اِن دِنوں نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تما م حدیں توڑ تا ہوا دراز ہوتا پاگل پن خود امریکیوں کے لئے بھی دردِ سربن گیاہے،آج امریکی بھی اُس منحوس گھڑی میں کئے گئے اپنے اُس فیصلے کو کوستے دکھا ئی دے رہے ہیں جب امریکیوں کی عقل چرنے چلی گئی تھی اور اُن کی آنکھیں جیسے اندھی ہوگئیں تھی کہ اپنے یہاں ہونے والے پچھلے انتخابات میں امریکیوں نے ڈونلڈٹرمپ جیسے خبطی مزاج اور ایک بدعقل جنونی اور انتہا پسندانہ سوچ کے حامل کُنجرے قصا ئی اور ننگے بھوکے شخص کو اپنا صدر منتخب کیا تھا۔
آج امریکی عدالتوں ، افواج ، میڈیا اور عوام کو ایسی تمام انگنت بُرائیاں ڈونلڈ ٹرمپ میں نظر آرہی ہیں جو سابقہ کسی بھی امریکی صدر میں تمام کی تمام ایک ساتھ نہیں پا ئی جاتی تھیں الغرض یہ کہ امریکی یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ اِنہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا صدر چُن کر اپنی خودکشی کا اپنے ہاتھوں خود ہی بندوبست کر لیا ہے اور اَب وہ دن کوئی زیادہ دور نہیں جب ٹرمپ اپنے انڈسنڈ فیصلوں او ر اقدامات سے نہ صرف امریکا و امریکی عوام بلکہ دنیا بھر کے امن و سکون کو اُلٹ پلٹ کر رکھ دے گاتب امریکیوں اور عالم کو لگ پتہ جا ئے گا کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکیوں اور دنیا کی تباہی و بربادی کے لئے قدرت کا عذاب بن کر نا زل ہواہے اور سُپر طاقت امریکا سمیت دنیا کے تمام خطوں میں اپنی انتہاپسنددانہ سوچ و فکر سے تباہی پھیلانے والے ایٹم بم سے بھی کہیں زیادہ تباہی مچا رہاہے۔
تاہم نومنتخب فتنہ پرور امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے مطابق جب پابندی زدہ سات مسلم ممالک کے شہری دہشت گردی میں ملوث نہیں ہیں تو پھر ٹرمپ اور نئی امریکی انتظامیہ نے اِن ممالک پر سفری پابندی کا اعلان کرکے امریکا اور دنیا بھر میں امریکا مخالف آگ کیوں بھڑکائی؟؟ کہ اَب تک ٹرمپ کے ایک اعلان کے بعد سے امریکا سمیت دنیا کے بیشتر مسلم و غیرمسلم ممالک میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف احتجاجی مظاہروں اور لانگ مارچوں کا تھمنامحال ہوگیاہے۔

پچھلے دِنوں سات مسلم ملکوں پر سفری پابندی سے متعلق سان فرانسسکوکی نائنتھ سرکٹ ایلیٹ کورٹ آف ا پیلز میں مقدمے کی ایک گھنٹے کی ہونے والی سماعت کے دوران تین ججز پر مشتمل پینل نے ٹرمپ کی قانونی ٹیم محکمہ اِنصاف کے وکیل سے سخت سوالات کئے،کیا پابندی مذہبی امتیاز کے زمرے میں تو نہیںآتی؟؟پابندی زدہ ممالک کے شہری دہشت گردی میں ملوث ہیں توشواہدپیش کئے جا ئیں؟؟ جواب میں اپنے مخصوص اور انتہا ئی ہٹ دھرمی والے انداز سے وکیل ٹرمپ انتظامیہ نے دلائل دیتے ہوئے وہی مرغی کی ایک ٹانگ والی ضد کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ صدارتی حکم نامے کو معطل کرکے عدالت نے نیشنل سکیورٹی کے معاملات میں مداخلت کی‘‘ جس پر جج نے انتہائی حوصلے اور ہمت کے ساتھ ٹرمپ کے وکیل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر غصے سے دانت پیستے ہوئے پُراعتماد لہجے میں کہا کہ ’’قانون کی اصل تشریح کرنااور حکومتی فیصلوں پر چیک رکھنا عدالت کا ہی کام ہے‘‘ ابھی جج اور کچھ کہتا کہ وکیل ٹرمپ انتظامیہ نے جھٹ پلٹ کر کہا کہ ’’فی الحال پوچھے گئے سوالات سے متعلق کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں‘‘۔ وکیل ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اِس بے مقصد اور ڈھیٹ پن کے جواب کے بعد تُرنت سان فرانسسکوکی نائنتھ سرکٹ ایلیٹ کورٹ آف ا پیلز میں تین ججز پر مشتمل پینل نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے سات ممالک ملکوں کے شہریوں پر سفری پابندی کے اعلان کو کالعدم قرار دے کر وکیل ٹرمپ انتظامیہ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے منہ پر ایک ایسا زوردار طمانچہ ماراکہ اِس کی آواز امریکا سمیت بہت دورتک ساری دنیا میں بھی سُنا ئی دی ہے ۔

جبکہ ہٹ دھرمی کی انتہاکو چھونے والے نومنتخب امریکی صدر ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ نے سات ممالک کے شہریوں پر سفری پابندی کے اقدام سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹنے کو اپنی ضد اور انا کا مسئلہ بنا لیا ہے اور اَب یہ اِس پر قائم رہ کر ہر اُس حد تک جا نے کو بھی تیار ہیں کہ جہاں اِن کی ضد اور اَنا کو تسکین اور تقویت پہنچے او ر اِن کی گردنیں اور قد بلندرہیں سو آج امریکی صدر اور اِس کی انتظامیہ نے امریکا اور دنیا بھر میں اپنے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور تحریکوں اور امریکاو عالمی عدالتوں میں کئے جا نے والے فیصلوں کوبھی خاطر میں نہ لا تے ہوئے سب کو اپنے پیروں تلے کچل کررکھ دیاہے اوراپنے سابقہ فیصلے میں توثیق کرتے ہو ئے پا بندی زدہ سات ممالک سے امریکہ جا نے والے خواہشمندوں سے سوشل میڈیاپاس ورڈ بھی پوچھنے پر غور کرنے کا اعلان کرکے اپنے پچھلے اعلان میں مزید سختی پیداکردی ہے جو نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اِس کی انتہاپسندانہ سوچ کی حامل امریکی انتظامیہ کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے اِس موقع پر اگر نومولود امریکی صدر اور ہٹ دھرمی پر اُتری امریکی انتظامیہ نے مصالحتوں اور افہام وتفہیم سے ایک قدم پیچھے ہٹنے اور کچھ دو اور کچھ لووالی مفاہمتی پالیسی کا مظاہرہ نہ کیا تو پھر نیا امریکی صدر نہ صرف اپنے لئے بلکہ امریکا اور ساری دنیا کے لئے بھی پریشانیوں میں اضافے کا باعث بنا رہے گا اور دنیا نئے مسائل کا شکار ہوکر نئے چیلنجز سے دوچاررہے گی۔

اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کے سات مسلم ممالک کے شہریوں پر سفری پابندی کے انتہاپسندانہ اقدامات کے باعث امریکاسمیت ساری دنیا میں ڈونلڈٹرمپ اور نومنتخب امریکی انتظامیہ کو سخت تنقید وں کا نشانہ بنایا جارہاہے اِس پر خود ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ کو بھی یہ ایک بات اور ایک نقطہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ امریکا کے اندراور باہر امریکیوں اور دنیاکا نومنتخب امریکی صدر اور امریکی انتظامیہ کے خلاف اتنا سخت لہجہ اور رویہ اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک ڈونلڈ ٹرمپ اپنی ضد پر نادم ہوکر اپنے انتہا پسندانہ فیصلے کو اپنے دستخط سے جاری کردہ ایک آرڈر سے واپس نہیں لے لیتا ہے

SHARE

LEAVE A REPLY