شاہ سلمان سے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی ملاقات

0
764

سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے اتوار کے روز الیمامہ محل میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے ملاقات کی ہے۔
شاہ سلمان نے معزز مہمان کو اپنی نئی ذمے داریاں سنبھالنے پر مبارک باد پیش کی ہے اور ان کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے سعودی مملکت کے اپنے پہلے دورے اور شاہ سلمان سے ملاقات پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔
دونوں رہ نماؤں نے ملاقات میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی سطح پر امن اور سلامتی کے حصول کے لیے کوششوں اور مشنوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے کہا ہے کہ سعودی عرب خطے میں استحکام کا ستون ہے۔

وہ اتوار کے روز سعودی دارالحکومت الریاض میں وزیر خارجہ عادل الجبیر کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ”سعودی عرب کا استحکام تبدیلی اور ترقی کی جانب پیش رفت کے لیے ایک نمونہ ہے”۔

انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اقوام متحدہ اور سعودی عرب کے درمیان تعاون کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ انھوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ”اقوام متحدہ رکن ممالک کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد کررہی ہے”۔

مسٹر انتونیو نے یمن میں انسانی امداد کی تقسیم میں رخنہ ڈالنے کی کارروائیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ”ہم تمام یمنی فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ انسانی امداد سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کریں،اگر انھوں نے ایسا کیا تو اس کی مذمت کی جائے گی”۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ”یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد کو ان کی مکمل حمایت حاصل ہے”۔ سیکریٹری جنرل کے اس اظہاریے سے چندے قبل ہی یمن کے حوثی شیعہ باغیوں نے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عالمی ایلچی کی مدت کی تجدید نہ کریں کیونکہ وہ ان کی ایران نواز تحریک کے بارے میں متعصبانہ رویہ رکھتے ہیں۔

نیوز کانفرنس میں سعودی وزیر خارجہ نے یمن کی صورت حال کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم نے حوثیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے ساتھ ستر سے زیادہ سمجھوتے کیے تھے لیکن انھوں نے ان میں سے کسی ایک پر بھی عمل درآمد نہیں کیا ہے”۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب یمن کو انسانی امداد بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔انھوں نے مزید بتایا کہ خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) نے جنگ زدہ یمن کی تعمیر نو کے لیے بھاری رقوم مختص کردی ہیں۔

عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے امریکا کے ساتھ شاندار تعلقات استوار ہیں اور دونوں ممالک یمن ،شام اور لیبیا کے حوالے سے یکساں موقف رکھتے ہیں۔

شامی بحران پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا:”سعودی عرب یہ توقع کرتا ہے کہ اعتدال پسند شامی حزب اختلاف کی بین الاقوامی سطح پر حمایت جاری رکھی جائے گی اور ہم یہ بھی توقع کرتے ہیں کہ جنیوا میں آیندہ شام امن مذاکرات میں تنازعے کے سیاسی حل کی راہ ہموار ہوگی”۔

SHARE

LEAVE A REPLY