مسعود اشعر قافلے کے پڑاٶ میں / تحریر:۔ظفر معین بلے جعفری

0
1434

مسعود اشعر قافلے کے پڑاٶ میں / تحریر:۔ظفر معین بلے جعفری

دو ، تین برس قبل کی بات ہے کہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں عالمی سالانہ اردو کانفرنس کے دوران آڈیٹوریمز میں کانفرنس کے سیشن جاری تھے اور مسعود اشعر انکل نے سر میں درد محسوس کیا تو وہ کانفرنس آڈیٹوریم سے اٹھ کر کھلی ہوا اور فضا میں باہر آگٸے ۔ اسے محض اتفاق ہی کہا جاسکتا ہے کہ ہم نے آڈیٹوریم کے اندر جانے کےلیے دروازہ کھولا تو اس سے قبل کہ ہم قدم اندر رکھتے ہم نے مسعود اشعر صاحب کو باہر آتے ہوٸے دیکھا تو دروازہ کھول کر ان کے قدم ہال سے باہر کے انتظار میں کھلا ہی رکھا ۔ ایک ڈیڑھ گھنٹہ قبل ہم مسعود اشعر صاحب سے مل چکے تھے۔ ہم بلا جھجک دریافت کرلیا کہ انکل آپ کیا چاٸے کی طلب ہورہی ہے ۔ مسعود اشعر انکل سے ہمارا حد درجی احترام کا مگر بےتکلفانہ تعلق تھا ۔ ہمارے سوال کے جواب میں انکل نے فرمایا ہاں بھٸی ضرور چاٸے کی طلب بھی ہورہی ہے اور سر میں درد سا بھی محسوس ہورہا ہے۔ ہم دونوں ایک ٹیبل پر بیٹھ گٸے اور پھر ہم نے مسعود اشعر انکل سے عرض کیا کہ ہم ایک منٹ میں آپ کےلیے خود چاٸے لے کر آتے ہیں۔ ہماری اس بات پر انکل مسکراٸے اور فرمایا کہ کسی سے کہہ دیں آپ خود کیوں زحمت فرماتے ہیں۔ جواب میں ہمارے پاس بھیکہنے کو کچھ نہ تھا لہذہہم بھی مسکرادیٸے اور واقعی ہمیں چاٸے لانے میں ایک دو منٹ ہی لگے ہونگے۔ ابھی ہم دونوں نے چاٸے کےایک دو گھونٹہی لیے ہونگے کہ ہم نے دیکھا کہ معمولی سے فاصلے پر پروفیسر ڈاکٹر انوار احمد ۔ پروفیسر ڈاکٹر شاداب احسانی ۔ ڈاکٹر وفا یزدان منش ڈاکٹر ذکیہ رانی اور چند دیگر مندوبین بھی آڈیٹوریم کے باہر اسی ہال میں یکجا تھے ۔ہم اور مسعود شعر انکل اٹھ کر اس اردو کانفرنس کا حصہ بن گٸے۔ وہاں ادبی موضوعات پر گفتگو جاری تھی ۔ پروفیسر ڈاکٹر انوار احمد صاحب نے ملتان کے قصے چھیڑ دیٸے۔ ملتان کی علمی و ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں اور ہنگامہ آراٸیوں کے حوالے سے بات کرتے رہے۔ ہم نے مسعود اشعر انکل سے پوچھا کہ اب آپ کے سر کا درد کیسا ہے تو مسعود اشعر انکل نے ہمارے قریب ہوکر فرمایا کہ انوار احمد صاحب ہمیں بہت عزیز ہیں ہمارے لیے ان کی گفتگو ہمیشہ سے ہی ٹانک اور انرجاٸزر کا کام کرتی ہے ۔ ہماری اس ایک ڈیڑھ منٹ کی بات چیت کے دوران پروفیسر ڈاکٹر انوار احمد صاحب کی گفتگو تو جاری تھی ہی لیکن دبستان ملتان کے حوالے سے پہلے تو موضوع گفتگو جناب مسعود اشعر صاحب ہوٸے اور اس حوالے سے مسعود اشعر صاحب کے ادبی سفر پر ڈاکٹر انوار احمد صاحب نے تفصیل سے روشنی ڈالی اور مسعود اشعر صاحب کی ملتان سے قلبی اور جزباتی وابستگی کو بھی موضوع بنایا۔ کیسے کیسی واقعات یاد دلادیٸے۔ ماشا اللہ ماشا اللہ پروفیسر ڈاکٹر انوار احمد صاحب کا حافظہ بھی ان کی شخصیت کی طرح شاندار اور بلا کا ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر انوار احمد صاحب کی گفتگو کا موضوع والد گرامی سید فخرالدین بلے شاہ صاحب اور پھر سید فخرالدین بلے صاحب کی ادبی اور ثقافتی خدمات ار کارنامے ہوگٸے ۔ پروفیسر ڈاکٹر انوار احمد صاحب نے سید فخرالدین بلے کے بے شمار کارناموں اور خدمات کا ذکر کرتے ہوٸے جشن تمثیل 1982 پر سیر حاصل گفتگو فرماٸی۔ مسعود اشعر صاحب بھی مسلسل گفتگو شامل رہے اور اب تو مسعود اشعر انکل کو بھی خود اپنے ۔ ملتان اور بابا جانی قبلہ سید فخرالدین بلےشاہ صاحب کے حوالے سے بہت سے قصے یاد آگٸے۔ یہ پاکستان آرٹس کونسل آف کراچی میں ملتان کی ادبی اور ثقافتی تاریخ کے موضوع پر منعقدہ غیر اعلانیہ کانفرنس کا سرسری سا تذکرہ تھا کہ جس کی صدارت ممتاز محقق ۔ نقاد ۔ادیب اور استاذالاساتذہ پروفیسر ڈاکٹر انوار احمد صاحب فرمارہے تھے جبکہ مہمانان خصوصی صدر شعبہ ٕ اردو یونیورسٹی آف تہران۔ ایران پروفیسر ڈاکٹر وفا یزدان منش اور سابق صدر شعبہ اردو جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر شاداب احسانی تھے۔

بہاولپور کے محلات اور فورٹ منرو تو متعدد بار جانا ہوا ہم دونوں خاندانوں کے افراد کا مشترکہ طور پر ۔ بلکہ فورٹ کے حوالے سے تو مسعود اشعر انکل نے متعدد کالمز میں ڈکر بھی کیا۔ مسعود اشعر اکثر ذکر فرمایا کرتے تھے کہ سید فخرالدین بلے صاحب اور بھابی صاحبہ اور آپ سب بہن بھاٸیوں اور ہمارے چاروں بچوں کی بہت سی مشترکہ یادگار تصاویر آج بھی ہمارے ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔ ہماری نظر سے مسعود اشعر صاحب کا ایک ایسا کالم بھی گزرا کہ جس کا عنوان ہے
سید فخرالدین بلے = تن اجلا تو من اجلا . اور اس عنوان کے تحت مسعود اشعر نے سید فخرالدین بلے کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کا بہت محبت سے ذکر فرمایا ہے۔

مسعود اشعر کو ادبی خدمات پر 2015 میں ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا ، وہ بطور کالم نگار روزنامہ دنیا سے بھی وابستہ رہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے صدارتی تمغہ برائے حسن کار کردگی بھی انہیں دیا گیا۔
مسعود اشعر اردو کے معروف افسانہ نگار اور صحافی مسعود اشعر کا اصل نام مسعود احمد خان ہے اور وہ 10 فروری 1930ء کو رام پورمیں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد لاہور اور ملتان میں قیام پذیر رہے اور روزنامہ احسان ، زمیندار ، آثار اور امروز سے وابستہ رہے۔
اردو کے ممتاز فکشن نگار، صحافی اور کالم نگار مسعود اشعر 90 سال کی عمر میں 5.جولاٸی2021 کو انتقال کرگئے۔ ان کی تدفین 6.جولاٸی2021 کو کی گٸی۔

یاد رہے کہ مسعود اشعر کو ادبی خدمات پر 2015 میں ستارہ امتیاز سے بھی نوازاگیا ، وہ بطور کالم نگار روزنامہ دنیا سے بھی وابستہ رہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے صدارتی تمغہ برائے حسن کار کردگی بھی انہیں دیا گیا۔
مسعود اشعر اردو کے معروف افسانہ نگار اور صحافی مسعود اشعر کا اصل نام مسعود احمد خان ہے اور وہ 10 فروری 1930ء کو رام پورمیں پیدا ہوئے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد لاہور اور ملتان میں قیام پذیر رہے اور روزنامہ احسان ، زمیندار ، آثار اور امروز سے وابستہ رہے۔

افسانوں کے مجموعے آنکھوں پر دونوں ہاتھ، سارے افسانے اور اپنا گھر کے نام سے شائع ہوچکے ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 2009 ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ لاہور میں قیام پذیر ہیں اور روزنامہ جنگ اور بعد ازاں روزنامہ دنیا سے وابستہ رہے

جب ضیا الحق ملتان کے کور کمانڈر تھے تو مسعود اشعر فیملی اور ضیا الحق فیملی دونوں فیملیز کی بہت قربت تھی ۔ ضیا الحق ملتان میں تعیناتی کے دوران ڈاٸریکٹر محکمہ تعلقات عامہ سید فخرالدین بلے صاحب اور ریزیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ امروز مسعود اشعر صاحب کے دفاتر میں آنا جانا تھا البتہ بروز جمعہ ضیا الحق فیملی کا ظہرانہ جناب مسعود اشعر صاحب کے گھر پر ہی ہوا کرتا تھا اور یہی معمول رہا ۔

پانچ جولاٸی 1977 کو ضیإ الحق کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد پروفیسر صلاح الدین حیدر ۔ سید فخرالدین بلے ۔ ڈاکٹر اصغر ندیم سید اور دیگر محبان وطن اور دیش بھگتوں کی طرح جناب مسعود اشعر صاحب کو بھی حد درجہ نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ اور اتفاق دیکھیے کہ جب ملک بھر میں 5.جولاٸی کی یاد میں یوم سیاہ منایا جارہا تھا تو اسی دن ایک عظیم تخلیقکار اور ایک بے باک اور فرض شناس اور محب وطن صحافی کہ جنہیں قلم کی حرمت کا پاسبان کہا جاتا تھا جی ہاں جناب مسعود اشعر صاحب اس جہان فانی سے رخصت ہوگٸے
مسعود اشعر (ولادت: 10 فروری 1930ء – وفات: 5 جولائی 2021ء) پاکستانی افسانہ نگار، مترجم، کالم نگار تھے۔‌ آپ کو 14 اگست 2009ء کو صدر پاکستان کی جانب سے صدارتی تمغہ حسن کارکردگی اور 2015ء میں پاکستان کا تیسرا بڑا اعزاز ستارہ امتیاز ملا۔‌

مسعود احمد خان 10 فروری 1930ء کو بھارت کے اتر پردیش صوبے کے رام پور میں پیدا ہوئے۔‌ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد لاہور اور ملتان میں قیام پزیر رہے۔‌ ہمارا بچپن ان کے گھر اور ان کی گودوں میں گزرا ہے

مسعود اشعر لاہور اور ملتا ن میں روزنامہ احسان ، زمیندار ، آثار اور امروز سے وابستہ رہے۔
جبکہ دیگر رساٸل کی ادارت بھی ان کے حصے میں آٸی جن میں ماہنامہ ادب لطیف لاہور
اور ماہنامہ دھنک لاہور قابل ذکر ہیں

…………..تصانیف
آنکھوں پر دونوں ہاتھ (افسانے)
سارے افسانے
اپنا گھر (2004/ افسانے)
سوال کہانی (افسانے، 2020)
پاکستان کی سیاسی جماعتیں
یورپ مسلمانوں کی نظر میں
آخری مرد کی موت

اعزازات
 اگست14 , 2009ء کو صدارتی تمغہ حسن کارکردگیاور 2015ء کو پاکستان کا تیسرا بڑا اعزاز ستارہ امتیاز ملا۔‌

امروز ملتان کا ڈیرہ اڈہ کے نذدیک وہ دفتر کہ جو حسن پروانہ کالونی کے موڑ کے ساتھ ہی تھا اور وہیں اسی حسن پروانہ کالونی کے بالکل شروع میں اور امروز کے دفتر سے چند قدموں کے فاصلے پر جناب مسعود اشعر صاحب کی کراٸے کے مکان میں رہاٸش تھی اور شاید یہ مکان جناب پروفیسر ایم۔اے۔قدوس صاحب کا تھا۔

مسعود اشعر انکل کے ملتان میں قیام کے دوران بلے فیملی سے حد درجہ قربت اور گھریلو مراسم رہے ۔ دونوں خاندان کے افراد متعدد بار مختلف مقامات کی سیر و تفریح کے لیے بھی ایک ساتھ ہی جایا کرتے تھےفورٹ مرو ۔ کوٹ ڈی جی قلعہ ۔ سخی حسن۔ ہیڈ محمد اور اللہ جانے کہاں کہاں ۔گزشتہ چند برسوں میں تو مسعود اشعر انکل سے ہر دسمبر کے مہینے میں ملاقاتیں ہوتی رہیں ۔ وہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی سالانہ اردو کانفرنس میں شرکت کےلیے لاہور سے کراچی تشریف لاتے اور آنے سے پہلے فون پر مطلع کرتے اور آنے کے بعد بھی مسلسل رابطے میں رہتے ۔
مسعود اشعر انکل کا ہمارے بابا جانی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب سے قلبی اور روحانی تھا ۔ جہاں جہاں اور جس جس شہر میں سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کی تعیناتی ہوئی مسعود اشعر انکل ملنے آتے اور چند روز قیام بھی فرماتے۔
لاہور میں قیام کے دوران تو خیر مسعود اشعر انکل سے مسلسل ہی رابطہ بھی رہا اور آنا جانا بھی ۔

مسعود اشعر انکل اپنی دفتری اور نجی مصروفیات کے باعث باقاعدگی سے قافلہ پڑاٶ میں شرکت نہیں کر پاتے تھے تو اس
کے ازالے کے طور پر وہ اگلے یا دوسرے تیسرے دن وقت نکال کر ضرور ملنے کےلیے آتے تھے۔ لیکن جب جب بھی مسعود اشعر صاحب نے سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کی اقامت گاہ پر منعقدہ قافلے کے پڑاٶ میں شرکت کی وہ بھی دیگر تمام ترشرکاٸے قافلہ پڑاٶ کی طرح ہماری بھی حسین یادوں کا حصہ ہیں۔ دو تین مرتبہ جب جب بھی محترمہ الطاف فاطمہ صاحبہ قافلے کے پڑاٶ میں افسانہ پڑھا تو جہاں اشفاق احمد صاحب ۔ بانو قدسیہ صاحبہ۔ پروفیسر ڈاکٹر آغا سہیل صاحب علامہ غلام شبیر بخاری علیگ ۔ ڈاکٹر اجمل نیازی شہزاد احمد ۔اسلم کولسری اور صدیقہ بیگم اور اسرار زیدی ۔ بیدار سرمدی اور حسن رضوی جیسے مستقل شرکاٸے قافلہ پڑاٶ کے ساتھ مسعود اشعر انکل بھی تھے۔ ہمیں اچھی طرح سے یاد ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر آغا سہیل ۔ بانو قدسیہ۔ اشفاق احمد خاں۔ ڈاکٹر اجمل نیازی ۔ انتظار حسین اور مسعود اشعر انکل کی گفتگو حد درجہ متاثر کرنے والی ہوا کرتی تھی۔ شرکاٸے قافلہ پڑاٶ تخلیق سے مستفید ہونے کے بعد اس تخلیق کے حوالے سے قابل ذکر اور اچھوتے پہلوٶں کی بنیاد پر ہونے والی گفتگو میں بھی بہت دلچسپی رکھتے تھے۔ ہم نے احمد ندیم قاسمی صاحب عطا الحق قاسمی صاحب ۔ ڈاکٹر آغا سہیل صاحب اور منو بھاٸی کو بھی مسعود اشعر انکل کا حد درجہ احترام کرتے دیکھا ہے ۔

ایک اور بہت ہی دلچسپ واقعہ یاد آرہا ہے اور وہ یہ کہ ہمارے والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کی قاٸم کردہ ادبی تنظیم قافلہ کے زیراہتمام جناب مسعود اشعر صاحب سالگرہ بہت ڈراماٸی انداز میں مناٸی گٸی۔ شاید ماہ فروری کی آٹھ تاریخ تھی اور شام کا وقت تھا ۔ڈاکٹر اجمل نیازی ۔ شاہد واسطی۔ ظفر علی راجا ۔ انتظار حسین ۔ شہزاد احمد ۔ منوبھاٸی ۔ نجمی نگینوی۔ سلطان ارشد القادری۔ اسلم کولسری والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کے مابین مختلف ادبی موضوعات پر گفتگو جاری تھی کہ اسی دوران اچانک مسعود اشعر صاحب کا فون آگیا۔ انہوں نے باباجانی فخرالدین بلے صاحب کوٸی چار پانچ منٹ کی بات کی ۔ جیسے ہی فون بند ہوا تو ہمارے باباجانی نے انتظار حسین صاحب سے کہا کہ انتظار بھاٸی آپ سے ایک کام ہے اور وہ یہ کہ پرسوں دس فروری ہے اور اسی شام آپ کا مسعود اشعر صاحب کا ایک ساتھ کہیں جانے کا ارادہ بھی ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ آپ ہمارے لیے اپنا طے شدہ پروگرام بدل دیں اور دس تاریخ کے بجاٸے کسی اور دن کا پروگرام طے کرلیں لیکن اس پروگرام کی تبدیلی کا مسعود اشعر صاحب کو پہلے سے علم نہ ہوپاٸے۔ انتظار حسین صاحب نے بمشکل آدھا منٹ سوچا اور فرمایا جی جی بالکل لیکن آپ کے عزاٸم کیا ہیں۔ پھر جناب فخرالدین بلے شاہ صاحب نے انتظار حسین صاحب اور وہاں موجود دیگر احباب کو مخاطب فرماتے ہوٸے کہا کہ جب پرسوں مسعود اشعر صاحب انتظار حسین صاحب کے گھر پہنچیں گے تو انتظار حسین صاحب اور ہماری بھابی صاحبہ انہیں یہبتاٸے بنا کہ ہمارا پروگرام ملتوی ہوگیا ہے انہیں لے کر یہاں آجاٸیں گے آپ تمام احباب پہلے سے موجو ہونگے۔ انتظار حسین صاحب ۔اجمل نیازی صاحب شہزاد احمد صاحب منو بھاٸی بطور خاص مسعود اشعر کی افسانہ نگاری اور صحافتی خدمات کے حوالے سے اظہار خیال فرماٸیں گے اور ہم سب بھی اظہار خیال کرنے والوں میں شامل ہونگے اس کے بعد ہم مسعود اشعر صاحب سے ان کی سالگرہ کا کیک کٹواٸیں گے پھر عشاٸیے کا اہتمام ہوگا اور کوشش کریں گے کہ عشاٸیہ کے بعد کچھ دیر مذید گفتگو ہوسکے۔ب خیال رہے کہ اس سازش کا مسعود اشعر صاحب کو علم نہ ہوپاٸے یہ خوشخبری سنتے ہی نشست میں شامل سب ہی لوگوں کے چہرے کھل اٹھے۔ انتظار حسین صاحب نے ہمارے ولد کا یہ بیان سماعت فرماکر کہا کہ آپکی ہر بات کی تاٸید اور حمایت کا ہمیں یہ پھل ملا کہ آپ نے اسے ایک سازش قرار دے دیا اور مجھے یعنی انتظار حسین کو اس سازش کا اہم کردار بنا ڈالا ۔ اللہ کے فضل و کرم سے سب کچھ طے شدہ منصوبے کے تحت ہوا۔ دس فروری کو مسعود اشعر صاحب کی سالگرہ کا قافلہ پڑاٶ بہت کامیاب رہا اور اس میں جناب احمد ندیم قاسمی صاحب اور ڈاکٹر سلیم اختر صاحب اور اس سازش میں شامل تمام اصحاب کے علاوہ بھی مستقل شرکاٸے قافلہ پڑاٶ میں سے اکثر نے شرکت کی۔ ہم پر بھی یہ عقدہ قافلہ کے زیراہتمام مناٸی جانے والی مسعود اشعر صاحب کی سالگرہ والے دن کھلا کہ یہ ان کی ساٹھویں سالگرہ تھی۔ جب مسعود اشعر انکل سے قافلے اس خصوصی پڑاٶ میں کیک کاٹنے کےلیے گزارش کی گٸی تو انہوں نے کہا کہ اگر آپ سب لوگ اجازت دیں تو کیک کاٹنے کا معاملہ بارہ بجے تک موخر کردیا جاٸے اور جب تک ایک اور کیک کا بھی اہتمام کرلیا جاٸے کہ جو ظفر معین بلے سے کٹوایا جاٸے۔ مسعود اشعر انکل کے اس بیان پر جناب سرفراز سید نے کہا اوبجیکشن اوبجیکشن اگر ایسا ہوا تو ہمارا مطالبہ ہو گا کہ کیک کاٹنے کی رسم کو مذید چوبیس گھنٹے ملتوی کردیاجاٸے کیونکہ اگر گیارہ فروری کو ظفر معین بلے کی سالگرہ ہے تو بارہ فروری کو سرفراز سید کی بھی سالگرہ ہے ۔لہذہ بہتر یہی ہوگا کہ مسعود اشعر صاحب کیک کاٹنے کی رسم بروقت ادا فرماٸیں ۔ اس پر ہال میں احباب کا زوردار قہقہ گونجا ۔ اور تمام شرکاٸے قافلہ پڑاٶ نے مسعود اشعر صاحب کو ان کی سالگرہ کی مبارکباد کے ساتھ ساتھ ظفر معین بلے اور سرفراز سید کو بھی سالگرہ کی پیشگی مبارکباد دی ۔

جب لاہور میں احمد ندیم قاسمی صاحب کا پچھتر سالہ جشن ولادت منایا گیا تو اس کی صدارت جناب مشتاق احمد یوسفی صاحب نے فرمائی تھی ۔ ملک بھر سے محبان احمد ندیم قاسمی نے بھر پور انداز میں شرکت فرمائی تھی۔ بیرون ملک سے بھی کثیر تعداد میں ادب دوستوں نے شرکت فرمائی جن میں جناب نصر ملک صاحب بھی شامل ہیں۔ ملتان سے پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری صاحب بھی تشریف لائے تھے اور انہوں نے بلے ہاؤس میں قیام فرمایا تھا۔ جشن احمد ندیم قاسمی کے اختتام پر بہت سے احباب و اصحاب والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب سے ملنے ( اور ان کی عیادت کرنے) شادمان جی او آر تھری میں بلے ہاٶس پہنچنا شروع ہوگٸے ۔ جن میں مشتاق احمد یوسفی صاحب ۔ جناب مختار مسعود صاحب ۔ جناب مسعود اشعر صاحب اور ڈاکٹر اجمل نیازی صاحب ۔ شاہد واسطی۔ کلیم عثمانی صاحب ۔ حفیظ تاٸب صاحب ۔ قتیل شفاٸی ۔ طفیل ہوشیارپوری اور مسعود اشعر صاحب کے علاوہ بھی دیگر بہت سے احباب تھے ۔ اجمل نیازی صاحب نے مسعود اشعر صاحب سے پوچھا کہ جشن ندیم کیسا لگا آپ کو جناب مسعود اشعر صاحب نے فرمایا یہ جشن تو تھا لیکن دراصل اعلان وراثت کا معاملہ تھا ۔ جشن میں تو وراثت کا اعلان کیا گیا ۔ کیک کاٹتے وقت ایک طرف ڈاکٹر ناہید قاسمی صاحبہ تھیں اور ایک طرف منصورہ احمد صاحبہ ۔

ادبی تنظیم قافلہ کے اکثر پڑاٶ ایسے بھی ہوتے تھے کہ جن میں بیرون ملک سے آٸی ہوٸی علم و ادب سے وابستہ قابل ذکر شخصیات اور معتبر تخلیقکار بھی شرکت فرماتی تھیں۔ ہمیں یہ تو یاد نہیں کہ کس ریاست سے لیکن ہاں یو اے ای کے کسی ریڈیو سے وابستہ انتہاٸی نفیس شخصیت کے مالک جناب مشتاق السید صاحب بھی شریک قافلہ پڑاٶ تھے ۔ مسعود اشعر انکل بجی موجود تھے اور اشفاق احمد خاں صاحب بھی۔ ڈاکٹر اجمل نیازی ۔ شاہد واسطی اور ظفر علی راجا اور میرزا ادیب بھی ڈاکٹر آغا سہیل صاحب بہت واضح الفاظ میں فرما رہے تھے کہ جب تک تخلیقکار مطالعے اور مشاہدے اور اپنے اور دوسروں کے تجربات سے سیکھنے کی خواہش کرتا رہے گا معیاری ادب تخلیق ہوتا رہے گا ۔ اور جب مقدار کو معیار پر فوقیت دی جانے لگے گی تو پھر انجام ریڈیو پاکستان سے مختلف نہیں ہوگا۔ اس بات کے جواب میں مسعود اشعر صاحب فرمایا کہ بےشک آپ کا تجزیہ سو فیصد درست ہے۔ جب سیکھنے کےلیے ادارے موجود ہوں اور ادارے بھی ڈاکٹر آغا سہیل اور اشفاق احمد۔ سید فخرالدین بلے اور احمد ندیم قاسمی جیسی عظیم المرتبت شخصیات کی شکل میں ان بےمثل اداروں ، تربیت گاہوں اور جامعات سے استعفادہ حاصل نہ کیا جاٸے تو دور جانے کی ضرورت نہیں جیسا کہ ڈاکٹر آغا سہیل صاحب نے فرمایا کہ پھر انجام ریڈیو پاکستان جیسا ہوگا اور واقعی آپ دیکھیے اور غور فرماٸیے کہ ہم میں سے ایسا کون ہے تلقین شاہ کے حوالے سے بشمول اشفاق احمد خاں صاحب کے کہ جو سید مصطفی علی ھمدانی جیسی بے مثال شخصیت اور ان کے کارناموں اور خدمات سے واقف نہ ہو ۔ مگر دیکھ لیجے کہ یہاں موجود ابصار عبدالعلی جیسے گنتی کے کتنے لوگ ہونگے کہ جنہوں نے مصطفی علی ھمدانی صاحب جیسی درسگاہ سے استعفادہ کیا ہوگا۔ مسعود اشعر انکل کے اس موقف کے جواب میں اشفاق احمد صاحب نے فرمایا کہ آغا سہیل صاحب اور مسعود اشعر صاحب کی راٸے سے کسی کو کیا اختلاف ہوسکتا ہے اور میں تو یہ کہوں گا کہ بےشک ایک وقت ایسا ہوگا کہ جب سید صاحب مصطفی علی ھمدانی کی پہچان اور شناخت ریڈیو پاکستان تھا مگر دیکھا جاٸے اور سمجھا جاٸے تو ریڈیو پاکستان کا پہلا تعارف کروانے والی شخصیت بھی تو کوٸی اور نہیں لیکن ہم نے تو خود اپنی آنکھوں سے وہ وقت بھی دیکھا ہے کہ جب ریڈیو پاکستان کی پہچان اور شناخت سید مصطفی علی ھمدانی ہوا کرتے تھے اور ہماری نظر میں تو آج بھی ہیں۔

مسعود اشعر انکل ادب لطیف کے بھی کٸی برس تک مدیر رہے ۔ بعد ازاں راقم السطور ظفر معین بلے کو بھی مسلسل دس برس ماہنامہ ادب لطیف کا مدیر رہنے کا اعزاز حاصل ہوا ۔ ان دس برسوں کے عرصہ ٕ ادارت میں ہم نے متعدد بار مسعود اشعر انکل سے مختلف امور اور معاملات میں راہنماٸی حاصل کی۔ مسعود اشعر انکل مشورہ بھی فورا دے دیا کرتے اور راہنماٸی بھی فرمایا کرتے اور ساتھ ساتھ یہ ہدایت ضرور فرماتے کہ بہتر رہے گا اگر اپنے والد سیدفخرالدین بلے صاحب سے بھی مشورہ کرلیں اور انہیں یہ بھی بتادیں کی میرا یہ مشورہ ہے .مسعود اشعر صاحب کے محترمہ صدیقہ بیگم صاحبہ سے بھی بہت اچھے مراسم رہے ۔ صدیقہ بیگم جب کبھی بھی کسی ادبی تقریب کا اہتمام فرماتیں تو اس میں مسعود اشعر صاحب بھی ضرور مدعو کیے جاتے تھے ۔ ہمارا بھی جب جب لاہور جانا ہوتا ہم بھی انہیں ضرور مطلع کرتے اور ایک دو ملاقاتیں تو ضرور ہوجایا کرتی تھیں۔ عموما“ تو ہم صدیقہ بیگم کے ہمراہ مسعود اشعر صاحب سے ملنے ان کے دفتر یا گھر جایا کرتے یا پھر صدیقہ بیگم انہیں کہا کرتی تھیں کہ آپ کا بھتیجا ظفر معین بلے کراچی سے آیا ہوا ہے آپ کب ملنے کےلیے تشریف لارہے ہیں اس بات کے جواب میں مسعود اشعر انکل ہمیشہ یہ ضرور کہا کرتے تھے کہ بےشک بھتیجا تو ہے بلکہ ڈبل بھتیجا ہے ہمارے بہت پیارے بھاٸیوں جیسے دوست سید فخرالدین بلے صاحب کا بھی بیٹا اور آپ کا بھی بیٹا ۔ اس طرح ڈبل بھتیجا ہوگیا

مسعود اشعر اور سید فخرالدین بلے کی داستان رفاقت کٸی دہاٸیوں پر بلکہ نصف صدی پر محیط ہے۔ ہمارے ہوش سنبھالنے سے لے کر والد گرامی سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کی رحلت تک ۔لیکن مسعود اشعر انکل نے اور ہم نے اور سید انجم معین بلے بھاٸی اور سید عارف معین بلے بھاٸی نے دونوں خاندانوں کی تعلق داری کو نہ صرف یہ کہ قاٸم رکھا بلکہ اسے مذید مستحکم بھی کیا۔ یہاں میں اپنے والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کے حلقہ احباب میں شامل بیشتر احباب جن میں مدیر اردو ڈاٸجسٹ جناب الطاف حسن قریشی ۔ جناب پروفیسر ڈاکٹر اسد اریب صاحب ۔ جناب رشید امجد۔ مدیر فنون جناب احمد ندیم قاسمی صاحب ۔ علامہ سید غلام شبیر بخاری علیگ ۔انتظار حسین ۔ پروفیسر ڈاکٹر انوار احمد صاحب۔ جناب شعیب بن عزیز صاحب ۔ جناب طارق محمود صاحب ۔ رسا چغتاٸی صاحب۔ پروفیسر صلاح الدین حیدر صاحب ۔ پروفیسر منور علی خان علیگ ۔ عطإ الحق قاسمی صاحب ۔ سید سلطان احمد سابق مدیر روزنامہ امروز ملتان ۔ پروفیسر ڈاکٹر خالد اقبال یاسر صاحب۔ پروفیسر ڈاکٹر اصغر ندیم سید صاحب ۔ جناب اظہر امام زیدی صاحب۔ جناب جمیل الدین عالی۔ جلیل عالی صاحب ۔پروفیسر ڈاکٹر اجمل نیازی ۔ پھوپی اماں ادا جعفری ۔ شبنم رومانی صاحب خالد احمد بھاٸی نجیب احمد بھاٸی اور دیگر اصحاب کہ جن کے ناموں کی فہرست بہت طویل ہے اور ان میں مسعود اشعر صاحب بھی شامل ہیں کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ہمارے والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات ہمارے یتیم ہونے کے بعد بھی بلے فیملی کے ساتھ قاٸم رکھے۔

احمد ندیم قاسمی صاحب کی وفات کے بعد معروف شاعرہ اور سابق شریک مدیرہ فنون منصورہ احمد صاحبہ نے احمد ندیم قاسمی صاحب کی یاد میں رسالہ مونتاج کا آغاز کا ۔ مونتاج کی مجلس مشاورت میں جناب مسعود اشعر صاحب بھی شامل تھے۔ مونتاج نے احمد ندیم قاسمی کے حوالے سے شاندار اشاعت خاص کا اہتمام بھی فرمایا تھا ۔ آپ اس اشاعت خاص کو ایک شاہکار اور ایک تاریخی دستاویز قرار دے سکتے ہیں۔ منصورہ احمد صاحبہ کا بھی فون آتا تو وہ تفصیلی گفتگو فرماتی تھیں اور برملا اس بات اعتراف کرتی تھیں کہ ظفر بلے بھاٸی مجھے جس قدر حوصلہ جناب مسعود اشعر صاحب نے دیا اور جتنی حوصلہ افزاٸی فرماٸی میں بتا نہیں سکتی ۔ فون پر آپ سے بات کرکے اور مسعود اشعر صاحب سے مل کر میری زندگی آسان ہوجاتی ہے۔ منصورہ احمد صاحبہ ہمیشہ مجھے میری ہی کہی ہوٸی باتیں یاد دلایا کرتی تھیں کہ ” ہمت نہیں ہارنی حوصلے بلند رکھنے ہوں گے بابا احمد ندیم قاسمی صاحب کی آنکھیں بند ہونے پر بہت سے چہرے بے نقاب ہو جاٸیں گے“
اور منصورہ احمد کی زیر ادارت مونتاج کا پہلا شمارہ منظر عام پر آنے سے قبل ہی ایک جناب مسعود اشعرصاحب کا فون آیا اور انہوں نے خیریت دریافت کرنے کے بعد فرمایا کہ مجھےاس بات کی بہت خوشی ہے کہ منصورہ احمد جب جب بھی آپ سے رابطہ کرتی ہیں تو آپ ان کی حوصلہ افزاٸی کرتے ہیں اور آپ کے مشوروں میں منصورہ مجھے شامل رکھتی ہیں۔ آپ کے توسط سے منصورہ احمد کو مونتاج کےلیے قاسمی صاحب کے حوالے سے چند بہت اچھے مضامین بھی موصول ہوٸے۔
قلم کی حرمت کے پاسبان جناب مسعود اشعرصاحب کے انتقال پرملال پر ممتاز شاعر اور سینٸر صحافی اور ہردلعزیز کالم نگار جناب محمود شام صاحب نے اپنی فیس بک ٹاٸم سے لاٸیو شام اطراف میں اپنے اور مسعوداشعرصاحب کے دیرینہ مراسم کا ذکر کرتے ہوٸے ان کی صحافتی اور ادبی خدمات کا شاندار الفاظ میں ذکر کیا اور انہیں زبردست انداز میں خراج پیش کیا ۔
مسعود اشعر انکل کی وفات سے افسانے کا ایک درخشاں عہد ہی ختم نہیں ہوا بلکہ اصولی اور نظریاتی صحافت کا ایک قابل ذکر چراغ بھی گل ہوگیا ہے .

مسعود اشعر انکل نے ملتان کو اپنے دل میں بسایا ہوا تھا اور اہالیان ملتان نے مسعود اشعر صاحب کو اپنے دل میں ۔ مسعود اشعر صاحب کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا ۔ہروفیسر ڈاکٹر انوار احمد ۔ پروفیسر اصغر ندیم سید ۔ پروفیسر صلاح الدین حیدر اور دیگر وابستگان ادب دراصل وابستگان مسعود اشعر بھی ہیں ۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کبھی ان شخصیات کے سامنے ملتان کا تذکرہ ہوا ہو اور انہوں نے ڈاکٹر اسد اریب ۔ مسعود اشعر ۔ سید فخرالدین بلے ۔ حیدر گردیزی ۔ حسن رضا گردیزی ۔ قصور گردیزی ۔ عرش صدیقی۔ مقصود زاہدی فرخ درانی۔ ارشد ملتانی۔ ڈاکٹر ہلال جعفری۔ غنی چوہدری۔ ڈاکٹر مہرعبدالحق۔ ڈاکٹر اے۔بی اشرف۔ پروفیسر حسین سحر۔ جیسی ادب و صحافت سے وابستہ نامور شخصیات کا ذکر نہ کیا ہو۔ اور یہی حال مسعود اشعر صاحب کا تھا اسی لیے تو ہم اکثر انہیں مسعود اشعر ملتانی انکل کہا کرتے تھے ۔

مسعود اشعر اور سید فخرالدین بلے
داستانِ رفاقت ، نصف صدی کا قصہ

داستان گو:۔ ظفر معین بلے جعفری

SHARE

LEAVE A REPLY