گدگدی کا دھرم اور آن لائن اللہ میاں؛جیا شاہ،آسٹریلیا

0
933

“آج لفٹ سے نہیں جانا،سیڑھیاں استعمال کیا کرو”ہر روز صبح مجھے تاکید کرتے 79سالہ دھان پان سے انکل اسٹیون اپارٹمنٹس کی راہداریوں میں بنی کھڑکیوں کے آس پاس ان میں بستے رنگ برنگے پرندوں سے ہیلو ہائے کرتے نہار منہ موجود ہوتے ہیں۔اپنائیت سے بھرپور کی گئ تاکید پر عمل تو نہیں ہوسکا مگر مجھے اپنی تمام تر نالائقیوں پر مکمل بھروسہ ہے اور ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب میں انکل اسٹیون کی بات پر عمل کرکے تاریخ کے سنہری پنوں میں اپنے نام کا اندراج کرپائونگی۔کوئی تین چار دن انکل اسٹیون نظر نا آئے تو پریشانی سی لاحق ہوئی، اپنے گھر سے 15 قدم کی مسافت پر واقع انکل کے فلیٹ پر کچھ دیر دستک دیتے رہنے کے باوجود دروازہ نا کھلا تو تشویش میں اضافہ ہوا۔بہت بار انہیں پارکنگ میں ایک انڈین خاتون سے دعا سلام کرتے دیکھ چکی تھی سو خیال آیا کہ انہی سے پتا کیا جائے۔تو برابر میں رہتی ان خاتون کے دروازے پر دستک دی۔کچھ دیر بعد دروازہ انہی خاتون نے کھولا۔ان کا نام دیویا ہے۔ اندر کے مناظر بتارہے تھے کہ گھر میں اس وقت کافی مہمان موجود ہیں سو ان کا وقت ضایع کئے بغیر ان سے انکل کا پوچھا تو دیویا نے بتایا انکل آنٹی گھر پر ہی موجود ہیں۔انکل کی طبیعت ناساز ہے جبکہ آنٹی کی قوت سماعت برائے نام ہے اس لئے شاید دروازہ نہی کھولا۔خیر دو تین منٹ کی رسمی سی بات چیت کے بعد دیویا نے قدرے سہمے سے انداز میں کہا کہ اگر آپ برا نا منائیں تو ایک بات کہوں؟میں نے کہا جی ضرور کہیں،تو دیویا یوں گویا ہوئیں کہ “آج 5 بجے میں نے پوجا رکھی ہے اگر آپ مناسب سمجھیں تو آپ ضرور آئیے گا”جواب دینے سے پہلے میں نے ان سے یہ کہا کہ آپ پہلے مجھے”اگر آپ برا نا منائیں”کا مطلب سمجھائیں۔تو دیویا نے کہا ہماری پوجا میں آنے سے آپ کا دھرم بھرشٹ بھی ہوسکتا ہے،اس لئے۔

دیویا کی معصومانہ فکر انگیزی جان کر مجھے بے اختیار ہنسی آگئی اور جواب دیا کہ “دیویا جی فکر ناٹ آپ کی پوجا میں شرکت کرنے سے میرا دھرم بھرشٹ نہں ہوگا،اور جو اگر ایسا ہوا بھی تو اللہ جی آئن لائن ہوتے ہئں ہروقت،فورا مرمت کردیں گے”۔ اس خلوص بھری دعوت کا جواب ہاں میں دے کر میں واپس آگئی اور ٹھیک 5 بجے دوبارہ ان کے گھر موجود تھی۔ ان کے گھر پہلے سے چند مہمان موجود تھے۔پوجا اور بھجن کے بعد ایک تھال میں موجود تیل،لال رنگ سب کے بالوں میں لگایا گیا اور ساتھ ہی لڈو کا پرساد بھی دیا گیا۔پوجا کے ختم ہوتے ہی سبھی مہمان فورا اجازت لے کر چلے گئے۔میں نے بھی شکریہ ادا کرکے اجازت لی تو اسی اثناء میں ایک سات آٹھ سال کی بچی بھاگتی دوڑتی آئی،پہلے دیویا کے ماتھے پر بندی لگائی اور پھر مجھے بھی بندی لگاکر بھاگ گئی۔اور پھر اگلے ہی لمحے ایک خاتون کمرے سے نمودار ہوئیں اور آکر مجھ سے معذرت کی کہ بچی ہے،اسے نہں پتا کہ آپ لوگ بندی نہیں لگاتے،”معذرت مت کریں کوئی بات نہیں،اور ہم لوگ بھی تہواروں پر بندی تلک لگایا کرتے ہیں”میرا جواب سن جیسے وہ خاتون کافی حیران ہوئیں اور جواب دیا کہ ہم نے سن رکھا ہے آپ کے بھگوان کا نام ماتھے پر لکھا ہوتا ہے اس لئے آپ لوگ بندی نہیں لگاتے۔اب حیران ہونے بلکہ غش کھانے کی باری میری تھی کہ یہ کس نے کہہ دیا ان کو۔خیر ان کے تاثرات اور دئے گئے جوابات سے یہ حقیقت ایک بار پھر بھرپور طریقے سے میرے سامنے آموجود تھی کہ جب ہم بحیثیت معاشرہ منفی بھیڑ چال کا شکار ہوتے ہیں تو ہمارے ساتھ وہ سب بھی جڑجاتا ہے جس کا سرے سے وجود ہی نہں ہوتا۔خیر شکریہ ادا کرکے ایک عجیب سا افسوس لیے واپس آگئی۔

ایک دن چھوڑ کر اگلے دن صبح سویرے انکل اسٹیون کو لفٹ میں دیکھ کر حیران رہ گئی۔دعا سلام خیر خیریت پوچھتے ہم لوگ پارکنگ تک آگئے تو سامنے دیویا ہماری طرف آتی دکھائی دیں۔بلآخر میں نے پوچھ ہی لیا کہ “سر آج آپ لفٹ میں کیسے؟تو بے ساختہ ہنس کر بولے تہمارا اللہ آن لائن ہے نا ہروقت!اس سے پوچھ لو۔مطلب کہ دیویا جی انکل اسٹیون کو ہماری پہلی ملاقات کی روداد سناچکی تھیں۔غیر متوقع جواب سن کر میں بھی بے ساختہ ہنس پڑی۔آج پھر دیویا کے ہاتھ میں وہی پرساد والے لڈو تھے۔جنہیں دیکھ کر انکل اسٹیون “پرساد کے لڈو” کہتے بے اختیار ہوکر لپکے،اور جس انداز میں انہوں نے یہ الفاظ کہے وہ سن کر میں قہقہوں میں لوٹ پوٹ۔وہ کیا ہے کہ گوروں کے لئے ہمارے کئی دیسی الفاظ کی ادائگی درست انداز میں کرنا کافی مشکل رہتا ہے۔اپنی بھرپور کوشش کے باوجود یا تو یہ لوگ ایسے کہہ جاتے ہیں کہ سر پر سے اڑ جاتا ہے اور یاپھر ایسا پرلطف بنادیتے ہئں ان الفاظوں کو اپنی انگریز ادائگی سے کہ آپ سن کر لوٹ پوٹ ہوجائیں۔انکل اسٹیون” پرساد کے لڈو” جس طرح ادا کرتے ہیں،میں یہاں لکھ نہیں سکتی کیوں کہ ایسا کرنے کے لئے مجھے اخلاقیات کی باریک ترین سرحدیں عبور کرنا پڑیں گی اور مجھے یہ بھی ڈر ہے کہ میرے پڑھنے والوں کا دھرم ہی نا بھرشٹ ہوجائے۔اب یہ ہوتا ہے کہ ہر روز انکل دیویا سے پرساد کے لڈو لے کر اپنے دن کا آغاز میٹھے سے کرتے ہئں۔جبکہ میں بےساختہ ہنسی سے۔حالانکہ کہ میری بےساختہ ہنسی انکل ہی کے ادا کئے گئے الفاظ کی وجہ سےہوتی ہے پر وہ بنا کچھ جانے میرے ساتھ بے ساختہ قہقہے لگاتے ہیں،اور پرساد کے لڈووں کی پیداوار بلا ناغہ ہنسی کی وجہ سے انکل ایک سخت قسم کی مستقل غلط فہمی میں مبتلا ہوچکے ہیں کہ میں ایک ہنس مکھ انسان ہوں سو انہوں نے میرا نام ٹکلنگ رکھ دیا ہے
جبکہ دیویا بھی مجھے اب گدگدی کہہ کر بلاتی ہیں ۔
اگلے دن شام کو واپسی پر دیکھا کہ مسٹر & مسز اسٹیون کے گھر کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور سامنے ہی انکل براجمان نظر آئے۔گذرتے ہوئے انہیں ہیلو کیا اور ان کی طبیعت پوچھی کہ اب کیسی ہے اور ہوا کیا تھا ؟ تو جناب پتا چلا کہ انکل کا پیٹ خراب رہا پچھلے کئی دن،اس سے آگے تو انہوں نے کچھ نہیں کہا مگر میں جان چکی تھی کہ جس غذائی دہشت گردی کا شکار انکل اسٹیون ہوئے اس کی وجہ میری بنائی ہوئی نہاری ہے۔

دراصل جب پتا ہو کہ شام کو واپسی ہوگی تو میں اپنا لنچ ساتھ لے کر جاتی ہوں۔اور میرے ہاتھ کے بنے کھانے ذائقے میں قابل گذارا سے بھی کم درجے کے ہوتے ہیں مگر بھلا ہو ہمارے دیسی مصالحاجات کی اشتہا انگیز خوشبوئوں کا کہ انکل اسٹیون ایک اور دھوکے میں بھی مبتلا ہیں کہ میں بہت اچھا کھانا بناتی ہوں۔سو ایک دن پارکنگ میں ہوئی ملاقات کے دوران ان کو میرے لنچ باکس میں موجود نہاری کی خوشبو آئی تو پوچھ بیٹھے کہ آج کھانے میں کیا لے کر جارہی ہو؟خوشبو بہت اچھی آرہی ہے۔چونکہ مجھے دیر ہورہی تھی سو انہیں نہاری کا نام بتایا اور بھاگم بھاگ وعدہ کیا کہ آج شام آپ کو بھی بھیجونگی۔آپ کو ضرور پسند آئے گی۔

اور اس دن کے بعد انکل 5 دن تک نہیں دکھے اور چھٹے دن لفٹ میں نظر آئے۔چٹ پٹی نہاری نے ان کا کیا حال کیا ؟اورکتنے حسین لمحے انہیں غسل خانہ جات میں رہنا پڑا؟ بار بار رہنا پڑا؟ یہ انہوں نے نہیں بتایا مگر ان کے گول پیٹ سے بار بار ڈھلکتی پینٹ احوال درد اعلانیہ بتارہی تھی۔اور میں انجانے میں کی گئی غذائی تخریب کاری کو لے کر سخت شرمندگی محسوس کررہی تھی۔ ایک طرف میں نے آئندہ ایسی کوئی بھی حرکت کرنے سے توبہ کرلی ہے جبکہ اس دن کے بعد انکل اسٹیون نے مجال ہے جو کبھی پلٹ کر پوچھا ہو کہ لنچ میں کیا لے کر جارہی ہو۔۔بھلے انسان انکل اسٹیون خود پر گذری تکلیف کو بھول کر بنا اففف کئے مجھے واپس پلٹتے وقت تاکید کی کہ دیویا کی طرف ضرور چکر لگائوں کل۔اس کے 3 مرحوم بیٹوں میں سے ایک کی برسی ہے ۔3 مرحوم بیٹے سن کر ایک عجیب ہول سا اترا میرے وجود پر اور جاکر کہیں سانس میں اٹک گیا۔مجھ سے کمزور انسان کے لئے ایسی خبر ہلا کر وقتی ہلاک کردینے کے لئے کافی تھی۔کوشش کے باوجود اس دن دیویا سے ملنے کی ہمت نہیں کرپائی۔میں جانتی تھی کہ برسی کے دن بچھڑنے والوں کا غم روزہ اول کی طرح تازہ ہوجاتا ہے اور شاید میں کم حوصلہ دیویا کی ڈھارس بندھانے کے بجائے اس کو مزید مبتلائے غم نا کردوں۔اگلے دو دن دیویا جی اور انکل اسٹیون معمول کے مطابق پارکنگ اور لفٹ میں نظر آئے۔ہم تینوں کی قہقہہ انگیز ملاقات ہوئی مگر میں ذکر تک کرنے کی ہمت نا کرپائی۔خیر تیسرے دن میں دیویا کے گھر موجود تھی۔ادرک والی چائے بناتے ہوئے دیویا بتارہی تھیں کہ وہ انڈیا کے علاقے جے پور کے نواہی گائوں سے ہیں۔ان کی شادی ہونے کے بعد وہ گائوں میں اپنے سسرال کے ساتھ کچے گھر میں رہائش پذیر رہیں کئی سالوں تک۔ان کے 4 بچے تھے۔3 بیٹے ایک بیٹی۔ایک دن صبح وہ نیند سے بیدار ہوئیں تو دیکھا ان کا سب سے چھوٹا بیٹا نیلا سیاہ بےجان پڑا ہے۔ٹانگ پر دو جگہ سانپ کے کاٹنے کے واضح نشانات موجود تھے۔چونکہ رات اندھیرے میں سانپ نے کاٹا اس لئے کسی کو پتا ہی نہیں چلا۔دیویا کہتی ہے وہ وقت بہت مشکل تھا پر خود کو تسلی دیا کرتی تھی کہ جو بھگوان کی مرضی۔چونکہ ہندو مذہب میں سانپ کو دیوتا مانا جاتا ہے اس لئے خاندان اور گائوں کے لوگ اسے کہا کرتے تھے تم خوشنصیب ہو،تمہارے پتر کو ناگ دیوتا لے گیا۔ایک بیٹے کی جدائی کے زخم ابھی ہرے ہی تھے کہ 3 مہینے 12 دن بعد ایک صبح میرا منجھلا بیٹا اسی طرح مردہ حالت میں پایا گیا۔رات اندھیرے میں کب اس کو سانپ نے کاٹا؟کب اس نے تڑپ تڑپ کر جان دی؟کسی کو کچھ پتا نہیں چلا۔اس بار پھر خاندان اور آس پڑوس کے دلاسے کہ تم قسمت والی ہو،تمہارے بیٹے کو ناگ دیوتا لے گیا۔پر اس بار یہ غم بھاری پڑرہا تھا دیویا پر۔اسے صبر نہیں آرہا تھا۔ایک بغاوت تھی جو کہیں اندر جاگنے کو انگڑائیاں لے رہی تھی کہ یہ کیسا بھگوان ہے؟جو معصوم بچے کو ڈس کر اس کی جان لے رہا ہے تڑپا تڑپا کر؟وہ ذہنی طور کہاں تھی اسے خود بھی نہیں سمجھ آرہا تھا۔ اس نے 12 جماعت پڑھ رکھی تھی سو ذہن میں خیال آیا کہ بجائے پاگل ہونے کے بہتر ہے کوئی نوکری کروں،مصروف بھی ہوجائونگی اور کچھ پیسے ہاتھ آئیں گے تو اپنے کمرے کے لئے چارپائیاں لے لے گی۔بحرحال جب دوسرے بیٹے کا ماتم غم کچھ کم ہوا تو اس نے اپنے شوہر سے اجازت لی اور نوکری کرلی۔چائے بن چکی تھی اور اب میں اور دیویا ٹیرس میں بیٹھے تھے۔اس سارے عرصے کے دوران دیویا اپنی داستان سناتی جارہی اور میں چپ چاپ سنے جارہی تھی۔چائے کی چسکیاں بھرتے دیویا ایک بار پھر مجھے سن 1990 میں لے گئی۔

میرے دوسرے بیٹے کی موت کے ٹھیک 5 مہینے اور 7 دن کے بعد بھری دوپہر میں عین اس کی آنکھوں کے سامنے مٹی کے بنے کمرے کے صحن میں موجود ایک گڑھے سے ایک سیاہ لمبا سانپ نکلا ۔چارپائی پر سوئے اس کے بیٹے کو کاٹا اور واپس اسی گڑھے میں غائب ہوگیا۔گود میں بیٹھی بیٹی کو پھنک کر دیویا بجلی کی سی تیزی سے پہنچی تھی چارپائی تک مگر شاید بدقسمتی کے وار کی رفتار دیویا سے کہیں زیادہ تھی۔چونکہ دن کا وقت تھا،اور دیویا کے حواس کام کرہے تھے۔اس نے قریب رسوئی سے چھری اٹھائی۔سانپ کے کاٹے ہوئے نشان پرضرب کے کٹ مارے اور زخم سے اوپر ہٹ کر کپڑے سے مضبوط باندھ دیا تاکہ زہرنا پھیلے ۔

یہ سب کرکے ڈسپنسری پہنچ کر بھی دیویا اپنے تیسرے بیٹے کو بچانہیں پائی۔تیرے بیٹے کو کھودینے کے بعد اب کوئی تسلی، کوئی دلاسہ کام نہیں کررہا تھا۔سانپ کی آماجگاہ وہ دیکھ چکی تھی ۔کمرہ بدل دیا گیا تھا مگر دیویا دہائیاں دے رہی تھی کہ سانپ کو مارا جائے یا کم از کم اس سوروخ کو مضبوطی سے بند کردیا جائے۔مگرسخت مذہبی خاندان میں کوئی بھی اس کی فریاد پر کان نہیں دھر رہا تھا کیونکہ سانپ دیوتا کو مارنے یا اس کا راستہ بند کرنا گناہ تصور کیا جاتا ہے اس کے خاندان میں۔اور اگر کوئی ایسا کر گزرے تو اس کو ساتوں جنم شڑاپ(بدعا ) کی زندگی ملتی ہے۔پے درپے اولاد کی حادثاتی اموات نے جہاں دیویا کو توڑ کر زخموں سے چور چور کردیا تھا وہیں دوسری طرف دیویا کی سوچ میں سوالوں کی صورت شعور کے نئے در وا کردیے تھے۔جب کسی نے بھی مذہب سے محبت و احترام کی وجہ سے دکھیاری ماں کی دہائی پر کان نا دھرے تو ایک دن دیویا اپنے کام سے واپسی پر تیزاب خرید کر لے آئی اور موقع ملتے ہی تیزاب اس گڑھے میں انڈیل دیا۔بقول دیویا کے تیزاب گڑھے میں ڈالتے ہی کچھ دیر بعد گڑھے میں سے ہلکا سا دھواں اور گندی بدبو آتی محسوس ہوئی جو کچھ گھنٹوں بعد ناقابل برداشت سڑاند میں تبدیل ہوگئی اور کئی دنوں تک وہ بدبوآتی رہی۔جیسے ہی یہ سب ماجرا اس کی ساس نے دیکھا تو وہ دہائیاں دینا شروع ہوگئی۔خاندان اور گائوں والوں کی ایک ہی رائے تھی کہ ناگ دیوتا کو تیزاب سے جلاکر پاپ کیا گیا ہے۔جو جو اس پاپ میں شریک ہے اور جو جو اس پاپ پر خاموش رہا ان کے سات جنم شڑاپ زدہ ہونگے۔متفقہ طور پر فیصلہ گائوں میں موجود مندر کے سادھو پر چھوڑا گیا۔اور جناب سادھو جی نے فرمایا کہ اگر ہم سب کو ناگ دیوتا کے ساتھ ہوئے پاپ کا ازالہ کرنا ہے تو دیویا کے اوپر ناگ دیوتا چھوڑنا ہوگا۔اب ناگ دیوتا دیویا کو ڈسے گا یا ماں کی مجبور محبت سمجھ کر چھوڑ دے گا وہ دیویا کی قسمت۔دیویا کے ماں باپ،سسرال،عزیز رشتے دار یہاں تک کہ اس کے شوہر کوبھی اس فیصلے پر کوئی اعتراض نا تھا۔”بس یہی وہ لمحہ تھا جومیری زندگی بدل دینے کا کارن بنا”یہ کہتے ہوئے دیویا اپنے ماضی میں اس قدر کھوچکی تھی کہ کب اس کی چائے ٹھنڈی ہوکر پانی بن گئی اسے احساس تک نا ہوا۔جب اسے کئے گئے فیصلے کا پتا چلا تو اس نے چپ چاپ 17 ماہ کی بیٹی اٹھائی اور بمبئی چلی آئی۔وہاں پر اس کی دور پرے کی رشتے دار کم سہیلی زیادہ کا گھر اس کی جائے پناہ گاہ تھی۔اسی کی مدد سے وہ آسٹریلیا آنے میں کامیاب ہوئی۔یہاں آکر چھوٹی بچی کے ساتھ دیویا نے کیا کیا مشقتیں کیں،وہ ایک الگ تفصیلی داستان ہے۔اب دیویا آسٹریلین شہری ہے۔اپنی بیٹی، داماد اور اس کے بچوں کے ساتھ پرسکون زندگی گزار رہی ہے۔دیویا کہتی ہے بھگوان کون ہے؟اور کیسا ہے؟ یہ سب اسے یہاں آکر پتا چلا،اصل بھگوان کی پہچان اسے یہاں آکر ہوئی۔دیویا پوجا بھی کرتی ہے،باقاعدہ مندر جاتی ہے،اور ساتھ ہی گائے کا گوشت بھی کھاتی ہے۔اس کا ماننا ہے کہ بھگوان نے یہ سب چرند پرند یم انسانوں کے واسطے بنائے ہیں۔اور اگر کوئی بھی حشرات العرض انسانی جان کے لئے خطرہ ہے تو اسے ماردینے سے بھگوان ناراض نہیں ہوتے۔دیویا کی بھرپور داستان حیات سن کر میں گھر لوٹی تو گھنٹوں اپنے آپ کو دیویا کے گائوں میں اس کے ساتھ پایا ۔کئی دیر دیویا کی اٹھائی گئی مشقتوں اور صعوبتوں کو محسوس کرتی رہی۔اور اس سارے جذباتی اثرات سے نکل آنے کے بعد اب ہر روز جب بھی دیویا جی کو دیکھتی ہوں تو ایسے لگتا ہے کہ بہادری کی شعائیں ان کے وجود سے نکل کر میری روح میں جذب ہورہی ہیں۔بات شروع ہوئی تھی انکل اسٹیون سے،سو ان کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے دنیا کے خوش باش ترین انسان وہی ہیں۔

دو بچے جو کہ سڈنی میں رہائش پذیر ہیں اور ہر چند ماہ بعد آکر مل جاتے ہیں ۔آنٹی قوت سماعت کھوچکی ہیں۔دیکھا جائے تو یہ زندگی کسی طور آسان نہیں گنی جاسکتی مگر وہ خوش اور مطمئن یروقت۔
ہم 3 لوگ دنیا کے الگ الگ کونوں سے تعلق رکھتے،الگ الگ مذاہب کے ماننے والے،پر ہر صبح ایسے ملتے ہیں جیسے ہم سالوں پرانے دوست ہیں اور ایک ہی ہیں۔ہر صبح انکل اسٹیون اور دیویا جی کو دیکھ کر میرا یہ احساس کہ “اللہ میاں ہروقت آن لائن ہے اوربغیر کسی مذہبی اور نسلی تفریق کے اللہ میاں سب کے لئے آن لائن ہے” مزید پختہ ہوجاتا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY