر جمیل دے ۔میری
آنکھوں کے سامنے ان کے دونوں بیٹوں
محمد جنید صابر اور محمد عبید صابر
اور بیٹیوں
لبنی منظر ، شہلا سلیم ، عظمی نعمان ، ہما وسیم ، حنا تواب ،
بینا راشد
کے اداس چہرے ہیں ۔مجھَ میں اتنی ہمت نہیں کہ ان کے
سامنے جاکران سے رسمی تعزیت کرسکوں ۔
تحریر: ظفر معین بلے جعفری













