افغانستان کے ساتھ شراکت داری ختم نہیں ہو رہی: بائیڈن; انخلا کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں:صدر غنی

0
860

صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ اور افغانستان کے درمیان شراکت داری ختم نہیں ہو رہی ہے بلکہ قائم رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی فوج اور ملک کے لیے معاشی مدد بھی ختم نہیں ہو رہی ہے۔

صدر نے ان خیالات کا اظہار افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور اعلیٰ مصالحتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر افغان صدر نے کہا کہ وہ انخلا کے صدر بائیڈن کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور مضبوط شراکت داری کے عزم پر ان کے شکر گزار ہیں۔

صدر بائیڈن نے کہا کہ یہ افغانستان کے رہنما ہی ہیں جنہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور ہماری طرف سے مدد میں کمی نہیں آئے گی۔ صدر نے زور دیا کہ افغانستان میں تشدد کو ہر صورت ختم ہونا چاہیے۔

بائیڈن نے صدر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور جو کچھ ممکن ہو سکتا ہے آپ کے لیے کریں گے۔

اس موقع پر افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے کہا کہ امریکہ اور افغانستان کے تعلقات محض فوجی شراکت داری سے آگے باہمی مفادات کے نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ “ہم امریکہ کے ساتھ تعلقات کے نئے باب کا آغاز کر رہے ہیں جہاں دونوں ملکوں کے تعلقات فوجی نوعیت کے ہی نہیں ہوں گے بلکہ باہمی مفادات پر مبنی جامع تعلقات ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم بے حد مطمئن ہیں کہ یہ شراکت داری قائم رہے گی‘‘۔

صدر غنی نے امید ظاہر کی کہ افغانستان کے عوام اور راہنماوں میں اتفاق، سیکیورٹی فورسز کے عزم اور امریکہ کے ساتھ شراکت داری سے وہ مسائل پر قابو پا لیں گے۔

’’ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آج جب ہم بات کر رہے ہیں افغانستان کی سیکیورٹی فورسز نے چھ اضلاع واپس لے لیے ہیں جو ملک کے جنوب اور شمال میں واقع ہیں۔ یہ چیز ہمارے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ وقت بری ٹرانزیشن کا ہے۔ چیزیں ہوتی ہیں لیکں آپ دیکھیں گے کہ عزم، اتحاد اور شراکت داری سے ہم مسائل پر قابو پا لیں گے‘‘

SHARE

LEAVE A REPLY