زادِ سفر۔۔دوسری قسط،مریم عالم

0
499

اس نے ریشم کی ما نند نرم ,لمبے اور سیاہ بالوں کی پون ٹیل کی وہ ضدی تھی لیکن بہت پر وقار شخصیت اور پختہ کردار کی مالک تھی.اس کے پیھے اس کے باپ کا بہت بڑا ہاتھ تھا.بلیو جینز شڑٹ میں ملبوس لمبی صراحی نما گردن کے گرد ہلکے گلابی اور نیلے رنگ کاسٹالرلپیٹے کندھے پر لیدر کا بیگ لئے وہ جلال صاحب کے پاس آ کھڑی ہوئی وہ یو نیورسٹی جانے کے لئے تیار تھی. آج یونیورسٹی میں اس کا پہلا دن تھا اس کا داخلہ اسلامک یونیورسٹی میں ہوا تھا وہ یونیورسٹی میں کسی کو نہیں جانتی تھی وہ دوستی کرنے کی قائل نہیں تھی اسے آنا بی اور جلال صاحب کےہوتے ہوئے کسی دوست کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی خود پسند ضرور تھی لیکن مغرور نہیں تھی. اسنے بچپن سے جوانی میں قدم رکھنے تک اپنی ہر خواہش کی تکمیل پائی تھی.وہ اپنے باپ کی مرضی کے مطابق بزنس پڑھ رہی تھی حلال صاحب کاٹیکسٹائل کا بہت بڑا بزنس تھا جسے ان کی بیٹی کو ہی سمنبھالنا تھا.کچھ دن اسی طرح گزر گئےجلال صاحب اس سے پوچھتے کہ میری گڑیا کے یونیورسٹی میں کسی سے دوستی ہ

ہوئی وہ نہی میں سر ہلاتی وہ چاہتے تھے کہ وہ لوگوں سے گھلے ملے. وہ شام کا کھانا کھانے کے لیے بیٹھے انوشے تم بڑی ہو گئی ہو سر پر دوپٹہ اوڑھ لیا کرو ڈھنگ کا لباس زیب تن کیا کرو کل کو تم نے اگلے گھر بھی جانا ہے آنا بی نے اسے مخاطب کیا. آپ پھر سے شروع ہو گئی ہیں وہ اگلے گھر کا سن کر ہمیشہ چڑ جاتی میں اپنے بابا کو چھوڑ کر کبھی نہیں جاؤ ں گی جلال صاحب ان دونوں کی نونک جھونک سے محظوظ ہو رہے تھے. باپکو ہنستا دیکھ کر وہ اور غصے میں آگئی بابا آپ آنا بی کو کبھی منع نہیں کر تے. جلال صاحب بیٹی کی طرفداری میں بولے بلکل میری بیٹی میرے پاس ہی رہے گی تم باپ بیٹی کا کچھ میں ہو سکتا.انا بی ناراض ہوئیں .وہ کلاس لینے کے بعد بزنس بلاک سےباہر نکل رہی تھی اچانک اک نسوانی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائیexcuse me وہ ٹھٹھکی لیکن نہ ہی رکی اور نہ ہی مڑی وہ اپنے روئیے اور انداز کی وجہ سے اپنے بلاک میں مغرور اور اکڑو جیسےالقابات سے نوازی کا چکی تھی مگر اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا اسکے پاس غرور کرنے کے لیے سب کچھ تھا جس کی کسی بھی انسان کو خواہش ہوتی ہےخوبصورتی, دولت, اورذہانت
وہ بھاگتی ہوئی انوشے کے سامنے کھڑی ہو گئی وہ یونیورسٹی میں نئی تھی اسے یوں اپنا راستہ روکنا اچھا نہیں لگا تھاوہ کچھ بولی تو نہیں مگر اس کی پڑی سلوٹوں اوراسکی تنی ہوئی لمبی اور پتلی ناک سے اس کے غصے کا اندازہ لگایا جاسکتا تھا.وہ اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے بولی میرا نام سویرا ہے اور آپ وہ حیران ہو کر اسے دیکھتی رہی وہ سنجیدہ طعبیت کی مالک تھی. کچھ دیر کے بعد اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا

I am Anushay jalal

اور بولی .گزرتے دنوں کے ساتھ اس کی بات چیت دوستی میں تبدیل ہو گئ
سویرا ایک زندگی سے بھرپور لڑکی تھی وہ ایک عزت دار اور متوسط گھرانے سے تعلق رکھتی تھی .اسکے والد ایک گورنمنٹ ادارے میں ملازم تھے وہ دو بہنیں اور ایک بھائی تھے وہ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی.دونوں کی طعبیت میں اختلاف ہونے کے باوجود دوستی گہری ہوتی چلی گئی. سویرا انوشے کے گھر آنے جانے لگی.جلال صاحب اس بات سے خوش تھے کہ وہ لوگوں مں گلنے ملنے لگی ہے.
اس کا پہلا سمیسٹر اختتام کو پہنچنے والا تھا.وہ سویرا کے ساتھ باقاعدہمشترکہ مطالعہ کرنے لگی.انوشے بہت زہیبن تھی.امتحان شروع ہو گئے. آج ان کا پہلا پیپر تھا.کیسا ہوا پیپر سعد اچانک ان کے سامنے آگیا. انوشے نے صرف مسکرانے پر ہی اکتفا کیا.وہ ان کا کلاس فیلو تھا وہ انو شے کو پسند کرتا تھا لیکن انوشے کی ریزرو نیچر کیوجہ سے بتانے کا موقع نہیں ملا.انوشے میرے ساتھ مارکیٹ چلو مھجے ثانیہ(سورا کی چھوٹی بہن ہے) کے لیے کچھ کتابیں لینی ہیں.
نہیں میں نہیں جا رہی بہت گرمی ہے ویسے بھی میری گاڑی آنے والی ہے انوشے نے جواب دیا. تو کال کردو کہ نہ لینے آئیں.تمہارے مشورے کا بہت شکریہ سویرا کے کہنے پر وہ بولی. پھر اک لمہ خامو شی کے بعداس نے اپنے موبائل سے جلال صاحب کو فون کیا بابا ڈرائیور انکل سے کہہ دیں آج لینے نہ آئیں مجھے سویرا کے ساتھ مارکیٹ جانا ہے .واپسی پر میں اس کے ساتھ آجاؤں گی اور سویرا کی جانب مڑی جو اسے منہ کھولے حیرت انگیز اندز سےدیکھ رہی تھی چلو کیا یاد کرو گی جس سخی سے پالا پڑا تھا. اور بڑے شاہان انداز سے بولی. جی جی آپ اور کی سخاوت پر کوئی مر ہی نہ مٹے اس بار سویرا بولی.ان دونوں نےمارکیٹ جانے کے لئے رکشہ لیا انوشے نے جب سے ہوش سنبھالا تھا اس کا رکشہ میں پہلا سفر تھا. مارکیٹ سے بکس لینے کے بعد وہ انوشے کے گھر کی طرف روانہ ہوئیں. انا بی کھانا لگوا دیں اس سو ہرا کی بچی نے بہت تھکا دیا ہے. انوشے کی آواز سن کر آنا بی نے جواب دیا میں ہاتھ دھو لو کھانا تیار ہے.کھانے کے بعد اس نے سورس کو ڈرائیور سے کہہ کر گھر ڈراپ کروا دیاارو خود سونے کے لئے چلی گئی. اس لڑکی کو کتنا سمجھایا ہے کہ کھانے کے فورا بعد نہ سو کسی کرو مجال ہے سن لے بات آنا بی بڑبڑائیں.
حلال صاحب آفس سے آئے تو وہ گہری نیند سو رہی تھی کل یونیورسٹی سے آف تھا.اس لئے اسے کسی نے اٹھایا نہیں. اس کے پہلے سمیسٹر کا اختتام ہو چکا تھا.وہ اپنے رڑلٹ کو لے کر کبھی پریشان نہیں ہوئی تھی. انوشے لسٹ لگی ءے چلو نا سویرا بھاگتی ہوئی اس کے پاس آ ئی تم نے اپنا رڑلٹ نہیں دیکھنا کیا.تم جا ؤ مجھ سے نہیں دھکے کھائے جاتے ویسے بھی میں جانتی ہوں کہ میں سب سے ٹاپ پر ہوں گی سب طالب علم ایک دوسرے کو دھکے دے کر اپنا رڑلٹ دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔۔جاری

SHARE

LEAVE A REPLY