سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ حج کو فرقہ وارانہ یا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے

0
445

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ حج کو فرقہ وارانہ یا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔انھوں نے مسلمانوں پر زوردیا ہے کہ وہ انتہا پسندی کے خلاف جنگ کے لیے متحد ہوجائیں۔

وہ منگل کے روز مکہ مکرمہ کے نزدیک منیٰ میں واقع شاہی دیوان میں مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والی سرکردہ شخصیات کے اعزاز میں تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

شاہ سلمان نے کہا کہ ”انتہا پسندی اسلامی اتحاد کو نقصان پہنچا رہی ہے”۔انھوں نے کہا کہ سعودی مملکت اس عظیم عبادت ( حج) کو سیاسی مقاصد کے حصول یا فرقہ وارانہ تنازعات کے لیے استعمال کرنے کی سختی سے مخالفت کرتی ہے اور اس کو مسترد کرتی ہے۔

انھوں نے دوٹوک انداز میں کہا: ”مذہب میں مبالغہ آرائی اور انتہا پسندی ناپسندیدہ ہیں۔ جب یہ مسلم قوم کے جسم میں داخل ہوجاتے ہیں تو یہ اس کے اتحاد اور مستقبل کو پارہ پارہ کردیتے ہیں اور دنیا کے سامنے اس کے تشخص کو بھی مجروح کرتے ہیں۔انتہا پسندی سے بچاؤ اسی صورت میں ممکن ہے کہ اس کو بے رحمانہ انداز میں جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور مسلمان متحد ہو کر اس وبا کا خاتمہ کریں”۔
واضح رہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان سکیورٹی اور لاجسٹکس سے متعلق امور پر اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے اس سال قریباً چونسٹھ ہزار ایرانی حج نہیں کرسکے ہیں کیونکہ ایران نے از خود ہی سعودی عرب کے ساتھ تنازعے کے بعد اپنے شہریوں کے حج کے لیے جانے پر پابندی عاید کردی تھی۔

ایران نے سعودی حکام سے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ اس کے شہریوں کو حج کے دوران مظاہرے منظم کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے لیکن سعودی حکومت نے ایران کے اس مطالبے پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور اس کو مسترد کردیا تھا۔

80 سالہ شاہ سلمان نے اپنی تقریر میں اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ”سعودی مملکت حج کو سیاسی مقاصد کے لیےاستعمال کرنے کے اقدام کو سختی سے مسترد کرتی ہے”۔انھوں نے کہا کہ ”اللہ کے مہمانوں کی خدمت ہمارے لیے ایک اعزاز ہے”۔

………………..
مسجد الحرام کے امام شیخ صالح بن حُمید نے اسلام کو فلاح اور کامیابی کا راستہ بتاتے ہوئے کہا کہ اسلام ایک اعتدال والا دین ہے، جو مسلمانوں کو اعتدال سے زندگی گزارنے کا درس دیتا ہے۔

مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے شیخ صالح بن حُمید نے مزید کہا کہ مسلم حکمران سن لیں کہ امت سخت حالات سے گزر رہی، جب تک مسلمان مشترکہ طور پر کوشش نہیں کریں گے، مسائل حل نہیں ہوں گئے۔

دنیا بھر کے 200 سے زائد ممالک اور خطوں سے آئے ہوئے 15 لاکھ سے زائد مسلمانوں نے میدان عرفات میں حج کا رکن اعظم یعنی وقوف ادا کیا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کے مفتی اعظم مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل شیخ مسلسل 35 سال سے خطبہ حج دے رہے تھے لیکن رواں برس انہوں نے ناسازی طبع کے باعث خطبہ دینے سے معذرت کی تھی، ان کی جگہ مسجد الحرام کے امام شیخ صالح بن حُمید نے خطبہ دیا۔

صلاح بن حمید کا خطبے میں مزید کہنا تھا کہ دور حاضر کا سب سے بڑا مسئلہ فسلطین کا ہے، مسجد الاقصیٰ ہمارا قبلہ اول تھا، اس کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے، جبکہ شام میں بھی لوگ مشکلات کا شکار ہیں۔

شیخ صالح بن حُمید نے عراق، ارکان (برما) اور یمن کے عوام کے مشکلات کم ہونے کی بھی دعا کی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مسلم حکمرانوں پر بہت زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے، ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کے مسائل حل کریں۔

امام حرم نے حجاج کو بتایا کہ فساد پھیلانے والوں کو فوری ان کے انجام تک پہنچایا جانا چاہیے، ایک انسان کو قتل کرنے والے نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔

اسلام کی عظمت کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ نے مسلمانوں کے لیے دین اسلام منتخب کیا، اس سے سچا کوئی دین نہیں، اسلام وہ مذہب ہے، جس نے لوگوں کو روشن کردیا،اللہ نے جو نعمتیں دی ہیں ان کا حساب قیامت کے دن لیا جائے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اللہ کے نافذ کردہ احکامات پر عمل سے دنیا اور آخرت میں کامیابی ملے گی، اللہ نے مسلمانوں پر یہ ذمہ داری عائد کی ہےکہ وہ زمین پراللہ کا نظام نافذ کریں، مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کی زمین پر نفاذ دین کے لیے کام کریں۔

دنیا کے تمام مسلمانوں کو ہدایت دیتے ہوئے امام حرم نے کہا کہ دنیا کے مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں، آپس میں اتفاق کی ضرورت ہے، تمام لوگوں کے حقوق مساوی ہیں، مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہے، مسلمان اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں۔

قیامت کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا مقررہ وقت پر ختم ہو جائے گی، آخرت ہمیشہ کے لیے ہے، ظلم اور زیادتی کرنے والا قیامت کے دن جوابدہ ہوگا۔

حقوق العباد کے بارے میں انہوں نے کہا کہ والدین کے ساتھ احسان اور نیکی کرنی چاہیے، سب سے زیادہ حقوق قریبی رشتہ داروں کے ہیں، مسلمان بھائی بھائی ہیں ، ایک دوسرے کے دکھ درد کا احساس ہونا چاہیے۔

مسلم اقوام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ میں کوئی بھی کسی کےساتھ ظلم وزیادتی نہ کرے، امت تمام معاملات اپنے ہاتھ میں رکھے، دوسروں کی طرف نہ دیکھے، کیونکہ اسلام لوگوں سے خیرخواہی کا نام ہے، عدل وانصاف اسلام کے سرکا تاج ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمان ایسی کوئی بات نہ کریں جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہو۔

عالمی حالات کے تناظر میں امام حرم کا کہنا تھا کہ امت مسلمہ مختلف مسائل اور تکالیف کا شکار ہے، دہشت گردی کا اسلام اور امت مسلمہ سے کوئی تعلق نہیں۔

مسلم ممالک کے میڈیا اور صحافیوں پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحافی اور میڈیا کے لوگ اسلام کا دفاع کریں جبکہ اس کا حقیقی پیغام باقی دنیا کو پہنچائیں۔

علمائے کرام کے معاشرے میں کردار کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو دہشت گردی سے دور رکھنے کے لیے علما کردار ادا کریں، علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو عدم تشدد کی تعلیم دیں، علماء سخت مزاجی ترک کریں جبکہ خوش اخلاقی اختیار کریں، لوگوں کے قریب ہوں، لوگوں کو اچھائی کی طرف اچھے طریقے سے بلانا علماء کی ذمہ داری ہے۔

باہمی اخوت برقرار رکھنے کیلئے انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو فرقہ واریت سے دور رہنا چاہیے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا چاہیے۔انہوں نے سعودی مفتی اعظم عبدالعزیز کے حوالے سے کہا کہ وہ 35 سال سے مسلسل خطبہ حج دے رہے تھے، ان کی طعبیت ناساز ہے، اللہ ان کو صحت دے۔خطبہ حج سننے کے بعد حجاج نے ظہر و عصر کی نماز ایک ساتھ ادا کی۔

عرفات میں دن بھر قیام اور سورج غروب ہونے کے بعد حجاج کرام کی اگلی منزل مزدلفہ ہوتی ہے. جہاں وہ مغرب اور عشاءکی نمازیں پڑھتے ہیں جبکہ رات بھر قیام کرتے ہیں۔
……………….
امام کعبہ شیخ عبدالرحمان السدیس نے خطبہ حج میں کہا ہے کہ ایمان والوں سچی اور سیدھی بات کرو، اللہ کی دی گئیں نعمتوں کے بارے میں سوال ہوگا۔

مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے امام کعبہ شیخ عبدالرحمان السدیس نے کہا کہ نبیﷺ نے آج کے دن ہی خطبہ فرمایا،اسی دن اللہ نے فرمایا تمہارے لیے دین مکمل ہوگیا۔

سعودی عرب کے مفتی اعظم عبدالعزیز آل سعود الشیخ علالت کے سبب اس سال حج کا خطبہ نہیں دے سکے۔ 35 سال میں پہلا موقع ہے جب مفتی اعظم عبدالعزیز آل سعود الشیخ خطبہ حج نہیں دے سکے۔

خطبہ حج کے بعد حجاج کرام ظہر اور عصرکی قصر نماز اداکریں گے ۔ میدان عرفات میں ہی سورج غروب ہونے تک اللہ تعالیٰ کا ذکر، دعا اور استغفار کیا جائے گا۔ سورج غروب ہونے کے بعد حاجی مزدلفہ روانہ ہوں گے، فجر تک وہیں قیام کریں گے۔

10ذی الحج کو نماز فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک حجاج ذکر الٰہی اور دعا میں مصروف رہیں گے۔ پھرشیطان کو کنکریاں ماریں گے، جس کے بعد قربانی کی جائے گی، مرد اپنا سر منڈوائیں گے اور خواتین تھوڑے سے بال کٹوائیں گی۔

حجاج کرام طواف زیارت کے لیےمکہ جائیں گے۔ منیٰ واپس آکر وہاں11، 12 ذوالحج کی شب قیام کریں گے اورہر دن تینوں جمرات پر شیطانوں کو کنکریاں ماری جائیں گی

………………….
دنیا بھر سے لاکھوں فرزندان توحید آج مناسک حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کریں گے۔حجاج آج منیٰ سے میدان عرفات میں جمع ہیں جہاں مسجد نمرہ میں خطبہ ہو گا جس کے بعد نماز ظہر اور عصر اکھٹی ادا کی جائے گی

نماز عصر اور مغرب کے درمیان وقوف عرفات ہوگا جس میں فرزندان توحید اللہ کے حضور گڑگرا کر دعائیں مانگیں گے۔سورج غروب ہونے سے پہلے تمام عازمین مزدلفہ کی جانب روانہ ہوں گے جہاں نماز مغرب اور عشاءایک ساتھ ادا کی جائے گی اور پھر کنکریاں جمع کرنے کے بعد عازمین کرام رات کھلے آسمان تلے گزاریں گے۔10 ذوالحجہ کو نماز فجر کی ادائیگی کے بعد حجاج کرام منیٰ واپس پہنچیں گے جہاں وہ پہلے دن بڑے شیطان کو کنکریاں ماریں گے۔

رمی جمرات کے بعد حجاج کرام بال منڈوا کر اپنے احرام کھول دیں گے۔حجاج کرام 11 اور 12 ذوالحجہ کو بھی شیطان کو کنکریاں ماریں گے جس کے بعد مکہ مکرمہ کے لئے روانہ ہوں گے۔ 12 ذوالحجہ کو حجاج کرام کے لئے لازم ہے کہ وہ مسجد الحرام پہنچ کر طواف کریں جس کے ساتھ ہی مناسک حج مکمل ہو جائیں گے۔

حج کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مناسک حج کا آغاز ہوگیا، 1.32 ملین عازمین منیٰ پہنچ گئے،عازمین آج منیٰ میں قیام کریں گے اور صبح نماز فجر کے بعد میدان عرفات روانہ ہوجائیں گے، جہاں حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ اور مسجد نمرہ میں خطبہ حج ہوگا۔
دن بھر عرفات میں قیام اور مغرب کی اذان کے بعد حجاج کرام واپس مزدلفہ روانہ ہوجائیں گے، جہاں نماز مغرب اور عشاء ملا کر ادا کی جائے گی، رات بھر مزدلفہ میں کھلے میدان اور پہاڑوں پر قیام کے بعد اللہ کے مہمان 10 ذی الحج کو فجر کی نماز کے بعد منیٰ روانہ ہوں گے، جہاں شیطان کو کنکریاں مارنے، قربانی کرنے اور سر منڈوانے کے بعد واپس مکہ مکرمہ روانگی ہوگی

حجاج کرام بیت اللہ کا طواف اور سعی کریں گے، جسے طواف زیارت کہا جاتا ہے، طواف زیارت کے بعد عازمین واپس منیٰ آئیں گے اور اگلے دن جمرات کے مقام پر دوبارہ شیطان کو کنکریاں ماریں گے

سعودی حکام نے بتایا ہے کہ حج کی ادائیگی کے لیے دنیا بھر سے 1.32 ملین مسلمان زائرین سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اس مرتبہ مسلمانوں کے اس اہم پانچ روزہ فریضے کی ادائیگی کے لیے سکیورٹی کے اضافی اقدامات کیے گئے ہیں تاکہ بھگڈر کے کسی ممکنہ واقعے سے بچا جا سکے۔

گزشتہ برس حج کے دوران مکہ کے قریب بھگدڑ کے نتیجے میں ریاض حکومت کے اعداد وشمار کے مطابق 769 حاجی لقمہ اجل بن گئے تھے۔ آزاد ذرائع نے ان ہلاکتوں کی تعداد دو ہزار سے زائد بتائی تھی۔ گزشتہ برس تقریبا دو ملین مسلمانوں نے حج کیا تھا۔

سعودی عرب میں حج کی مذہبی رسومات کی ادائیگی سے قبل ایران کے مختلف شہروں میں عوامی مظاہرے کیے گئے۔ اِس مرتبہ ایرانی زائرین حج کے لیے سعودی عرب نہیں جا سکے ہیں۔ رواں برس جنوری سے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں اُس وقت کشیدگی بڑھی جب ایک سعودی شیعہ عالم کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ اِس پھانسی کے خلاف ایران میں مشتعل احتجاج کے دوران مظاہرین سعودی سفارت خانے پر حملہ آور بھی ہوئے تھے۔ اُس وقت سے دونوں ملکوں کے سفارتی رابطے منقطع ہیں۔

ایرانی مظاہرین نے احتجاجات میں سعودی عرب اور وہاں کے حکمرانوں کے خلاف نعرے بازی کی۔ ان مظاہروں میں سعودی عرب کے بڑے حلیفوں امریکا اور برطانیہ کے خلاف بھی نعرے لگائے گئے

SHARE

LEAVE A REPLY