امیرِ وقت فقیروں کے سر پہ ناچتے ہیں۔
جو موت بھول گئے ہیں وہ زر پہ ناچتے ہیں

یہ اوجِ ظلم و ستم ہے کہ ارتقائے بشر؟
ہوا کے دوش پہ کچھ بحر و بر پہ ناچتے ہیں

نوازتے نہیں افسوس نان کا ٹکڑا
زمیں پہ ناچتے ہیں خشک و تر پہ ناچتے ہیں

متاعِ زیست گراں ہیں حیات چند روزہ
کہ اونچے بام پہ دیوار و گھر پہ ناچتے ہیں

جھکائے سر کو چلانا قلم نہیں ہے سہل
کہ درد رات کو اُٹھ کر کمر پہ ناچتے ہیں

فصیل ِ زہد و ورع خاک سوزصاحب کی
کہ اُن کی عمر پہ حُسنِ سحر پہ ناچتے ہیں

سوز صاحب

SHARE

LEAVE A REPLY