وفاقی حکومت کے بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے ملک بھر کے مختلف چیمبر آف کامرس انڈسٹری کے عہدیداروں نے بجٹ عوام دشمن قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ کا کہنا ہے کہ بجٹ میں کوئی مثبت بات نہیں، انڈسٹری کو ریلیف نہیں ملا، حکومت تاجروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرے، سرمایہ داروں کو لگ رہا ہے کہ چیزیں ٹھیک ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ شرح سود میں حالیہ کمی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اس میں نمایاں کمی ہونی چاہیے، شرح سود چودہ، پندرہ فیصد پر ہونا چاہیے، ریئل اسٹیٹ پر ٹیکسوں سے یہ کاروبار تباہ ہوگیا، نان فائلر کا تصور نہیں ہونا چاہیے سب کو فائلر ہونا چاہیے،
عاطف اکرم کا مزید کہنا تھا کہ ٹیکس نیٹ میں نئے لوگوں کو لایا جائے، ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے تعاون کرنے کو تیار ہیں۔
بجٹ الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے : فیصل آبادچیمبر
صدر فیصل آباد آف چیمبر آف کامرس ڈاکٹر خرم طارق نےکا کہنا تھا آج کا بجٹ الفاظ اور اعداد و شمار کا گورکھ دھندہ ہے، بجٹ کو جان بوجھ کر غیر واضع رکھا گیا ہے،حکومت نے نہیں بتایا کہ ایکسپورٹرز کے 245 ارب کے ری فنڈز کب واپس کریں گے، حکومت نے بہت خوفناک بجٹ بہت خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے، 12 سینٹ فی یونٹ دینے کا وعدہ وفا نہیں ہوا، مزدور کی کم از کم اجرت پر ایکسپورٹ سیکٹر عملدرآمد کر رہا ہے،حکومت نے کاروبار کو مزید کم کرنے کی چھوٹ دے دی ہے۔
وفاق نے عوام دشمن بجٹ پیش کیا: بلوچستان چیمبر
سینیئر نائب صدر بلوچستان چیمبرز آف کامرس آغا خلجی نے کہا ہے کہ وفاق نے عوام دشمن بجٹ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ 2023۔24 میں تنخواہوں میں اضافہ خوش آئندہ ہے، بجٹ میں بلوچستان کو نظر کرنا ظلم کےمترادف ہے، ایسا لگتا ہے کہ بلوچستان کا کوئی مالک نہیں، ہمیں بجٹ میں کوئی رعایت نہیں دی گئی، ہمیں بھیک نہیں روزگار دیا جائے ، بارڈر بند ہونے سے قتل وغارت عام ہو جائی گی۔
حیرانی ہے ٹیکس ہدف کیسے حاصل ہوگا: اسلام چیمبر
صدر اسلام آباد چیمبر اف کامرس احسن ظفر بختاوری نے کہا ہے کہ ہمیں حیرانی ہے کہ ٹیکس کا ہدف کیسے اکٹھا ہوگا، ہمیں فنانشل ایمرجنسی ڈکلیئر کرنی چاہیے، ہماری تجویز ہے کہ اگلے پانچ سالوں کے شئیر کو کم کیا جائے، اگلے چند ماہ میں ہمیں 27 ارب ڈالر قرض دینا ہے، یہ کیسے دیں گے، تنحواہ دار طبقے کی تنخواہوں میں اضافہ اچھی بات ہے، سمینٹ پر ٹیکس بڑھانے سے ریئل سٹیٹ سیکٹر مزید متاثر ہوگا، یہ بجٹ ملاجلا ہے، تفصیلی جائزہ لینے کے بعد حتمی ردعمل دیں گے۔
پراپرٹی پر ٹیکسز لگانے سے اشیا مہنگی ہوں گی: ملتان چیمبر
صدر ملتان چیمبر اف کامرس اینڈ انڈسٹری میاں راشد اقبال کا کہنا تھا کہ بجٹ تقریر میں سب اچھی باتیں کی گئیں مگر پراپرٹی بہت زیادہ ٹیکسز لگائے گئے ہیں، جس سے اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ میڈیسن ، کاپیوں ، کتابوں سمیت متعدد اشیاء پر سیلز ٹیکس لگنے سے قیمتیں بڑھ جائیں گی ، انرجی سیکٹر میں اصلاحات کیلئے کچھ نہیں بتایا گیا ہے، ایکسپورٹ پرٹیکس لگانا عجیب بات ہے۔













