
اسرائیلی پارلیمان نے فلسطینیوں کی نجی زمین پر ہزاروں یہودی گھروں کو قانونی حیثیت دینے کے لیے ایک متنازعہ قانون کی منظوری دے دی ہے۔ ایک سو بیس قانون سازوں میں سے ساٹھ نے اس متنازعہ قانون کے حق میں ووٹ دیے جبکہ باون نے اس کی مخالفت کی۔
اس طرح مغربی اردن کے مقبوضہ علاقے میں تقریباً چار ہزار اسرائیلی گھروں کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ اسرائیلی گھر فلسطینیوں کی نجی زمین پر بنائے گئے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے فلسطینی زمین کے نجی مالکان کو رقم بھی ادا کی جائے گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد سے اسرائیل پانچ ہزار نئے یہودی آباد کار گھروں کی تعمیر کا اعلان کر چکا ہے۔












