افغانستان میں امریکہ کا فوجی مشن 31 اگست کو ختم ہو جائے گا، صدر بائیڈن

0
594

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکہ کا فوجی مشن 31 اگست کو ختم ہو جائے گا۔

انہوں نے یہ اعلان جمعرات کی سہ پہر وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس سے قبل صدر بائیڈن اور نائب صدر کاملا ہیرس نے افغانستان سے فوجیوں کے انخلا سے متعلق قومی سلامتی کے عہدے داروں سے وہاں کی صورت حال پر بات چیت کی تھی۔

صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ تحفظ کے پیش نظر افغانستان میں امریکہ کا فوجی مشن 31 اگست تک مکمل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان میں قومی تعمیر کے لیے نہیں گئے تھے۔

افغانستان میں جنگ کو سمیٹنے کے لیے اپنی انتظامیہ کی کوششوں سے آگاہ کرتے ہوئے، انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اب افغانستان کے رہنماؤں کو اکٹھے ہو کر مستقبل کی جانب بڑھنا ہو گا۔

صدر بائیڈن نے ایک ایسے وقت میں امریکہ کے فوجی آپریشن کو ختم کرنے کے اپنے فیصلے کو حق بجانب قرار دیا جب، اخباری اطلاعات کے مطابق، طالبان ملک
بھر میں تیزی سے پیش قدمی کر رہے ہیں۔

افغانستان کے بارے میں ان کی انتظامیہ حالیہ دنوں میں متعدد بار یہ کہہ چکی ہے کہ صدر بائیڈن اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اس جنگ کا، جسے جیتنا ممکن نہیں، کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

صدر نے کہا کہ آپ اپنے کتنے ہزار مزید بیٹوں اور بیٹیوں کو خطرے میں ڈالنا چاہتے ہیں؟

انہوں نے افغانستان میں امریکی فوجی آپریشن کے دورانیے میں توسیع کا مطالبہ کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک مختلف نتیجہ حاصل کرنے کی معقول توقع کے بغیر امریکیوں کی ایک اور نسل کو افغانستان کی جنگ میں نہیں بھیجوں گا۔

………………………

افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے جہاں جنگجو فوجی اڈوں، سرحدی چوکیوں اور شہروں پر قبضے کر رہے ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق افغان فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان صوبہ بادغیس اور بدخشاں میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ طالبان نے بدھ کو صوبہ بادغیس کے صوبائی ہیڈ کوارٹر ‘قلعہ نو’ کو پہلی مرتبہ نشانہ بناتے ہوئے انٹیلی جنس ایجنسی کے دفتر اور جیل پر حملہ کر کے درجنوں قیدی رہا کرائے جس میں طالبان جنگجو بھی شامل ہیں۔

یکم مئی سے اب تک طالبان 150 سے زیادہ اضلاع پر قابض ہو چکے ہیں اور اطلاعات کے مطابق اب وہ صوبائی دارالحکومتوں کی جانب گامزن ہیں۔

افغان حکومت کا کہنا ہے کہ انہوں نے بعض علاقے طالبان کے قبضے سے چھڑا لیے ہیں تاہم ان کی تعداد بہت کم ہے۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ سے بات کرتے ہوئے صوبہ بادغیس کے گورنر حسام الدین شمس نے بتایا کہ طالبان نے بدھ کی علی الصباح ‘قلعہ نو’ پر حملہ کیا جس کے بعد سیکیورٹی فورسز نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ طالبان شہر میں ضرور داخل ہوئے ہیں لیکن انہیں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔

بادغیس کی صوبائی کونسل کے سربراہ عبدالعزیز بیک کا کہنا ہے کہ افغان فورسز نے طالبان جنگجوؤں کے خلاف فضائی کارروائی بھی کر دی ہے۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ طالبان ملک کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے سرگرداں ہیں۔ البتہ امریکہ کی جانب سے تواتر سے کہا جا رہا ہے کہ اگر طالبان قبضہ کر کے تسلط قائم کریں گے تو دنیا اسے تسلیم نہیں کرے گی۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

امریکہ کے افغانستان آنے کے لگ بھگ 20 سال بعد صدر بائیڈن کے اعلان کے مطابق افواج کا انخلا مکمل ہونے کے قریب ہے۔ جب کہ امریکہ کی فوج دارالحکومت کابل اور دارالحکومت میں بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تعینات رہے گی۔

امریکہ کے حکام کا جمعے کو کہنا تھا کہ امریکہ کی فوج کے اہلکاروں کی اکثریت اور ساز و سامان کا بڑا حصہ افغانستان سے نکالا جا چکا ہے۔ جب کہ رواں سال اپریل میں اعلان کردہ ستمبر کے اوائل کی ڈیڈ لائن سے قبل ہی اگست کے اختتام تک انخلا کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔

صدر جو بائیڈن سے جب امریکہ میں روزگار سے متعلق رپورٹ پر گفتگو کرتے ہوئے افغانستان کی صورتِ حال پر سوال کیا گیا تو صدر جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ وہ توقعات کے مطابق درست راستے پر گامزن ہیں۔

جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکہ اس جنگ میں 20 برس سے تھا۔ انہوں نے اس اقدام کو ’منطقی‘ قرار دیتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ خوش گوار چیزوں کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں۔

’زمینی صورتِ حال خراب ہو گئی ہے‘
دیگر امریکی حکام نے بھی اعتراف کیا ہے کہ افغانستان میں امریکہ کی فوج میں کمی کیے جانے کے بعد زمینی صورتِ حال خراب ہو گئی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی کا جمعے صحافیوں سے گفتگو میں کہنا تھا کہ صدر جو بائیڈن بہت عرصے سے یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں جنگ فوج کے ذریعے نہیں جیتی جا سکتی۔ اور یہ رائے امریکہ کے شہریوں کی بڑی تعداد اور رہنماؤں کی بھی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انخلا سے قبل کیے گئے اندازوں میں بعد کی صورتِ حال سے متعلق قیاس آرائیاں نہیں کی گئی تھیں۔

جنگوں سے متعلق جریدے ‘فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز’ کے مبصرین کے مطابق افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلا کا عمل شروع ہونے کے بعد تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ طالبان نے ملک کے متعدد اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے اور طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں دو گنا اضافہ ہوا ہے۔

افغان حکومت اور طالبان حکام کے دعوؤں کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد ہلاکتوں میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

امریکی حکام نے وائس آف امریکہ کو جمعے کو تصدیق کی کہ امریکی اور اتحادی افواج نے بگرام ایئر فیلڈ افغان فورسز کے حوالے کر دی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY