ابن ِ تیمیہ ؒ نے مسلمانوں کو مشورہ دیا تھا کہ اپنا حکمراں منتخب کرتے ہوئے اس میں دونو ں خوبیاں تلاش کرنا چاہیئے کہ وہ متقی بھی ہو اور بہادر بھی ہو؟ اگر کوئی متقی کم ہومگر بہادری میں زیادہ ہوتو وہ بہتر ہے اس لیئے کہ اس کا تقویٰ اس کے لئیے ہے اور اس کی بہادری قوم کے لیئے ہے۔جس سے قوم کو فائیدہ پہنچے گا؟ میرے نزدیک بالکل یہ ہی کلیہ اسلامی کارکنان کے انتخاب کے لئیے بھی استعمال کرنا چاہیئے کہ آپ جس اسلامی کارکن کااتبا ع کرنے جا رہے ہیں؟ اس میں دیکھیں کہ وہ خود امانت دار بھی ہو۔ با اخلاق بھی ہو اگرمتقی کم ہوگا تو بھی چلے گا؟مگر ہمارے یہاں یہ سب ان میں تلاش کرنے اور دیکھنے کا رواج نہیں ہے صرف یہ دیکھتے ہیں کہ اپنا آدمی ہے یا نہیں۔ تاکہ اس ہم بھی کمائیں اور وہ بھی کما ئے۔؟اور اس کا نتیجہ بھگتے ہیں اور بھگت رہے ہیں مگر سمجھتے پھر بھی نہیں اگر پچھلے تجر بات سے سبق لیتے تو یہ سب کچھ ہوتارہا ہے وہ تحریک پاکستان کو ہی دیکھ لیجئے۔ کہ پہلا مرحلہ وہ تھا جب پہلے مسلم لیگ انٹریم حکومت میں شامل نہیں ہوئی مگر جب کسی دباؤ کے تحت شامل ہونے کو تیار ہوئی تو کابینہ کی اہم نشتوں پر کانگریس قابض ہوچکی تھی اور وہ کوئی اہم وزارت چھوڑنے کو تیار نہیں تھی۔بامشکل تمام وہ صرف وزارت ِ خزانہ دینے کو تیار ہوئے یہ کہہ کہ یہ انہیں دیدو یہ میاں بھائی اسے کیا چلا ئیں گے؟مگر دو مسلمان سول سرونٹ چودھری محمد علی اور غلام محمد نے کہا کہ یہ ہی لیلو ہم تماشہ کرکے دکھا ئیں گے؟ انہوں نے جو کہا تھا وہ کر دکھایا اور ان کی ایک نہ چلنے دی ،کانگریس کویہ یقین ہوگیا کہ اگر مسلمان ہمارے ساتھ رہے تو تنگ کریں گے لہذاان سے جان چھڑاؤ اور جو کچھ مانگ رہے ہیں کم سے کم پر سودا کرلو اب حالت یہ ہوگی کہ وہ پاکستان دینا چاہتے تھےجو مخالف تھے مسلم وقت مانگ رہی تھی انگریزوں کو نہ جانے کیوں جانے کی جلدی تھی کہ وہ وقت دینے کو تیار نہیں تھے؟ دوسری طرف اس سے نقصان یہ ہو ا چونکہ ڈیفنس منسٹر سردار پٹیل تھے انہوں نے مسلمان فوج کو جو دوسری جنگ ِ عظیم کے وجہ سے کچھ مشرق ِ بعید میں پڑی ہوئی کچھ مشرق ِ وسطیٰ میں ان کو وہیں پڑا رہنے دیا جس کو آزادی کے بعد پاکستانی فوج بننا تھا کیونکہ انہوں نے پاکستان آپٹ کیا تھا۔وہ وہیں پڑی رہنے دیں دوسری طرف نہرو کانگریس کے صدر ہوگئے کیونکہ کانگریس کے انتخاب جوکہ سالانہ ہواکرتے تھے مولانا ابو الکلام آزاد کے پانچ سال سے جیل میں رہنے کی وجہ تھی انکا کوئی قصور نہ تھا مگر وہ اپنے ضمیر ہاتھوں بہت مجبور تھے کہ جلد سے جلد وہ اس ذمہ داری سے سبکدوش ہوجائیں لہذا ان کی جگہ انہیں کی کوششوں سے نہروکانگریس کے صدر منتخب ہوگئے وہ شاید یہ سمجھے تھے وہ ان کے کہنے پر چلیں گے مگر نہروخود سر آدمی ہمیشہ سے تھے وہ اپنے والد کی نہیں سنتے تھے تو ان کی کہاں سنتے؟ جبکہ گاندھی جی سردار پٹیل کے حق میں تھے۔ادھر گاندھی سے معاہدہ کرکے قائد اعظم بہت کچھ حاصل کرچکے تھے اور آل انڈیا ریڈیو سے اعلان بھی کرچکے تھے کہ جو کچھ میں زیادہ سے زیادہ لیکر دے سکتا تھا وہ میں نے لیکر دیدیا اور اب ہم ہندوستان میں ہی شامل رہیں گے اورواقعی انہوں نے جو کچھ لیکر دیا تھا مثلاً پارلیمنٹ میں مسلمانوں تینتیس فی صد نشتیں وغیرہ وہ انکی بڑی کامیابی تھی اور وہ ایسا ہی تھا۔مگر نہرو نے صدر منتخب ہوتے ہی پہلی پریس کانفرنس میں اعلان کردیا کہ “ کیسا معاہدہ اور کائے کا معاہدہ یہ تو ہماری آنے والی پارلیمنٹ فیصلہ کرے گی کہ ہمارا دستور کیسا ہوگا؟ یہ بالکل ایسا ہی تھا جیسا کسی کے سرپر چھت گرپڑے؟ اب صورت حال یہ تھی کے بنگال بہار اور پنجاب میں بری طرح فسادات پھوٹ پڑے تھے؟ پاکستانی فوج باہر تھی وہ کشت خون ہوا کہ اللہ پناہ دے۔ بے حساب مسلمان شہید ہوئے خواتین کے ساتھ جو کچھ ہوا ناقابلِ تحریر ہے ہندو بھی مارے گئے تبادلے آبادی ہوا جوکہ تقسیم کی کسی بھی شق میں شامل نہ تھا؟یہ وہ غلطی تھی کہ مسلم لیگ پہلی دفعہ دباؤ کا شکار ہوئی تھی اور اس کانتیجہ یہ ہوا جس کو قوم کو بھگتنا پڑا؟ اس کے بعد پاکستان کشمیر میں کود پڑا بغیر یہ سوچے کہ پاکستانی فوج کا کمانڈر انچیف انڈیا کے کمانڈر انچیف کے ماتحت ہے؟ اس نے پاکستانی وزیر اعظم اور وزیر دفاع کو ٹکا سا جواب دیدیا اوران کا حکم ماننے سے انکار کردیا؟انڈیا سلامتی کونسل میں چلا گیا اور اس نے جنگ بندی کا ریزولیشن پاس کر دیا؟ جسے لیاقت خان نے دباؤ کا شکار ہوکر تسلیم کرلیاحالانکہ اس سے پہلے وہ کہہ رہے تھے کہ “یہ کشمیریوں کی جنگ آزادی ہے ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں اور بقول ان کے افغان اپنے بھائیوں کی مدد کر رہے ہیں؟ تو پھر آپ کا کیا اس سے واسطہ تھا آپ کیوں بیچ میں آئے؟ یہ وہ پہلی کمزوری تھی جس کے نتائج سامنے آئے۔اس کے بعد کمزوریوں کا سلسلہ کبھی تھما نہیں جوکہ آج تک جاری ہے اور نتائج پاکستان کے عوام بھگت رہے ہیں اور خدا جانے وہ کب تک بھگتیں گے؟

SHARE

LEAVE A REPLY