‘مصر اور حماس کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کو تیار ہیں‘

0
172

مرکز اطلاعات فلسطین
اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی شعبے کے سینیر رکن ڈاکٹر محمود الزھار نے کہا ہے کہ ان کی جماعت مصر کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے فروغ کی خواہاں ہے۔ مگر دو طرفہ تعلقات کی بہتری کے لیے قاہرہ کو اپنے موقف اور پالیسی میں تبدیلی لانا ہوگی۔ انہوں نے کہ فلسطینی قوم تحریک انتفاضہ سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ حماس اور فتح کےدرمیان مفاہمتی مساعی کےبارے میں الزھار کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت قومی مفاہمت کے لیے بہت زیادہ لچک کا مظاہرہ کرچکی ہے اور مفاہمت کو کامیاب بنانے کے لیے ہرممکن تعاون کے لیے تیار ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزاطلاعات فلسطین کو دیے گئے انٹرویو میں کیا۔ مرکزاطلاعات فلسطین سے ہونے والا ان کا مکالمہ پیش خدمت ہے۔

حماس اور تحریک فتح کی قیادت کے درمیان جلد ہی ملاقات کی خبریں گردش کررہی ہیں۔ یہ اطلاعات ہیں کہ حماس رہ نما اسماعیل ھنیہ اور ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق مصری قیادت سے بھی ملاقات کریں گے۔ کیا۔ کیا۔ ان اطلاعات میں کس حد تک صداقت ہے؟۔

الزھار:۔  غزہ واپسی کے دوران اصولی طورپر حماس رہ نما اسماعیل ھنیہ کے مصر میں مختصر قیام میں کوئی حرج نہیں لیکن فی الوقت اس حوالے سے کوئی تاریخ اور جگہ مقرر نہیں کیا گیا۔ اسماعیل ھنیہ کے مصرمیں قاہرہ حکام سے ملاقات مصر کی جانب سے تیاریوں پر منحصر ہے۔ اس کے علاوہ جزیرہ نماسیناء کی صورت حال بھی اہمیت رکھتی ہے۔ بہرحال اس حوالے سے کوئی جگہ طے نہیں کی گئی۔

ملاقات برائے ملاقات کی کوئی حیثیت نہیں اور نہ ہی حماس ایسا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ البتہ اگر کوئی نئی پیش رفت  یا ناگزیر صورت حال پیدا ہوئی  توحماس قیادت کا قاہرہ کا دورہ کرے گی۔ جہاں تک فلسطینی مزاحمتی گروپوں کے درمیان مفاہمتی بات چیت کے لیے حماس قیادت کے دورہ قاہرہ کا تعلق ہے تو حماس سنہ 2011ء میں طے پائے معاہدے کو آگے بڑھانے کی شرف پر بات چیت کی بحالی کے لیے مصرآنے کو تیار ہے۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ حماس اور فتح کی قیادت کے درمیان سوئٹرزلینڈ میں ملاقات کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ یہ اطلاعات کس حد تک درست ہیں؟

الزھار:۔۔  اس حوالے سے جتنی بھی افواہیں اور قیاس آرائیاں ذرائع ابلاغ میں آ رہی ہیں ان کے پیچھے تحریک فتح کا ہاتھ ہے۔ مگر حماس ہدف اور لائحہ عمل کو الگ زاویہ نگاہ سے دیکھتی ہے۔حماس استفسار کرتی ہے کہ بالفرض سوئٹرزلینڈ میں حماس اور فتح کے درمیان مذاکرات ہوتے ہیں تو ان کا ہدف کیا ہوگا۔ اگر تحریک فتح کا جواب یہ ہو کہ اس ملاقات کا ہدف ان نقاط سے اتفاق ہو جن پر محمود عباس کا اصرار رہا ہے تو یہ بات قابل قبول نہیں ہوگی۔ اگر حکومت کی تبدیلی کے لیے محض سیاسی مشق کرنا ہو تو ہم یہ مطالبہ کریں گے کہ تنظیم آزادی فلسطین کی تشکیل نو کا مطالبہ کریں گے۔ البتہ لگتا ہے کہ تحریک فتح یہ اصرار کرے گی کہ تحریک فتح کی قیادت اور تنظیم آزادی فلسطین کی قیادت محمود عباس کوسونپنے کامطالبہ کیا جائے گا۔

حماس کسی صورت میں حماس کی محمود عباس کی سیاسی ساکھ کی بہتری میں مدد گار نہیں بنے گی اورنہ ہی مذاکرات برائے مذاکرات کی قائل ہے۔ ایسی صورت میں حماس کسی قسم کا تعاون کرنے کے لیےتیار نہیں جب تک کہ قومی مفاہمت کے لیے حقیقی معنوں میں تبدیلی نہیںآتی۔

کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قومی مفاہمت اور صلح کا عمل اس وقت جمود کا شکار ہے؟ اگر ایسا ہی ہے تو یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟۔

ہم  قومی مفاہمت کی اصطلاح کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ حماس فلسطین میں ایسی کوئی مفاہمت قبول نہیں کی جائے گی جس میں دو رخی پالیسی اور دوہرا معیار اپنایا جائے گا۔ ایک طرف مفاہمت ہو اور دوسری طرف اسرائیلی دشمن کے ساتھ سیکیورٹی تعاون بھی جاری و ساری رہے۔ دشمن کے ساتھ مل کر فلسطینیں کی گرفتاریاں بھی جاری رہیں اور فلسطینیوں کے درمیان اتحاد کی بات بھی کی جائے۔ تو یہ سلسلہ نہیں چلے گا۔ حماس اور تحریک فتح کے درمیان مفامت کے حوالے سے قاہرہ کی میزبانی میں سنہ 2011ء میں قاہرہ میں طے پائے معاہدے کو عملی شکل میں لانے کے لیے موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ حماس فلسطین میں پارلیمانی ، نیشنل کونسل، صدارتی اور بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام قومی سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرنا چاہتی ہے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ تحریک فتح کے دو دھڑوں [محمود عباس گروپ اور دحلان گروپ] کے درمیان جاری محاذ آرائی کو مزید ہوا دینے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ الزام کس حد تک درست ہے؟۔

الزھار:۔۔۔ فتح کے تمام دھڑوں سے ہمارا یہی مطالبہ رہا ہے کہ وہ قومی مفاہمت کے حوالےسے طے پائے معاہدے کی پاسداری کریں۔ اس وقت فتح خود پھوٹ کا شکار ہے۔ میرا خیال ہے کہ تحریک فتح کے دھڑوں میں پھوٹ کا سلسلہ یہاں رکنے والا نہیں۔ فتح میں پھوٹ کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ فتح کے تمام دھڑوں کےدرمیان کسی ایک ایجنڈے پر اتفاق رائے موجود نہیں۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ فلسطینی پارلیمنٹ کے تمام منتخب ارکان فلسطینی قوم کی نمائندگی کرتے ہیں چاہےان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔ مگر تحریک فتح نے کئی سال سے فلسطینی مجلس قانون ساز کوعملا عضومعطل بنا رکھا ہے۔

 کیا حماس اور دحلان کے درمیان عملا کوئی تعلق موجود ہے؟

الزھار:۔۔۔  حماس اور فتح کے مںحرف لیڈر محمد دحلان کے درمیان تعلق کی خبریں فلسطینی قوم کے بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔ حماس کا بنیادی ہدف اور مقصد غزہ کی پٹی پر مسلط پابندیوں کا خاتمہ اور شہریوں کو درپیش مشکلات سے نجات ہے۔ جب بیرونی دنیا سے لوگ غزہ کی پٹی میں آنا چاہتے ہیں تو وہ غزہ کی گذرگاہوں کو بند پاتے ہیں۔ حماس اور دحلان دونوں غزہ کی ناکہ بندی کے خاتمے اور گذرگاہوں کے کھولے جانے کے پرزور حامی ہیں۔

مصر کے ساتھ تعلقات

حماس اور مصر کے درمیان اس وقت تعلقات کی کیا نوعیت ہے؟

الزھار:۔۔ توقع ہے کہ مصر فریقین کے مفاد کے پیش نظر اپنے حالیہ موقف لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے بعض امور پرنظرثانی کرے گا۔ اس ضمن میں چند امور اہم ہیں۔ مثلا حماس کے ساتھھ تعلقات کی بہتری میں مصر کو اقتصادی فایدہ پہنچے گا۔ دوم یہ کہ اسرائیل، علاقے کی بعض دوسری قوتیں حماس کا عزم کمزور کرنے میں کامیاب نہیں رہیں اور غزہ کا معاشی اور اقتصادی محاصرہ حماس کو مخالفین کی شرائط کا پابند بنانے کا موجب نہیں بن سکا۔ مگر اس کے باوجود حماس کسی فریق کے ساتھ محاذ آرائی کی راہ نہیں اپنائے گی۔

مصر کی طرف سے اگر غزہ کی ناکہ بندی ختم کی جاتی ہے اور رفح گذرگاہ دو طرفہ ٹریفک کے لیے کھولی جا رہی ہے تو اس کے نتیجے میں دونوں فریقوں کو فائدہ پہنچے گا۔ مصر کو اس کا سب سے بڑا فائدہ اقتصادی سہولت کی شکل میں پہنچے گا جب کہ غزہ کی پٹی کے عوام کو علاج، تعلیم، بیرون ملک سفر اور سماجی بہبود کے شعبوں میں فوائد کے ساتھ اقتصادی فواید حاصل ہوں گے۔ اس کے نتیجے میں غزہ میں محاصرے کے طویل سلسلے کے خاتمے کا آغاز ہوگا۔ غزہ کی پٹی کی ناکہ بندی محض 10 سال سے نہیں بلکہ 1967ء میں غزہ کی پٹی پر قبضے کے بعد سے جاری ہے۔

کیا حماس کی قیادت کو مصر کے ساتھ مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے کی دعوت دی گئی؟

الزھار:۔۔۔ ابھی تک تو ایسی کوئی دعوت نہیں دی گئی۔ تاہم توقع ہے کہ جب اسماعیل ھنیہ اور ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق مصرمیں آئیں گے تو بغیر دعوت کے مصری حکام کے ساتھ ملاقاتوں کی توقع کی جاسکتی ہے۔

غزہ کی پٹی کو سہولیات ملنے پر فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے خدشات کا اظہار کیا جا سکتا ہے؟

الزھار:۔۔۔ میرا خیال ہے کہ ایسی سوچ شیطانی خیال ہوسکتی ہے۔ تحریک فتح کے بعض عناصر بلا شبہ نہیں چاہتے کہ غزہ کی پٹی کے شہریوں کو سہولیات فراہم کی جائیں۔ وہ غزہ کا محاصرہ جاری رکھنے کے ساتھ ملازمین کی تنخواہیں روکنا، بجلی کا بحران پیدا کرنا اور تعمیر نو کے کاموں کو معطل کرنا چاتے ہیں تاکہ غزہ کی پٹی میں حماس کی حکومت ختم کی جاسکے۔ اب تک ایسا نظریہ بری طرح ناکام رہا ہے، خصوص جب سے مصر نے غزہ کی پٹی کو بعض سہولیات فراہم کی ہیں غزہ کے حوالے سے صہیونی ریاست ناکہ بندی کے حامی عناصر کواپنی گیم شکست خوردگی کا شکار نظر آتی ہے۔ اسرائیل کو بھی اندازہ ہوچکا ہے کہ غزہ کی پٹی کی ناکہ بندی ،مریضوں کو علاج کی  سہولت سےمحروم کرنے اور بنیادی سہولیات سے دوملین شہریوں کو محروم کرنے کی پالیسی کامیاب نہیں ہوسکی۔

تحریک فتح کی ساتویں کانفرنس میں صدر محمود عباس کے دوبارہ چناؤ پرآپ کا موقف؟

الزھار:۔۔  یہ ایک الگ ایشو ہے۔ اس کا تعلق ان لوگوں کے ساتھ ہے جنہوں نے تحریک فتح کی ساتویں کانفرنس میں محمود عباس کو دوبارہ جماعت کا سربراہ منتخب کیا ہے۔ اگر تحریک فتح کے تمام ارکان نے ان کی حمایت کی ہے تو یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا صدر عباس پوری جماعت کی نمائندگی کرتے ہیں۔؟ اس کا جواب نفی میں ہے کیونکہ تحریک فتح کا ایک چھوٹا یا بڑا گروپ ایسا ہے جو صدر عباس کا حامی نہیں۔ نیز یہ کہ صدر محمود عباس رام اللہ سے باہر نہیں جاتے۔ انہوں نے کسی ایک فلسطینی شہر کا دورہ تک نہیں کیا۔ اس لیے وہ صرف فلسطینی اتھارٹی کے محدود سربراہ ہیں۔

تحریک فتح کی ساتویں جنرل کانفرنس میں حماس کی شرکت سے کیا پیغام دیا گیا؟

الزھار:۔۔ حماس تحریک فتح کی ساتویں جنرل کانفرنس میں شریک نہیں ہوئی۔ حماس کےسیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے اس کانفرنس سے ٹیلیفونک خطاب کیا۔ ہمارا پیغام واضح ہے۔ وہ یہ کہ حماس محمود عباس کے ایجنڈے اور پروگرام سے متفق نہیں مگر ہم فلسطینی قوم کی صفوں میں اتحاد ویگانگت کی کوششوں کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ خالد مشعل نے اپنی تقریر میں بھی اسی بات پر سب سے زیادہ زور دیا ہے۔ خالد مشعل نے ساتویں کانفرنس سے خطاب کرکےیہ پیغام دیا کہ حماس جذبہ خیرسگالی کے تحت آگے بڑھنا چاہتی ہے اور محض سیاسی کھیل تماشی تک محدود نہیں اورنہ ہی محمود عباس کے ایجنڈے اور پروگرام کو آگے بڑھانے میں مدد گار ہے۔

ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ فلسطین ہم سب کا وطن ہے۔ سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقے جنہیں اسرائیل قرار دیا گیا بھی فلسطین کا جزو ہیں۔ فلسطین کی مسیحی برادری ہماری قوم اور معاشرے کا جزو ہے۔ غزہ اور بیت المقدس کے بغیر بھی فلسطین مکمل نہیں۔ ہم غزہ کو غرب اردن اور بیت المقدس سےجدا نہیں کرسکتے۔ ہمارے سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر حماس تمام قومی نوعیت کے پروگرامات اورقومی ایجنڈے میں سب کو شریک رکھنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔

غرب اردن میں حماس کے رہ نماؤں اور کارکنوں کے خلاف عباس ملیشیا کا کریک ڈاؤن بدستور جاری ہے۔ اس پرآپ کا کیا موقف ہے؟

الزھار:۔  فلسطینی اتھارٹی کے انٹیلی جنس شعبے نے اسرائیلی دشمن کی فوج کے ساتھ مل کر غرب اردن میں حماس کے رہ نماؤں اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے۔ غرب اردن کے علاقوں میں حماس کے خلاف کریک ڈاؤن تحریک فتح اور فلسطینی اتھارٹی کی سیاسی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس ضمن میں بعض عناصر نے ایک منفی پروپگینڈہ یہ شروع کیا کہ الزھار جماعت میں اپنا دھڑا بنانے میں سرگرم ہیں اور انہوں نے اس منفی پروپیگنڈے کو مبالغہ آرائی کی حد تک اچھالا ہے۔ مگر انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ حماس میں ایسا کرنا حرام کے درجے میں آتا ہے۔ حماس میں سمع واطاعت کے اصول پر عمل درآمد کیا جاتا ہے اور یہ ہمارے عقیدے اور ایمان جا جزو ہے مگر مخالف عناصر صہیونی ریاست کے موقف اور پالیسی کو رواج دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہم قرآن کے اس فلسفے پرقائم ہیں کہ عہدے کے طلب گار کو عہدہ ومنصب نہیں دیا جاتا اور ایسا کرنا ہمارے نزدیک حرام ہے۔ جو شخص خود کو کسی منصب کا امیدوار بنائے تو وہ اس عہدے کے لیے 100 فی صد ناہل ہوجاتا ہے۔

ہم انتظامی امور اور اختلاف رائےمیں ایک دوسرے سے الگ موقف اپنا سکتے ہیں مگراکثریت ہی کی رائے اور فیصلے کو اختیار کیا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں حامی اور مخالف دونوں ایک ایجنڈے پر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں بھی مسلمانوں میں اسی طرح اتحاد اور اتفاق قائم رہا۔ شورائیت پرمبنی نظام تشکیل دیا گیا اور سب شوریٰ کے فیصلے کی پابندی کرتے تھے۔ حماس بھی شورائیت کے نظام کی قائل ہے۔

حماس کے جماعتی انتخابات

حماس کے پارٹی انتخابات قریب آچکے ہیں۔اس میں کون کس عہدے پرفائز ہوسکتا ہے؟ نیز کیا انتخابات میں نوجوان قیادت کو موقع ملے گا؟

الزھار:۔۔۔ حماس کے پارٹی انتخابات کے لیے امیدواروں کے نام جلد سامنے لائے جائیں گے۔ کوئی نہیں جانتا کہ انتخابات میں کون کیا بنتا ہے۔ اچھا ہے کہ اگرحماس کی قیادت میں نئے چہرے سامنے آئیں اور نئے مردان کار کو موقع ملے مگر حماس کا نظام انتخاب شورائیت کے اصولوں پرمبنی ہے۔ ہرعلاقے اور شہر میں حماس کی مقامی قیادت کی ایک مجلس شوریٰ ہے جو اپنی مرضی سے نئے عہدیداروں کا انتخاب اور چناؤ عمل میں لاتی ہے۔ ہم چونکہ سمع واطاعت کےقائل ہیں اس لیے جو جس عہدے کےلیے منتخب ہوا ہم اسے خوش آمدید کہیں گے۔

جہاں تک ماضی کے تجربات کی بات ہے تو اس کا مطلب یہ کہ ہمیں ماضی کے منفی اور مثبت فیصلوں سے سبق سیکھنا ہے۔

رہی بات نوجوان قیادت کی تو اگراہم جماعت کی فیلڈ قیادت پر ایک نظر ڈالیں تو جماعت کا ایک مربوط نیٹ ورک دکھائی دیتا ہے جو جماعت کے انتظامی اور دیگر اداروں کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ذرائع ابلاغ، عسکری شعبے اور دیگر شعبوں سے بڑی تعداد میں حماس کی نوجوان قیادت وبستہ ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز یہ نہیں کہ بزرگوں کے تجربات بے معنی ہوگئے ہیں۔

یہ اطلاعات بھی آئی ہیں کہ حماس ایک نئی سیاسی دستاویز سامنے لانے کا پروگرام رکھتی ہے۔ کیا حماس حقیقی معنوں میں اپنی پالیسی میں تبدیلی کی طرف گامزن ہے؟۔

الزھار:۔۔ حماس کی قیادت کی جانب سے اپنے بنیادی اصولوں سے پیچھے ہٹنے کی باتیں دشمن عناصر کی پھیلائی ہوئی  ہیں۔ یہ تاثر قطعی بے بنیاد ہے کہ حماس ماضی کی غلطیوں کی اصلاح کرنا چاہتی ہے۔ حماس نے ماضی میں جو پالیسی اپنائی اسے مزید مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ قوم کی بہتری کے لیے اقدامات جاری رکھے گی مگر بنیادی اصولوں سے پیچھے ہٹنے اور کسی نئی سیاسی دستاویز کی باتیں دشمن عناصر کی منفی سوچ کا عکاس ہیں۔

انتفاضہ القدس

تحریک انتفاضہ القدس کے موجودہ مرحلے میں حماس کہاں کھڑی ہے؟

الزھار:۔۔۔  فلسطین میں تحریک انتفاضہ ایک طویل تحریک تاریخ رکھتی ہے۔ سنہ 1987ء میں فلسطین میں شروع ہونے والی تحریک انتفاضہ کے بعد آج انتفاضہ القدس تک فلسطینی قوم نے مزاحمتی میدان میں کئی اہم سنگ میل طے کیے ہیں۔ پہلی تحریک انتفاضہ میں فلسطینی عوام نے مزاحمت کا سفر پرامن مظاہروں سے شروع کیااور آج ہم القسام راکٹوں کے دور میں داخل ہیں۔ ہمیں نظریات اور آلات میں فرق واضح کرنا ہے۔ ہمیں اس تصور کو غلط ثابت کرنا ہے کہ فلسطینی عوام میں انتفاضہ دشمن سوچ موجود ہے۔ فلسطینی قوم نے  اپنے عمل اور جان ومال کی قربانیوں کے تسلسل سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ تحریک انتفاضہ کو آگے بڑھانے کے اصول کے حامی ہیں۔ اسرائیلی جیلوں مید قید ہزاروں فلسطینی انتفاضہ کی زندہ مثال ہیں۔ انتفاضہ صرف کسی ایک فلسطینی شہر تک محدود نہیں رہی بلکہ سنہ 1948ء کے اندرونی علاقوں تک پھیل چکی ہے۔ الشیخ راید صلاح کی جیلوں میں بار بارقید اس بات کا بین ثبوت ہے کہ فلسطینی قوم اپنی سرزمین کا ایک ذرہ بھی دشمن کو دینے پر تیار نہیں ہیں۔

اسرائیلی فوج اکثرحماس کے خفیہ سیل پکڑنے اور جماعت پران کی پشت پناہی کا الزام عاید کرتی ہے۔ اس حوالے سے آپ کا موقف؟

الزھار:۔۔ یہ بات ہمارے لیے باعث شرف ہے کہ دشمن یہ اعتراف کرنے پرمجبور ہے کہ انتفاضہ القدس، بیت المقدس اور غرب اردن میں حملوں میں حماس کے حمایت یافتہ نوجوان پیش پیش ہیں۔ جو لوگ یہ وہم رکھتے ہیں کہ حماس کے کارکنوں کو جیل میں ڈال کران کے آزادی کے لیے عزم کو توڑا جاسکتا ہے تو وہ بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ جیلوں سے نکلنے والے نہ تووطن سے بھاگتے ہیں اور نہ ہی تحریک آزادی سے پیچھے ہٹتے ہیں۔ جیلیں، تشدد اور سزائیں فلسطینیوں کے عزم کو اور بھی راسخ اور مضبوط کرتے ہیں۔

خالد مشعل نے اپنی ایک تقریر میں تنظیم آزادی فلسطین کو قوم کا روایتی اصولی ادارہ قرار دے کر قومی سیاسی شراکت کے اصول پر اسے فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ آپ کے خیال میں فلسطین موجودی انتشاری صورت حال کو کیسے تبدیل کیا جاسکتا ہے؟

الزھار:۔۔۔ تنظیم آزادی فلسطین ایک جسد کا نام ہے جس کی بنیاد سنہ 1964ء میں اردنی فرمانروا شاہ حسین کے دور میں رکھی گئی تھی۔ حماس کا کبھی بھی یہ مطالبہ نہیں رہا کہ ایک نئی تنظیم آزادی فلسطین تشکیل دی جائے مگر ہم یہ کہتے ہیں کہ تنظیم آزادی کا موجودہ ڈھانچہ اپنے پروگرام کو عملی شکل دینے میں ناکام ہوچکا ہے، حتیٰ کہ سنہ 1967ء کی حدود میں فلسطینی ریاست کےقیام کے ایجنڈے کو بھی آگے نہیں بڑھایا جاسکا۔ اس لیے ہم پی ایل کو نئی بنیادوں پر تشکیل دینے کے خواہاں ہیں۔

خالد مشعل کی تقریر سے یہ مطلب اخذ نہ کیا جائے کہ حماس تنظیم آزادی فلسطین کی موجودہ شکل کو قبول کرنے کو تیار ہیں۔ ہم پورے سیاسی شعور کے ساتھ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنے ایجنڈے میں ناکام رہنے والی تنظیم آزادی فلسطین کی تشکیل نو وقت کی ضرورت ہے۔

محمد الزواری کے تیونس میں قتل کے بعد حماس اس قتل کا الزام  عملا اسرائیل پرعاید کرتی ہے؟۔

الزھار:۔۔۔ اسرائیلی وزیردفاع آوی گیڈور لائبرمین یہ کہہ کرخود ہی اعتراف جرم کیا ہے کہ اسرائیل کو اپنے کسی بھی دشمن کے خلاف کہیں بھی کارروائی کا حق ہے۔ اس بیان کے بعد کسی اور اعترافی بیان کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ یہ بیان الزواری کو شہید کرنے میں ملوث ہونے کے اسرائیلی اقرار کے مترادف ہے۔

الزواری کے قتل میں اسرائیل کے سوا اور کوئی ملوث نہیں ہوسکتا۔ مگر ہم دشمن کو یہ پیغام بھی دینا چاہیں گے کہ فلسطینی شہری اپنی قوم مقدسات، مسئلہ فلسطین اور قوم کے دیرینہ حقوق کے حصول کے لیے جغرافیائی سرحدوں سے ماوراء ہو کرمساعی جاری رکھیں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY