رڈ نذیرنےامن کی آشا،ذرا سوچئے مہم ،جنگ، جیو لندن کی تنخواہوں کے بارے میں الزامات پرافسوس کا اظہار کیا ہے اور الزامات واپس لیتے ہوئے معذرت کرلی۔

برطانوی عدالتوں کے توسط سے جنگ اور جیو کے ایڈیٹر ان چیف میر شکیل الرحمان کی جانب سے ہتک عزت کا نوٹس بھیجے جانے کے بعد لارڈ نذیر نے اپنے طور پر تفتیش کی اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہو ئے تمام ا لزامات واپس لے لئے۔

لارڈ نذیر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ الزامات لگانے کے لیے سیاست دانوں، چند کاروباری افراد، ایڈیٹر ان چیف میر شکیل الرحمان کے کاروباری حریفوں اور کچھ اینکرز نے جنگ جیو کے خلاف جو معلومات اور دستاویزات فراہم کیں،تصدیق کرانے پر سب الزامات غلط نکلے۔

چالیس سال سے لندن میںمقیم لارڈ نذیرنے کہا کہ الزامات پر جب تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ امن کی آشا مہم شفاف تھی اور ایک اچھا کام تھا جس کی فنڈنگ باہر سے ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

اس سوال کے جواب میں کہ آپ نے الزام لگایا کہ را اور بھارتی بھی امن کی آشا کو سپورٹ کر رہے ہیں،تو لارڈ نذیر نے جواب دیا کہ مجھے دستاویزی اطلاع ملی تھی مگر جب تحقیق کی تو کوئی ثبوت نہیں ملا۔

ان کا کہنا ہے کہ بات صاف ہو جائے تو مان لینی چاہیے، برطانیہ کے ڈپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کی طرف سے جیو کی ذرا سوچیے مہم کے لیے امداد پرالزامات میں لارڈ نذیر نے کہا کہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ فنڈنگ قانون کے مطابق اور شفاف تھی۔

جنگ اور جیو لندن کے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق بھی لارڈ نذیر نے الزام لگایا تھا تاہم اب ان کا کہناہے کہ تحقیق سے وہ الزام بھی غلط ثابت ہوا جس کے بعد انھوں نے جنگ، جیو اور ایڈیٹر ان چیف میر شکیل الرحمان پر اپنے تمام الزامات واپس لے لیے ہیں۔

مذہب اور حب الوطنی کے نام پر جھوٹ بول کرایجنڈے اور گرینڈ پلان کے تحت لوگوں پر بدنیتی سے الزام لگانے والوں کا بھانڈا پھوٹ چکا ہے،اے آروائی نے بھی برطانوی عدالت میں اعتراف کیا کہ ایڈیٹر انچیف جیو ،جنگ میرشکیل الرحمان کے خلاف لگائے گئے تمام الزامات جھوٹے تھے ۔

اب چالیس سال سے برطانیہ میں مقیم کشمیر کاز اور پاکستان کے لیے آواز اٹھانے والے برطانوی دارالامراء کے رکن لارڈ نذیر نے بھی مان لیا کہ امن کی آشا ایک اچھا کام ہے،تحقیق کی تو پتہ چلا کہ ایڈیٹر ان چیف میر شکیل الرحمان، جنگ، جیو اور امن کی آشا پر غلط الزامات لگائے تھے، مجھے گمراہ کیا گیا تھا

SHARE

LEAVE A REPLY