شہر قائد میں ایک ہفتہ قبل یونیورسٹی روڈ پر تیز رفتار بس کی ٹکر سے شدید زخمی ہونے والی وفاقی اردو یونیورسٹی کی طالبہ ہنزہ زندگی کی بازی ہار گئی۔ ہنزہ کی المناک موت نے اس کے گھرکو ماتم کدہ بنا دیا۔

بیٹی کی زندگی کی دعائیں کرنے والی ماں کے آنسو ہیں کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔ ہنزہ کے کم عمر بچے اپنی والدہ کی موت کے کرب اور جنت کے کھو جانے سے انجان اپنی ہی دنیا میں مگن ہیں۔ انہیں اس کا احساس ہی نہیں کہ وہ ماں کی ممتا سے ہمیشہ کے لئے محروم ہو گئے ہیں۔ تاہم ان کی آنکھیں مسلسل اپنے اردگرد موجود چہروں میں اپنی ماں کے چہرے کو تلاش کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

ہنزہ کے شوہر کا کہنا ہے کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سمیت کسی نے بھی ان کی خبر نہیں لی۔ ہنزہ کے اہل خانہ نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ کراچی کی سڑکوں پر دن دیہاڑے شہریوں کو کچلنے والی تیز رفتار بسوں کے ڈرائیورز اور ان کے مالکان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ بے ہنگم ٹریفک، لاقانون معاشرے اور حکمرانوں کی بے حسی و نااہلی کے ہاتھوں قتل ہونے والی ہنزہ کو نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد آہوں اور سسکیوں میں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY