حضرت صدیق ِ اکبر ( 14)۔۔۔ شمس جیلانی

0
113

ہم گزشتہ مر تبہ یہا ں تک پہو نچے تھے ۔ کہ حضور(ص) نے حضرت ابو بکر (رض) کو بنی فرازہ کی مہم پر روانہ فر ما یا ۔مگر وہ فرار ہو گئے اور حضرت ابو بکر (رض)اپنے لشکر کے ساتھ واپس تشریف لے آئے ۔ اس کے بعد ایک واقعہ ایسا ہو ا کہ جو فتح مکہ پر متنج ہوا ۔ جیسا کہ آپ کو یا د ہو گا کہ صلح حدیبیہ کے مو قعہ بنو بکر نے کفا ر کے ساتھ معاہدہ کیا تھا ، جبکہ بنو خزاعہ نے حضور (رض) کے ساتھ ۔ بنو بکر اور خزاعہ کے در میان اوربہت پرا نی دشمنی چلی آرہی تھی ۔ انہوں نے قریش کی شہ پر ان پر حملہ کر دیا جب ان میں کے کچھ لوگ کعبہ میں پنا ہ گزیں ہو گئے۔ تو بھی انہو ں نے کعبہ کا احترام نہیں کیا ۔ اور وہا ں بھی انہیں قتل کر دیا ۔اور اسی پر بس نہ کی ان کی بستی پر شبخو ن ما را اور وہا ں جاکر اچھی خا صی تعداد کو قتل کیا ۔جس میں قریش بذات ِخو د بھی شریک ہو ئے ۔ اس کی دُھائی دینے کے لیئے ان کا ایک وفد مدینہ منورہ معا ہدے کے تحت مدد کے لیئے پہو نچا ۔ حضور (ص) نے تمام واقعات سنے، پھر کچھ لو گوں کو تحقیق کے لیئے بھیجا۔ جب انہو ں نے بھی واپس آ کر واقعات کی تصدیق کر دی تو ۔ حضو ر (ص) قریش کو پہلے الٹی میٹم دیا کہ جس میں تین شرائط تھیں۔ ( 1) مقتولین کا خو ن ِبہا دیا جا ئے (2) یا قریش بنو بکرکے ساتھ اپنا معا ہدہ منسوخ کرد یں ۔ (3) یاپھر معاہدہ حدیبیہ کو کا لعدم سمجھا جائے ۔ قریش نے بڑی رعونت کے ساتھ۔ پہلی دو شرا ئط ماننے سے انکا ر کر دیا اور کہا کہ تیسری یعنی معاہدہ حدیبیہ کی منسو خی ہمیں منظور ہے ۔ حضور (ص) نے یہ جواب ملنے کے بعد، مکہ معظمہ پر حملہ کر نے کی تیا ری شرع کر دی۔اس کی بھنک جب قریش کے کان میں پڑی۔ تو انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو ا اور انہو ں نے ابو سفیا ن جو کہ ان کا سردار تھا اور ہر شرا رت کے پیچھے بھی ۔ اسی کومد ینہ شریف بھیجا کہ کچھ جاکر کرے۔چونکہ ام المو نین ام ِ حبیبہ (رض) کو حضو ر (ص) کی زوجہ ہو نے کا اب فخر حا صل ہو چکا تھا جوکہ ابو سفیان کی صا حبزادی تھیں ۔ جبکہ وہ پہلے عبد اللہ بن حجش کی بیوی تھیں۔جو ابو سفیان اور بھا ئی معاویہ وغیرہ کے ظلم سے تنگ آکر حبشہ ہجرت کر گئیں تھیں ۔کچھ عرصہ کے بعد وہا ں ان کے شو ہر انتقال کر گئے ۔ حضور (ص) نے ان کے لیئے چند صحا بہ کے ہاتھ پیام بھیجا ، اور ان کی طر ف سے نجا شی نے وکلا لت کے فرا ئض انجام دیئے ۔اور ان کو حضو ر (ص) کے عقد میں دیدیا ۔اب وہی باپ ا ُس بیٹی کے در پر تھا ۔ وہ جب ان کے حجرے میں پہو نچا کہ ان سے سفا رش کرا ئے ۔ تو انہوں نے پہلے تو اسلامی تعلیمات کے مطابق اس کا ادب ملحو ظ رکھا۔ لیکن اس سے نا دانستگی میں ایک غلطی ہو گئی کہ وہ حضور (ص) کے بستر ِ مبا رک پر بیٹھ گیا۔ وہ جو ابھی تک قر آن کے مطابق باپ کے حقوق ادا کر رہی تھیں ۔اب بیوی کے فرائض کا تقاضہ سامنے آگیا۔اور وہ یہ برداشت نہ کر سکیں ۔انہوں نے فر مایا کہ تم کا فر ہواور یہ رسول (ص) کا بستر ہے لہذا اس پر سے ہٹ جا ؤ ۔ اس پر وہ ان کو برا بھلا کہتا ہوا اٹھ کر چلا آیا ۔ پھر اس کو مسجد ِ نبوی کے قریب ہی حضرت ابو بکر (رض) مل گئے ۔ اس نے ،ان سے سفارش کی در خواست کی۔ چو نکہ وہ مزا ج شناس ِ رسول (ص)تھے ۔ انہوں نے یہ کہہ کر انکا ر کر دیا کہ تم قریش کے سر دار ہو۔میرے بجا ئے اپنے قبیلہ کے کسی مہا جر سے سفارش کے لیئے کہو ! پھر وہ حضرت عمر (رض) کے پا س گیا انہوں نے فر ما یا کہ( جو تیرے کر توت ہیں) میں اور تیری سفا رش کروں؟ اگر میرا بس چلتا تو تیرا سر اڑا دیتا! پھر وہ حضرت عثمان (رض) کے پاس پہونچا وہا ں سے بھی نا امید ہو کر پھر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پا س آیا انہوں نے فرمایا کہ میں اس معاملہ میں تمہا ری سفارش تو نہیں کر سکتا ۔لیکن میرا مشورہ یہ ہے کہ تم مسجد ِ نبوی (ص)کے سامنے جاکر یک طر فہ معا ہدہ حدیبیہ کی تو ثیق کا اعلان کر دو ۔ اس نے پو چھا کہ اس سے کیا کو ئی فا ئدہ ہوگاانہوں نے فر مایا ۔ کہ امید تونہیں ہے البتہ تمہا رے پاس اسکے سوا کو ئی چارہ بھی نہیں ہے ۔اس نے تجدید معا ہدہ کا اعلان کیا اور چلا گیا۔ جب وہ مکہ پہو نچا تو لوگ بہت ہی مایوس ہو ئے ۔ادھر ایک دن حضرت ابو بکر (رض) اپنی صا حبزادی عائشہ (رض) کے حجرے پر تشریف لے گئے تو دیکھا کہ وہ کسی سفر جیسی تیا ری کر رہی ہیں ۔تو حضرت ابو بکر (رض) نے پو چھا کہ یہ تمہیں رسول (ص)اللہ نے حکم دیا ہے! یا اپنے طور پر کر رہی ہو ؟ تو انہو ں نے کہا کہ حضور (ص) نے حکم دیا ہے۔ اور میری را ئے یہ ہے کہ آپ بھی سفر کی تیا ری کر لیں ۔ جب وہ باہر تشریف لائے تو حضور (ص) سے ملا قات ہو ئی اور انہوں نے ان کو اعتماد میں لے کر خو د ہی یہ بتا دیا کہ آپ بھی تیار ہو جا ئیں ۔ ہم مکہ پر حملہ کر نے جا رہے ہیں ۔حضور(ص) نے دس ہزار اسلامی لشکر تیا ر کیا اور عام شاہ راہوں کے بجائے ایسا راستہ اختیارفر مایا، جو کسی نے پہلے نہیں اختیار کیا تھا ۔ دشمن کواس وقت پتہ چل سکا۔،کہ فو ج ان کے سر پر پہو نچ گئی اور مّرا لظہران میں جاکر ٹھہرگئی۔اتفاق سے سب سے پہلے جس نے اسلامی لشکر دیکھا وہ ابو سفیان تھا ۔ وہ اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ ، سن گن لینے آیا تھا کہ یہ کس کا لشکر ہے!تو حضرت عباس (ص) کے ہا تھ چڑھ گیا ،جنہو ں نے اسے گر فتار کر کے در با ر ِ رسا لتمآب میں پیش کر دیا ۔ اوروہ وہاں پر ایمان لے آئے ۔ دوسرے دن اسلامی فو ج مکہ کی طر ف روانہ ہو گئی اور ابو سفیان (رض) اسلامی فوج کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے توانہوں نے اعلان کیا کہ یہ محمد (ص) کا لشکر ہے اور تم اس کو شکست نہیں دے سکتے ۔لہذا جو میرے گھر میں پنا ہ لے لے وہ ، اور جو بیت اللہ میں پنا ہ لے وہ اور جو گھر بند کر کے بیٹھ رہے وہ محفوظ ہے۔ جس پر قریش کی خوا تین نے ان کی بہت بے عزتی کی۔جب فو ج مکہ میں داخل ہو ئی تو حضرت زبیر (رض) بن عوام کو میسرہ پر حضور (ص) نے مقرر فر مایا اوردوسری طر ف سےحضرت سعد (رض) بن عبادہ کو مکہ معظمہ میں دا خل ہو نے کاحکم دیا ۔اور خو د در میان میں تشریف فرما رہے جس حصہ کی قیا دت حضرت ابو بکر (رض) کر رہے تھے ۔ حضور (ص) کد کے با لا ئی حصہ کی طر ف سے مکہ میں دا خل ہو ئے ۔ جب حضو ر (ص) طواف وغیرہ فا رغ ہو گئے۔ تو حضرت ابو بکر (رض) اپنے والد قیا فہ کو لے کر آئے اور حضور (ص) سے در خواست کی کہ ان کو بیعت فر مالیں ۔ حضور (ص) نے فر مایا کہ تم نے بزرگوار کو، کیوں تکلیف دی میں (ص) خود ان کی خد مت میں حا ضر ہو کر بیعت لے لیتا ۔ مگر حضرت ابو بکر (رض) نے فر مایا کہ آپ کے جا نے سے یہ میں نے بہتر خیال کیا کہ وہ آپ (ص) کی خدمت ِ اقدس میں حا ضر ہو ں۔تب حضو ر (ص)نے ان کے سینے پر ہا تھ رکھا اور فر ما یا کہ آپ مسلمان ہو جا ئیے۔ اور انہوں نے کلمہ پڑھ کر اسلام قبو ل کر لیا ۔ جس وقت ابو بکر (رض) انہیں لے کر حرم پہو نچے تو ان کے با ل بے ہنگم اور سفید ہو رہے تھے ۔کیو نکہ کچھ عرصہ پہلے وہ اپنی بینا ئی کھو چکے تھے ۔لہذا حضرت ابو بکر (رض) سے حضور (ص)نے فرمایا کہ ان کے با ل کٹواؤ اور ان کو مہندی لگا دو ۔
حضرت ابو بکر (رض) کی لغزش ۔ حضو ر (ص) کو فتح مکہ کے بعد پتہ چلا کے ہوازن اور دوسرے قبا ئل برے ارادے سے جمع ہو رہے ہیں ۔ لہذا با رہ ہزار فو ج لے کر ۔ ان کی طر ف روانہ ہو ئے اور جب اس عظیم فو ج کو دیکھا تو حضرت ابو بکر (رض) نے فر ما یا کہ بھلا اتنی بڑی فوج کو کون شکست دے سکتا ہے ؟ اور یہ ہی بات اللہ تعا لیٰ کو ناپسند ہوئی اور اس پر گرفت ہو ئی ۔جس پر وہ اس کے بعد سے ہمیشہ نا دم رہے ۔اس واقعہ کو بہت سے مورخین لکھا ہے تو ہے۔ مگر کسی نے کہنے والے کا نام ظاہرنہیں کیاکہ یہ الفاظ کس نے کہے تھے ۔ البتہ ابن ِ اکثیر (رح) نے ان کا یہ اعتراف ضرور تحریر کیا ہے کہ حنیں میں فتح ان کی تعداد تھو ڑی ہو نے کی وجہ سے نہیں ہو ئی ۔یہ پہلی مرتبہ ان کی سوانح حیات میں پرو فیسر مسعود الحسن صاحب نے انکشا ف کیا ہے کہ یہ الفا ظ حضرت ابو بکر (رض) نے ادا کیئے تھے ۔ جب کہ دوسرے مورخین نے کسی نام نہیں لیا ہے ، ممکن ہے کسی اور نے کہے ہوں۔ واللہ عالم ۔
غزوہ طائف ۔ ہوازن چونکہ بھاگ کر طاس اور اس پر حملہ کے بعد طا ئف چلے گئے تھے ۔ لہذا ان کا تعا قب اور قلع قمعہ کر نے کے لیئے حضو ر (ص) نے طا ئف کی طر ف پیش قد می فر ما ئی ۔لیکن اہل ِ طا ئف قلعہ بند ہو گئے ۔ پندرہ دن تک محا صرہ رہا اس میں پہلے مرتبہ مسلمانو ں نےمنجیق او ر دبا بہ استمال کیا۔ مگر کا میا بی نہیں ہو ئی پھر حضرت ابو بکر (رض) کو ایک دن خصو صی طور پر بھییجا۔ لیکن ان کی تمام تک و دو بھی نا کام رہی اور قلعہ فتح نہ ہو سکا ۔ تب حضو ر (ص) نے مجلس ِ مشاورت طلب فر ما ئی ۔ حضرت ابو بکر (رض) محا صرہ کے دوران قلعہ کی مضبو طی کا اندا زہ کر چکے تھے ۔ لہذا انہوں نے حضور (ص) کو مشورہ دیا کہ محا صرہ اٹھا لیا جا ئے شاید اللہ کو ئی بہتری کر ے ۔ اس میں دو را ئے ہیں ۔ ایک تو یہ ہے کہ انہو ں نے سو چا کہ طا ئف والوں نے جن کو پناہ دے رکھی وہ اس موقعہ سے فا ئدہ اٹھا ئیں گے۔ اور نکل جا ئیں گے اور اہل ِ طا ئف انکو پناہ دینے کی ذمہ داری سے آزاد ہو جا ئیں گے لہذا ضد اور مزاحمت کمزور پڑ جا ئیگی ۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ ان کی رو شن ضمیری تھی ۔ بہر حال وجہ کچھ بھی ہو قلعہ کا محا صرہ چند شرا ئط پر اٹھا لیا گیا اور ان کو ایک سال کی مہلت دیدی گئی ۔ بعد میں وہ لو گ مد ینہ ایک وفد لے کر آئے کچھ شرا ئط کے ساتھ مسلما ن ہو گئے ۔

SHARE

LEAVE A REPLY