پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے اپر کوہستان میں داسو ڈیم کے منصوبے پر کام کرنے والے چینی انجینئر کو پولیس نے مبینہ طور پر توہین مذہب کے الزام میں تحویل میں لے لیا ہے۔
داسو پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار نے وائس آف امریکہ کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ چند روز قبل اُس وقت پیش آیا جب چینی انجنیئر نے مزدوروں کے کام کی سست رفتاری پر اعتراض کیا جس کے جواب میں مزدوروں نے نماز کے وقفے کی بات کی۔
پولیس اہلکار کے مطابق مزدوروں اور چینی انجینئر کے درمیان تکرار لفظی جنگ میں تبدیل ہو گئی اور یوں مزدوروں نے سائٹ پر کام روک دیا۔ جس کے بعد انہوں نےاحتجاج کرتے ہوئے چینی انجینئر پر توہینِ مذہب کا الزام لگا کر شاہراہِ قراقرم کو بلاک کر دیا۔
معاملے کی حساسیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے وائس آف امریکہ کو نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ برسین کے علاقے میں ہونے والے اس احتجاج میں 400 سے 600 مظاہرین شریک تھے۔ یہ احتجاج اس وقت ختم ہوا جب احتجاج کرنے والوں کو چینی انجینئر کو پولیس تحویل میں لینے کی یقین دہانی کرائی گئی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تصویر میں ایک چینی باشندے کو پولیس کی تحویل میں دیکھا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران توہینِ مذہب کے متعدد واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ہی صوبۂ پنجاب میں ایک خاتون اور ان کے بیٹے کو توہینِ مذہب کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
تاہم ایسا پہلی بار ہو اہے کہ پاکستان میں کسی غیر ملکی کو توہینِ مذہب کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہو۔
واضح رہے کہ اپر کوہستان کے مختلف علاقوں اور گلگت بلتستان کے دیامیر بھاشا میں کئی چینی باشندے پانی جمع کرنے اور بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کی تعمیر پر کام کر رہے ہیں۔
ضلعی اہلکار کے مطابق حالات کی سنگینی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مقامی علما اور عمائدین کا جرگہ بلانے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ معاملے کو حل کیا جا سکے۔ مزدوروں اور چینی انجینئروں کے کیمپ کی سیکیورٹی بھی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
مقامی سطح پر تنازعات کے تصفیے کے لیے بنائی جانے والی کمیٹی کے ایک رکن مولانا عبدالعزیز نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ بظاہر یہ واقعہ جمعے کے روز کسی وقت پیش آیا تھا جس میں کمپنی میں کام کرنے والے مقامی افراد کو چینی انجینئر نے نماز کی ادائیگی کے بعد تاخیر سے آنے پر ڈانٹا تھا۔
ان کے بقول، مقامی مزدوروں نے چینی انجینئر کے نماز سے متعلق الفاظ کو توہینِ مذہب قرار دیا۔ جس کے احتجاج کی کال دی گئِ۔













