امریکہ کی سفری پابندی،سان فرانسسکوکی اپیلٹ کورٹ میں سرکاری وکیل سے سخت سوالات

0
929

سات مسلم ملکوں پر سفری پابندی سے متعلق سان فرانسسکوکی اپیلٹ کورٹ میں سماعت کے دوران محکمہ انصاف کے وکیل سے ججز نے سخت سوالات کیے۔کیا پابندی مذہبی امتیاز کے زمرے میں تو نہیں آتی؟پابندی زدہ ممالک کے شہری دہشت گردی میں ملوث ہیں توشواہد پیش کئے جائیں ؟

پابندی معطل کیے جانے کے عدالتی فیصلے کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ اپیلٹ کورٹ پہنچ گئی ۔سان فرانسسکو کی نائنتھ سرکٹ کورٹ آف اپیلز میں مقدمے کی ایک گھنٹے سماعت ہوئی جہاںتین ججز پرمشتمل پینل نےٹرمپ کی قانونی ٹیم سے سخت سوالات کیے۔

وکیل ٹرمپ انتظامیہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صدارتی حکم نامے کومعطل کرکے عدالت نےنیشنل سیکیورٹی کے معاملات میں مداخلت کی۔

جج نے جواب دیا قانون کی اصل تشریح کرنا اور حکومتی فیصلوں پر چیک رکھنا عدالت ہی کا کام ہے۔ججز نے استفسار کیا کہ پابندی زدہ ممالک کے شہری دہشت گردی میں ملوث ہیں توشواہد پیش کئے جائیں ؟

وکیل ٹرمپ انتظامیہ نے کہافی الحال اس سے متعلق کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔

سماعت کے بعد عدالت کی جانب سے اپیل پر فیصلہ جلد دئیے جانے کاامکان ہے

اپیل کورٹ کے ترجمان ڈیوڈ میڈن نے بتایا ہے کہ متوقع طور پر رواں ہفتے کے اواخر تک عدالت اپنا فیصلہ سنا دے گی۔ اگر یہ اپیل کورٹ ماتحت عدالت کے فیصلے کو نہیں بدلتی تو یہ معاملہ سپریم کورٹ تک جا سکتا ہے۔ اپیل کورٹ جائزہ لے رہی ہے کہ آیا صدر ٹرمپ کی طرف سے مہاجرین اور سات مسلم ممالک کے شہریوں کی امریکا آمد پر پابندی کا ایگزیکٹیو آرڈر غیر آئینی یا نہیں۔
گزشتہ جمعے کے دن واشنگٹن ریاست کے شہر سیاٹل کے وفاقی جج جیمز رابرٹ نے اس پابندی کو عارضی طور پر ملک بھر سے ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا تھا۔ تاہم ہفتے کے دن امریکی محکمہ انصاف کی طرف سے اس عدالتی فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل میں کہا گیا کہ یہ پابندی امریکا کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر عائد کی گئی ہے۔
وکلاء کی طرف سے دلائل دیے جانے پر اپیل کورٹ کے جج رچرڈ کلفٹن نے سماعت کے دوران سوال کیا کہ اس پابندی سے مسلم دنیا کی صرف پندرہ فیصد آبادی متاثر ہو سکتی ہے، تو کیا اس طرح یہ مسلم ممالک کے خلاف امتیازی ہو سکتی ہیں؟ تاہم امریکی انتظامیہ کے وکلاء کے بقول امریکی کانگریس نے صدر کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ کنٹرول کریں کہ ملک میں کون آ سکتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY